المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
294. أَحَادِيثُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ
زمانے کو گالی دینے کی ممانعت سے متعلق احادیث
حدیث نمبر: 3734
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعْاني بمكة، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة أنَّ رسول الله ﷺ قال:"قال الله ﷿: يُؤذيني ابن آدم، يقول: يا خَيْبةَ الدَّهر، فلا يقولنَّ أحدُكم: يا خيبةَ الدَّهر، فإنِّي أنا الدهرُ، أُقلِّبُ ليلَه ونهارَه، فإذا شئتُ قبضتُهما" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3692 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3692 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، وہ کہتا ہے: ہائے زمانے کی ناکامی! پس تم میں سے کوئی شخص ہرگز ”اے زمانے کی ناکامی“ نہ کہے، کیونکہ میں ہی زمانہ (کا خالق) ہوں، میں ہی اس کی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہوں، اور جب چاہوں گا ان دونوں کو سمیٹ لوں گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3734]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3734]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو في "جامع معمر" برقم (20938). وأخرجه أحمد 12/ (7683) عن عبد الرزاق، ومسلم (2246) (3) عن عبد بن حميد، عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد والمتن. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.» [ترقيم الرساله 3734] [ترقيم الشركة 3713] [ترقيم العلميه 3692]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
295. أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمُ
سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا فرمایا
حدیث نمبر: 3735
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا المعتمِر بن سليمان، عن عطاء بن السائب، عن مِقسَم، عن ابن عبَّاس قال: أولُ ما خَلَقَ اللهُ القلمُ، خَلَقَه من هِجاءٍ قبلَ الألف واللام، فتصوَّرَ قلمًا من نور، فقيل له: اجْرِ في اللوح المحفوظ، قال: يا ربِّ، بماذا؟ قال: بما يكون إلى يومِ القيامة، فلما خَلَقَ اللهُ الخلقَ وكَّلَ بالخلق حَفَظةً يَحفَظون عليهم أعمالَهم، فلما قامت القيامةُ عُرِضَت عليهم أعمالُهم، وقيل: ﴿هَذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [الجانية: 29] ، عُرِضَ بالكِتابَين فكانا سَواءً، قال ابن عَبَّاس: ألستم عَرَبًا؟ هل تكون النُّسخةُ إِلَّا من كِتاب؟ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [46 - ومن تفسير سورة الأحقاف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3693 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [46 - ومن تفسير سورة الأحقاف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3693 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا، اسے الف اور لام (کے حروف) سے پہلے ایک خاص ہجاء سے تخلیق فرمایا، پس وہ نور کے قلم کی صورت اختیار کر گیا، پھر اس سے کہا گیا: لوحِ محفوظ میں (لکھنا) شروع کر، اس نے عرض کیا: اے میرے رب! کیا لکھوں؟ فرمایا: جو کچھ قیامت کے دن تک ہونے والا ہے، پس جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو ان پر ایسے نگہبان فرشتے مقرر کیے جو ان کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں، پھر جب قیامت قائم ہوئی اور ان کے اعمال ان کے سامنے پیش کیے گئے، تو کہا گیا: ﴿هَذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ ”یہ ہمارا نوشتہ ہے جو تمہارے خلاف سچ سچ بول رہا ہے، بے شک ہم تمہارے اعمال لکھواتے رہے تھے۔“ [الجاثية: 29] جب دونوں نوشتوں (لوحِ محفوظ اور اعمال ناموں) کا مقابلہ کیا گیا تو وہ بالکل برابر تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم عرب نہیں ہو؟ کیا نقل (نسخہ) اصل کتاب کے بغیر ہو سکتی ہے؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3735]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3735]
تخریج الحدیث: «ضعيف بهذه السياقة، وعلّة إسناده الانقطاع، فإنَّ المعتمر بن سليمان لم يسمعه من عطاء بن السائب، بينهما فيه عصمة أبو عاصم كما في حديث أحمد بن المقدام أبي الأشعث العجلي عن المعتمر بن سليمان عند الدولابي في "الكنى والأسماء" (1233) والآجري في "الشريعة" (348) وابن بطة في "الإبانة" 3/ 340 ...» [ترقيم الرساله 3735] [ترقيم الشركة 3714] [ترقيم العلميه 3693]
