🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. لَا يَجُوزُ بَيْعَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا بَيْعُ مَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ .
ایک ہی سودا میں دو سودے جائز نہیں، نہ اس چیز کی بیع جو ملکیت میں نہ ہو، نہ قرض کے ساتھ بیع، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2219
أخبرني أبو عون محمد بن أحمد بن ماهَان الجزّار بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن جابر، قال: بِعْنا أمهاتِ الأولاد على عهد رسول الله ﷺ وأبي بكر، فلما كان عمرُ نهانا فانتَهَينا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2189 - على شرط مسلم وشاهده صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں امہات الاولاد (وہ لونڈیاں جن سے ان کے مالکوں کی اولاد ہو چکی ہو) کو بیچا کرتے تھے، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے ہمیں اس سے منع کر دیا، چنانچہ ہم رک گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2219]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 2219] [ترقيم الشركة 2201] [ترقيم العلميه 2189]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2220
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب ويوسف بن يعقوب، قالا: حدثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا شعبة، عن زيدٍ العَمِّي، عن أبي الصِّدِّيق الناجِيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: كنا نبيعُ أمهاتِ الأولاد على عهدِ رسول الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2190 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں امہات الاولاد کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2220]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف زيد العَمّي: وهو ابن الحواري أبو الصِّدّيق الناجي: هو بكر بن عمرو، ويقال: ابن قيس.» [ترقيم الرساله 2220] [ترقيم الشركة 2202] [ترقيم العلميه 2190]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف زيد العَمّي: وهو ابن الحواري أبو الصِّدّيق الناجي: هو بكر بن عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2221
فحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وأبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا محمد بن سعيد الأصبهاني، حدثنا شَريك، عن حسين بن عبد الله، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنه قال: قال رسول الله ﷺ:"أيُّما أَمةٍ وَلَدَت من سيِّدها، فهي حُرّةٌ بعد موتهِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابعه أبو بكر بن أبي سَبْرة القرشي عن حُسين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2191 - حسين متروك_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُمِّ إِبْرَاهِيمَ: حِينَ وَلَدَتْهُ: «أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا» _x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2191 - حسين متروك
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی لونڈی اپنے آقا کے ہاں بچہ جنے، وہ اس (آقا) کی موت کے بعد آزاد ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2221]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف حسين بن عَبد الله: وهو ابن عُبيد الله بن عباس الهاشمي، وشريك» [ترقيم الرساله 2221] [ترقيم الشركة 2203] [ترقيم العلميه 2191]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف حسين بن عَبد الله: وهو ابن عُبيد الله بن عباس الهاشمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2222
أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا أبو عِصمة سهل بن المتوكِّل، حدثنا عبد الله بن مسلمة القَعْنبي، حدثنا أبو بكر بن أبي سَبْرة، عن حُسين بن عبد الله، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ قال لأم إبراهيم حين وَلَدتْه:"أعتقَها ولدُها" (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) کی والدہ (سیدہ ماریہ قبطیہ) کے بارے میں جب وہ پیدا ہوئے تو فرمایا: اسے اس کے بیٹے نے آزاد کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2222]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي بكر بن أبي سَبْرة، فقد اتُّهم بوضع الحديث، وحسين بن عبد الله ضعيف، وقد تُوبعا بمتابعات لا يُعتدُّ بها كما سيأتي، وقد أُعلَّ هذا الخبر بما رواه عكرمة عن عمر من قوله موقوفًا عليه، وبما رواه عطاء عن ابن عباس من قوله أيضًا، كما سنبينه إن شاء الله تعالى.» [ترقيم الرساله 2222] [ترقيم الشركة 2204]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي بكر بن أبي سَبْرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَحْمَرَّ وَيَصْفَرَّ