الحكم على الحديث: ضعيف بهذه السياقة
296. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ
سورۂ الاحقاف کی تفسیر
حدیث نمبر: 3736
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا أبو داود سليمان بن الأشعث السِّجِستاني، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير العَبْدي، حَدَّثَنَا سفيان، عن صفوان بن سُلَيم، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ [الأحقاف: 4] ، قال: هو الخَطُّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أُسنِدَ عن الثوري من وجه غير مُعتمَد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3694 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أُسنِدَ عن الثوري من وجه غير مُعتمَد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3694 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ [سورة الأحقاف: 4] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد (قدیم) تحریر یا لکیریں کھینچنا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام ثوری سے یہ ایک ایسی سند سے بھی مروی ہے جو قابلِ اعتماد نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3736]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ امام ثوری سے یہ ایک ایسی سند سے بھی مروی ہے جو قابلِ اعتماد نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3736]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،سفيان هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3736] [ترقيم الشركة 3715] [ترقيم العلميه 3694]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3737
حَدَّثَنَا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى المُزكِّي حقًّا لا على العادة، حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا أبو همام بن أبي بَدْر، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد العطّار (1) ، حَدَّثَنَا أبو عثمان عمرو بن الأزهَر البَصْري، عن ابن عَوْن، عن الشَّعْبي، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾، قال: جَوْدةُ خطٍّ (2) . هذه زيادةٌ غريبةٌ في هذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3695 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3695 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے ارشاد ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد عمدہ خوشخطی ہے۔“
اس حدیث میں یہ ایک عجیب و غریب زیادتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3737]
اس حدیث میں یہ ایک عجیب و غریب زیادتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3737]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف من أجل يحيى بن سعيد العطار وشيخه عمرو بن الأزهر، وعمرو أشدهما ضعفًا ورُمي بالكذب، ووقع مكنًى في بعض مصادر ترجمته بأبي سعيد وليس بأبي عثمان كما عند المصنّف. ابن عون: هو عبد الله بن عون بن أرطبان البصري، والشعبي: هو عامر بن شراحيل.» [ترقيم الرساله 3737] [ترقيم الشركة 3716] [ترقيم العلميه 3695]
الحكم على الحديث: إسناده تالف من أجل يحيى بن سعيد العطار وشيخه عمرو بن الأزهر
297. ذِكْرُ وَفَاةِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 3738
أخبرنا أبو بكر بن أبي نَصْر الدارَبردي وأبو محمد الحسن بن محمد الحَلِيمي بمَرْو قالا: حَدَّثَنَا أبو الموجَّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت عن أم العلاء الأنصارية - وقد كانت بايَعَت رسولَ الله ﷺ قالت: طارَ لنا عثمانُ بن مَظْعون في السُّكَنَى حين أَقرَعَت الأنصارُ على سُكنَى المهاجرين، قالت فاشتَكي فمرَّضْناه حتَّى توفِّي، حتَّى جعلناه في أثوابه، قالت: فدخل رسولُ الله ﷺ، فقلت: رحمةُ الله عليك أبا السائب، فشهادَتي أنْ قد أكرَمَك الله، فقال النَّبِيّ ﷺ:"وما يُدريكِ؟" قالت: لا أدري والله يا رسول الله، قال:"أمَّا هو فقد جاءَه اليقينُ، وإني لأرجُو له الخيرَ من الله"، ثم تلا رسول الله ﷺ: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ﴾ [الأحقاف: 9] ، قالت أم العلاء: والله لا أُزكِّي أحدًا بعدَه أبدًا. قالت أم العلاء: ورأيتُ لعثمان في النوم عَينًا تجري، فجئتُ رسولَ الله ﷺ فذكرتُ ذلك له، فقال:"ذاكِ عملُه يَجْري له" (1) .
هذا حديث قد اختَلَف الشيخانِ في إخراجه فرواه البخاري عن عَبْدان مختصرًا، ولم يُخرجه مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3696 - تقدم وهو في البخاري مختصرا
هذا حديث قد اختَلَف الشيخانِ في إخراجه فرواه البخاري عن عَبْدان مختصرًا، ولم يُخرجه مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3696 - تقدم وهو في البخاري مختصرا
سیدہ ام العلاء انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، انہوں نے کہا: جب انصار نے مہاجرین کی رہائش کے لیے قرعہ اندازی کی تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے ہاں قیام کے لیے نکلا، پھر وہ بیمار ہو گئے تو ہم نے ان کی تیمارداری کی یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے اور ہم نے انہیں ان کے کفن کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے (میت کو مخاطب کر کے) کہا: اے ابوسائب! تم پر اللہ کی رحمت ہو، میری گواہی ہے کہ اللہ نے یقیناً تمہارا اکرام فرمایا ہے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، میں نہیں جانتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک ان کا تعلق ہے تو ان کے پاس یقین (موت) آ چکا ہے، اور میں ان کے لیے اللہ سے بھلائی کی امید رکھتا ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ﴾ ”کہہ دیجیے کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا“ [سورة الأحقاف: 9] ، ام العلاء کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ان کے بعد اب کبھی کسی کی (قطعی) پاکیزگی بیان نہیں کروں گی۔ ام العلاء کہتی ہیں کہ میں نے خواب میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ دیکھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان کا عمل ہے جو ان کے لیے جاری ہے“۔
اس حدیث کی روایت میں شیخین کا اختلاف ہے؛ امام بخاری نے اسے عبدان سے مختصراً روایت کیا ہے جبکہ امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3738]
اس حدیث کی روایت میں شیخین کا اختلاف ہے؛ امام بخاری نے اسے عبدان سے مختصراً روایت کیا ہے جبکہ امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزَي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3738] [ترقيم الشركة 3717] [ترقيم العلميه 3696]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3739
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، سمع صفوانَ بن عبد الله بن صفوان يقول: استَأْذَنَ سعدٌ على ابن عامر وتحته مَرافِقُ من حرير، فأَمَر بها فرُفِعَت، فَدَخَلَ وعليه مِطرَفُ خَزٍّ، فقال له: استأذنتَ عليَّ وتحتي مَرافقُ من حرير فأَمرتُ بها فرُفِعَت، فقال له: نِعمَ الرجلُ أنت يا ابنَ عامر إن لم تكن ممَّن قال الله ﷿: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا﴾ [الأحقاف: 20] ، والله لأَنْ أَصْطَجَعَ على جَمْرِ الغَضَى، أحبُّ إليَّ من أن أضطجعَ عليها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عمر بن الخطّاب من رواية القاسم بن عبد الله العُمَري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3697 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عمر بن الخطّاب من رواية القاسم بن عبد الله العُمَري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3697 - على شرط البخاري ومسلم
صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ابن عامر سے ملنے کی اجازت مانگی جبکہ ان کے نیچے ریشمی تکیے تھے، ابن عامر نے حکم دیا تو وہ ہٹا دیے گئے، پھر سعد رضی اللہ عنہ داخل ہوئے جبکہ انہوں نے ریشمی اونی چادر اوڑھ رکھی تھی، ابن عامر نے ان سے کہا: آپ نے مجھ سے اجازت مانگی تو میرے نیچے ریشمی تکیے تھے میں نے حکم دے کر انہیں ہٹوا دیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے ابن عامر! تم بہت اچھے آدمی ہو بشرطیکہ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا﴾ ”تم اپنی پاکیزہ چیزیں اپنی دنیاوی زندگی ہی میں گنوا چکے“ [سورة الأحقاف: 20] ، اللہ کی قسم! میرا دہکتے ہوئے انگاروں پر لیٹنا مجھے ان (ریشمی تکیوں) پر لیٹنے سے زیادہ محبوب ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی تائید سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3739]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی تائید سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3739]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى القرشي المكي، وسفيان: هو ابن عيينة، وسعد هو ابن أبي وقاص.» [ترقيم الرساله 3739] [ترقيم الشركة 3718] [ترقيم العلميه 3697]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3740