دانہ اس وقت تک بیچنے کی ممانعت ہے جب تک سخت نہ ہو جائے، انگور جب تک سیاہ نہ ہوں، اور کھجور جب تک سرخ یا زرد نہ ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2223
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عفَّان بن مسلم وحَبّان بن هلال، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا حُميد، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن بيع الحبِّ حتى يَشتَدَّ، وعن بيع العِنب حتى يَسْوَدّ، وعن بيع التمر حتى يحمرَّ ويَصفرَّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1) ، إنما اتفقا على حديث نافع عن ابن عمر في النهي عن بيع التمر حتى يُزهِي (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2192 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلے کو سخت ہونے سے پہلے، انگور کو سیاہ ہونے سے پہلے، اور کھجور کو سرخ یا زرد ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں کا اتفاق نافع کی ابن عمر سے روایت پر ہے جس میں کھجور کے پکنے (رنگ بدلنے) تک اس کی بیع سے ممانعت کا ذکر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2223]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،حميد: هو ابن أبي حميد الطويل.» [ترقيم الرساله 2223] [ترقيم الشركة 2205] [ترقيم العلميه 2192]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2224
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز والعباس بن الفضل الأسفاطي، قالا: حدثنا عَتيقُ بن يعقوب الزُّبَيري، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن أبي الزُّبَير المكي، قال: سمعت أبا أُسَيد الساعِدِيَّ، وابنُ عباس يُفتي: الدينار بالدينارين، فقال له أبو أُسَيد الساعِدي، وأغلَظَ له، قال: فقال ابن عباس: ما كنت أظنَّ أنَّ أحدًا يعرف قَرابتي من رسول الله ﷺ يقول لي مثلَ هذا يا أبا أُسَيد، فقال أبو أُسَيد: أشهدُ لَسمعتُ من رسول الله ﷺ يقول:"الدِّينارُ بالدينارِ، والدِّرهمُ بالدرهمِ، وصاعُ حِنْطةٍ بصاعِ حِنْطةٍ، وصاعُ شعيرٍ بصاعِ شَعيرٍ، وصاعُ مِلْح بصاعِ ملحٍ، لا فضلَ بينهما في شيءٍ من ذلك"، فقال ابن عباس: إنما هذا شيءٌ كنتُ أقوله برأيي، ولم أسمعْ فيه بشيءٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. وعَتيق بن يعقوب شيخٌ قرشيٌّ من أهل المدينة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2193 - على شرط مسلم
ابوزبیر مکی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو سنا جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فتویٰ دے رہے تھے کہ ایک دینار کے بدلے دو دینار (کا تبادلہ جائز ہے)، تو ابواسید ساعدی نے ان سے سخت کلامی کی، ابن عباس نے کہا: اے ابواسید! میرا یہ خیال نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قرابت کو جاننے والا کوئی شخص مجھ سے ایسی بات کہے گا، ابواسید نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم، ایک صاع گندم کے بدلے ایک صاع گندم، ایک صاع جو کے بدلے ایک صاع جو، اور ایک صاع نمک کے بدلے ایک صاع نمک (برابر بیچا جائے)، ان اشیاء میں سے کسی میں بھی کمی بیشی نہ ہو، یہ سن کر ابن عباس نے فرمایا: یہ تو صرف ایک بات تھی جو میں اپنی رائے سے کہتا تھا، میں نے اس بارے میں (پہلے) کچھ نہیں سنا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ عتیق بن یعقوب مدینہ کے ایک ثقہ قریشی شیخ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2224]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل عبد العزيز بن محمد» [ترقيم الرساله 2224] [ترقيم الشركة 2206] [ترقيم العلميه 2193]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2225
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي وصالح بن محمد بن حبيب الحافظ، قالا: حدثنا أبو نصر عبد الملك بن عبد العزيز التمّار، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا ثابت البُنَاني، عن أنس بن مالك: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، إنَّ لفلانٍ نخلةً وأنا أُقِيمُ حائطي بها، فمُرْه أن يُعطِيَني أُقيمُ حائطي بها، فقال له النبيُّ ﷺ:"أعطِها إياهُ بنخلةٍ في الجنة" فأبى، وأتاهُ أبو الدَّحْداح، فقال: بِعْني نخلَك (1) بحائطي، قال: ففعل، قال: فأتى النبيَّ ﷺ، فقال: يا رسول الله، إني قد ابتَعْتُ النخلةَ بحائطي، فجَعَلَها له، فقال النبي ﷺ:"كم مِن عِذْقٍ رَدَاحٍ لأبي الدَّحْداح في الجنة" مِرارًا، فأتى امرأتَه، فقال: يا أمَّ الدَّحْداح، اخرُجي من الحائط، فإنه بعتُه بنخلةٍ في الجنة، فقالت: قد ربحتَ البيعَ؛ أو كلمةً نحوها (2) .