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا عبد الله بن الجرَّاح، حَدَّثَنَا القاسم بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن دِينار، عن ابن عمر: أنَّ عمر رأَى في يدِ جابر بن عبد الله دِرهمًا، فقال: ما هذا الدِّرهمُ؟ فقال: أريد أن أشتريَ لأهلي بدرهم لحمًا قَرِمُوا إليه، فقال عمر: أكلَّما اشتهيتُم اشتريتموها، ما يريد أحدُكم أن يَطوِيَ بطنَه لابن عمِّه وجارِه، أين تذهبُ عنكم هذه الآية: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ [الأحقاف: 20] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3698 - القاسم واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3698 - القاسم واه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھا تو پوچھا: یہ درہم کیسا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کے لیے ایک درہم کا گوشت خرید لوں کیونکہ انہیں اس کی بہت رغبت ہو رہی ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا جب بھی تمہیں کسی چیز کی اشتہا ہو تم اسے خرید لیتے ہو؟ کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے چچا زاد بھائی اور پڑوسی کے لیے اپنا پیٹ لپیٹ لے؟ تم سے یہ آیت کہاں چلی گئی ہے: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ ”تم اپنی پاکیزہ چیزیں اپنی دنیاوی زندگی ہی میں گنوا چکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے۔“ [سورة الأحقاف: 20] [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3740]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدًّا من أجل القاسم بن عبد الله، فإنه متروك ووهّاه الذهبي في "تلخيصه"، لكنه لم ينفرد به فالخبر مشهور قد روي من غير وجه عن عمر.» [ترقيم الرساله 3740] [ترقيم الشركة 3719] [ترقيم العلميه 3698]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
298. مَا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرَ خَاتَمٍ
قومِ عاد پر بھیجی گئی ہوا کی مقدار انگوٹھی کے برابر تھی
حدیث نمبر: 3741
حَدَّثَنَا أبو النَّضْر الفقيه، حَدَّثَنَا معاذ بن نَجْدة القُرشي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بن عُقْبة، حَدَّثَنَا سفيان، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد ابن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: ما أَرسَلَ اللهُ على عادٍ من الرِّيحِ إِلَّا قَدْرَ خاتَمي هذا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تفرَّد مسلمٌ بإخراج حديث مسعود بن مالك عن سعيد بن جُبير عن ابن عبَّاس:"نُصِرتُ بالصَّبَا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3699 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تفرَّد مسلمٌ بإخراج حديث مسعود بن مالك عن سعيد بن جُبير عن ابن عبَّاس:"نُصِرتُ بالصَّبَا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3699 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد پر میری اس انگوٹھی (کے سوراخ) کی مقدار کے برابر ہوا کے علاوہ اور کچھ نہیں بھیجا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم نے اکیلے مسعود بن مالک کی روایت سے سیدنا ابن عباس کے واسطے سے ”میری مدد بادِ صبا کے ذریعے کی گئی“ کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3741]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم نے اکیلے مسعود بن مالک کی روایت سے سیدنا ابن عباس کے واسطے سے ”میری مدد بادِ صبا کے ذریعے کی گئی“ کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3741]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل معاذ بن نجدة القرشي. سفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3741] [ترقيم الشركة 3720] [ترقيم العلميه 3699]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر، حَدَّثَنَا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا النَّضر حدَّثه عن سليمان بن يَسَار، عن عائشةَ زوجِ النَّبِيّ ﷺ أنها قالت: ما رأيتُ رسول الله ﷺ قطُّ مُستجمِعًا ضاحكًا حتَّى أَرى منه لَهَواتِه، إنما كان يتبسَّم، قالت: وكان إذا رأى غيمًا أو ريحًا عُرِفَ في وجهه، فقلت: يا رسول الله، الناسُ إذا رأَوُا الغيمَ فَرِحُوا أن يكون فيه المطرُ، وأَراك إذا رأيتَه عُرِفَ في وجهك الكراهيَةُ! قال:"يا عائشةُ، وما يُؤْمِنُني أن يكون فيه عذابٌ، قد عُذِّب قومٌ بالريح، وقد أَتى قومًا العذابُ" وتلا رسولُ الله ﷺ ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ الآية [الأحقاف: 24] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3700 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3700 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اس طرح کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلق کا کوا نظر آنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف تبسم فرمایا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر فکر کے آثار نمایاں ہو جاتے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی، لیکن میں دیکھتی ہوں کہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار ہوتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھے اس بات سے کیا مامون کر سکتا ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو، جبکہ ایک قوم کو ہوا کے ذریعے عذاب دیا گیا، اور یقیناً ایک قوم نے عذاب کو آتا ہوا دیکھا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ ”پھر جب انہوں نے اسے دیکھا کہ ایک بادل ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے، تو کہنے لگے کہ یہ تو ہمیں بارش دینے والا بادل ہے۔“ [سورة الأحقاف: 24]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3742]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله، وعمرو بن الحارث: هو أبو أمية المصري، وأبو النضر: هو سالم بن أبي أمية.» [ترقيم الرساله 3742] [ترقيم الشركة 3721] [ترقيم العلميه 3700]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
299. اسْتِمَاعُ الْجِنِّ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ سے جنات کا قرآن سننا
حدیث نمبر: 3743
حَدَّثَنَا أبو علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازيُّ، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا أبو أحمد الزُّبيري، حَدَّثَنَا سفيان، عن عاصم، عن زرٍّ، عن عبد الله قال: هَبَطوا على النَّبِيّ ﷺ وهو يقرأ القرآنَ ببَطْن نَخْلة، فلما سمعوه قالوا: أَنصِتوا، قالوا: صَهٍ، وكانوا تسعةً أحدُهم زَوْبعةُ، فأنزل الله ﷿: ﴿وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا﴾ الآية إلى ﴿ضَلَالٍ مُبِينٍ﴾ [الأحقاف: 29 - 32] (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3701 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3701 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جنات کا ایک گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت اترا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطنِ نخلہ میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے، جب انہوں نے تلاوت سنی تو کہنے لگے: ”خاموش ہو جاؤ“، انہوں نے ایک دوسرے کو چپ رہنے کا کہا، وہ نو جنات تھے جن میں سے ایک کا نام زوبعہ تھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا﴾ ”اور یاد کرو جب ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تمہاری طرف پھیرا تاکہ وہ قرآن سنیں، پھر جب وہ وہاں حاضر ہوئے تو کہنے لگے: خاموش ہو جاؤ۔“ سے لے کر ﴿ضَلَالٍ مُبِينٍ﴾ ”کھلی گمراہی۔“ [سورة الأحقاف: 29 - 32] تک۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3743]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3743]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن والمحفوظ أنه من قول زر بن حبيش لا عن عبد الله بن مسعود، فقد اختلف فيه على أبي أحمد الزبيري كما سيأتي. سفيان: هو الثوري، وعاصم: هو ابن أبي النجود، وهو صدوق حسن الحديث.» [ترقيم الرساله 3743] [ترقيم الشركة 3722] [ترقيم العلميه 3701]
الحكم على الحديث: إسناده حسن والمحفوظ أنه من قول زر بن حبيش لا عن عبد الله بن مسعود