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم. وله شاهدٌ من حديث جابر بن عبد الله الأنصاري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2194 - على شرط مسلم وشاهده ثم ذكر حديث رقم 1295
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فلاں شخص کی ایک کھجور (کا درخت میرے باغ میں) ہے اور میں اس کی وجہ سے اپنی دیوار سیدھی نہیں کر پا رہا، آپ اسے حکم دیں کہ وہ مجھے دے دے تاکہ میں اپنی دیوار مکمل کر لوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: یہ اسے دے دو، اس کے بدلے تمہیں جنت میں ایک درخت ملے گا، مگر اس نے انکار کر دیا، پھر ابودحداح رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور کہا: اپنا یہ درخت میرے پورے باغ کے بدلے میرے ہاتھ بیچ دو، اس نے سودا کر لیا، ابودحداح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے وہ درخت اپنے باغ کے بدلے خرید لیا ہے، آپ وہ اسے (سائل کو) دے دیں، تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا: ابودحداح کے لیے جنت میں کھجور کے کتنے ہی پھلوں سے لدے ہوئے بڑے خوشے ہیں، پھر وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور کہا: اے ام دحداح! اس باغ سے نکل آؤ، میں نے اسے جنت کے ایک درخت کے بدلے بیچ دیا ہے، انہوں نے کہا: آپ نے بڑے نفع کا سودا کیا ہے (یا اسی طرح کے کلمات کہے)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2225]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ثابت البُناني: هو ابن أسْلَم.» [ترقيم الرساله 2225] [ترقيم الشركة 2207] [ترقيم العلميه 2194]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2226
أخبرَناه أبو بكر محمد بن حاتم العَدْل بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة النَّهْدي، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رجلًا أتى رسولَ الله ﷺ فقال: إِنَّ لفلانٍ في حائطي عِذْقًا، وقد آذاني وشَقَّ عَليَّ مكانُ عِذْقِه، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ فقال:"بِعْني عِذقَكَ الذي في حائط فلانٍ" قال: لا، قال:"هَبْهُ" قال: لا، قال:"فبِعْنِيهِ بعِذْقٍ في الجنة" قال: لا، فقال رسول الله ﷺ:"ما رأيتُ أبخلَ منك إلّا الذي يَبخلُ بالسلام" (3) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: فلاں شخص کا ایک خوشہ (پھل دار شاخ) میرے باغ میں ہے جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی جگہ کی وجہ سے مجھ پر تنگی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مالک) کو بلا بھیجا اور فرمایا: فلاں کے باغ میں موجود اپنا یہ خوشہ مجھے بیچ دو، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ہبہ (تحفہ) کر دو، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے جنت کے ایک خوشے کے بدلے مجھے بیچ دو، اس نے (پھر بھی) انکار کر دیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے زیادہ بخیل کسی کو نہیں دیکھا سوائے اس کے جو سلام کرنے میں بخل کرے (یعنی سلام نہ کرے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2226]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده، دون قوله: "ما رأيت أبخل … إلخ"، عبد الله بن محمد بن عَقيل حسن الحديث في الاعتبار، ويشهد لحديثه حديثُ أنس السابق وغيره.» [ترقيم الرساله 2226] [ترقيم الشركة 2208]

الحكم على الحديث: حسن بشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. كَفَى بِالْمَرْءِ مِنَ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی ہر بات بیان کرتا پھرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2227
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ما لا أُحصِيه من مرةٍ، حدثنا هِلال بن العلاء بن هلال بن عمر الرَّقِّي، حدثنا أبي العلاء بن هلال، حدثني أبي هلال بن عمر، حدثني أبي عمرُ بن هلال، حدثني أبو غالِبٍ، عن أبي أمامة قال: قال رسول الله ﷺ:"كفى بالمرءِ مِن الكَذِبِ أن يحدِّث بكُلِّ ما سَمِعَ، وكفى بالمرء مِن الشُّحِّ أن يقول: آخُذُ حَقِّي لا أترُكُ منه شيئًا" (1) . هذا إسناد صحيح، فإنَّ آباء هلال بن العلاء أئمةٌ ثقات! وهلال إمام أهل الجزيرة في عصره.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2196 - صحيح وآباء هلال ثقات
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) بیان کر دے، اور کسی شخص کے بخیل ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کہے: میں اپنا پورا حق لے کر رہوں گا اور اس میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑوں گا۔
یہ اسناد صحیح ہے کیونکہ ہلال بن علاء کے آباؤ اجداد ثقہ ائمہ ہیں اور ہلال اپنے زمانے میں اہل جزیرہ کے امام تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2227]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف العلاء بن هلال بن عمر الرقي وضعف أبيه، وجهالة عمر بن هلال جدّ العلاء. وهو في "المدخل إلى الصحيح" للحاكم 1/ 139» [ترقيم الرساله 2227] [ترقيم الشركة 2209] [ترقيم العلميه 2196]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف العلاء بن هلال بن عمر الرقي وضعف أبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2228
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا موسى بن داود الضَّبِّي وعفان بن مسلم، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا أبو الوليد، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ اشترى صَفيَّة من دِحْيةَ الكَلْبي بسبعة أَرؤُسٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2197 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو (قیدیوں میں سے) دحیہ کلبی سے سات جانوں (غلاموں) کے عوض خریدا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي.» [ترقيم الرساله 2228] [ترقيم الشركة 2210] [ترقيم العلميه 2197]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں