🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. كَفَى بِالْمَرْءِ مِنَ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی ہر بات بیان کرتا پھرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2229
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عُقبة بن عامر الجُهَني: أنَّ رسول الله ﷺ قال في عُهْدة الرَّقيق:"ثلاثُ ليالٍ" (2) . قال سعيد: فقلت لقَتَادة: كيف يكون هذا؟ قال: إذا وَجَدَ المشتري عيبًا بالسِّلعة، فإنه يَردُّها في تلك الأيام، ولا يُسألُ البيّنةَ، فإذا مَضَتْ عليه أيامٌ فليس له أن يَرُدَّها إلّا ببيِّنةِ أنه اشتراها وذلك العيبُ بها، وإلّا فيمينُ البائع أنه لم يَبِعْه وبه داءٌ. هكذا قال سعيد وهمام عن قَتَادة، وكذلك رواه يونس بن عُبيد عن الحسن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2198 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کی خریداری میں عیب کی وجہ سے واپسی کی مدت (عہدہ) کے بارے میں فرمایا: تین راتیں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا: یہ کیسے ہوگا؟ انہوں نے کہا: جب خریدار سودے میں کوئی عیب پائے تو وہ ان تین دنوں میں اسے واپس کر سکتا ہے اور اس سے گواہ طلب نہیں کیے جائیں گے، لیکن جب یہ دن گزر جائیں تو اسے گواہی کے بغیر واپس کرنے کا حق نہیں ہوگا کہ اس نے اسے خریدا تھا اور یہ عیب اس وقت موجود تھا، ورنہ پھر بیچنے والے سے قسم لی جائے گی کہ اس نے اسے اس حال میں نہیں بیچا کہ اس میں کوئی بیماری تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2229]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ الحسن - وهو ابن أبي الحسن البصري - لم يسمع من عقبة بن عامر، فيما قاله المصنف هنا، وسبقه إلى القول بذلك علي بن المديني، وأحمد فيما نقله عنه الخطابي، وأبو حاتم فيما نقله عنه ابنه في "العلل" (1184)، وغيرهم، وقد اختُلف فيه أيضًا عن الحسن، ...» [ترقيم الرساله 2229] [ترقيم الشركة 2211] [ترقيم العلميه 2198]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. لَا عُهْدَةَ فَوْقَ أَرْبَعٍ
چار دن سے زیادہ کی ضمان نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2230
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو بن عَون، حدثنا هُشَيم، أخبرنا يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن عُقبة بن عامر، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا عُهدةَ فوقَ أربعٍ" (1) . وأما خلافُ هشام الدَّستُوائي إياهما:
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیب کی واپسی کی مدت (عہدہ) چار دن سے زیادہ نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2230]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه كسابقه. هُشَيم: هو ابن بشير الواسطي.» [ترقيم الرساله 2230] [ترقيم الشركة 2212]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. عُهْدَةُ الرَّقِيقِ أَرْبَعُ لَيَالٍ
غلام کی ضمان چار راتیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2231
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا حجّاج بن مِنْهال، حدثنا هشام. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا أحمد بن سلمة، حدثنا بُندارٌ وأبو موسى، قالا: حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن عقبة بن عامر (1) ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"عُهدة الرَّقيق أربعُ ليال" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد غير أنه على الإرسال، فإنَّ الحسن لم يسمع من عقبة بن عامر. وله شاهدٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2200 - صحيح الإسناد لكن الحسن لم يسمع من عقبة
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام کی واپسی کا اختیار چار راتیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن مرسل ہے، کیونکہ امام حسن بصری نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اور اس کا ایک شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2231]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه.» [ترقيم الرساله 2231] [ترقيم الشركة 2213] [ترقيم العلميه 2200]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2232
حدثنا علي بن عيسى الحِيْري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، حدثني محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، قال: كان حَبَّان بن مُنْقِذٍ رجلًا ضعيفًا، وكان قد سُفِع في رأسه مأمومةً، فجعل له رسولُ الله ﷺ الخِيارَ فيما اشترى ثلاثًا، وكان قد ثَقُل لسانُه، فقال له رسول الله ﷺ:"بِعْ وقُل: لا خِلَابةَ". فكنتُ أسمَعُه يقول: لا خِذابةَ لا خِذابةَ. وكان يشتري الشيءَ ويجيء به أهلَه، فيقولون: هذا غالٍ، فيقول: إنَّ رسول الله ﷺ قد خَيَّرني في بَيعي (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2201 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ ایک کمزور شخص تھے اور ان کے سر پر ایک ایسا گہرا زخم لگا تھا جو دماغ کی جھلی تک پہنچ گیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کسی بھی چیز کی خریداری میں تین دن کا اختیار مقرر فرما دیا تھا، ان کی زبان میں لکنت تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم سودا کرو تو کہہ دیا کرو: «لَا خِلَابَةَ» کوئی دھوکہ دہی نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں انہیں (زبان کی لکنت کی وجہ سے) «لَا خِذَابَةَ لَا خِذَابَةَ» کہتے ہوئے سنتا تھا۔ وہ کوئی چیز خرید کر اپنے گھر والوں کے پاس لاتے اور وہ کہتے کہ یہ تو مہنگی ہے، تو وہ جواب دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری بیع میں (واپسی کا) اختیار دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2232]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله في آخر الحديث: وكان يشتري الشيء، إلى آخره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطّلبي مولاهم، صاحب المغازي - وقد صرَّح بسماعه عند أحمد وغيره، فأُمن تدليسه، لكن قوله الذي أشرنا إليه آخر الحديث مدرج كما سنبينه.» [ترقيم الرساله 2232] [ترقيم الشركة 2214] [ترقيم العلميه 2201]

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله في آخر الحديث: وكان يشتري الشيء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ
جس بندے کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2233
أخبرني أبو النَّضْر محمد بن محمد الفقيه، حدثنا محمد بن غالب بن حَرْب الضبّي وصالح بن محمد بن حبيب الحافظ، قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر، حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة: أنها كانت تَدّانُ، فقيل لها: ما لَكِ والدَّيْنَ، وليس عندك قضاءٌ؟ فقالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما مِن عبدٍ كانت له نِيّةٌ في أداء دَيْنه، إلّا كان له مِن الله عَونٌ"، فأنا ألتَمِسُ ذلكَ العَونَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن محمد بن علي بن الحسين عن عائشة مثلُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2202 - ابن مجبر وهاه أبو زرعة وقال النسائي متروك لكن وثقه أحمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں، ان سے کہا گیا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں جبکہ آپ کے پاس ادائیگی کے ظاہری اسباب نہیں ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس کسی بندے کی اپنے قرض کو ادا کرنے کی نیت ہو، تو اللہ کی طرف سے اسے مدد حاصل ہوتی ہے۔ تو میں اسی غیبی مدد کی تلاش میں رہتی ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور محمد بن علی بن حسین کے واسطے سے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2233]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن عبد الرحمن بن مجبَّر متروك الحديث، وسيأتي بعده بإسناد أحسن منه، وله شواهد يصح بها.» [ترقيم الرساله 2233] [ترقيم الشركة 2215] [ترقيم العلميه 2202]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2234
أخبرَناه أبو بكر بنُ إسحاق، أخبرنا أبومسلم، حدثنا الحجّاج بن مِنْهال، حدثنا القاسم بن الفضل، قال: سمعتُ محمد بن علي يقولُ: كانت عائشةُ تَدَّانُ، فقيل لها: ما لَكِ والدَّيْنَ؟ قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما من عبدٍ كانت له نِيّةٌ في أداء دينِه، إلّا كان له مِن الله عَونٌ"، فأنا ألتَمِسُ ذلكَ العَونَ (1) . وشاهده حديثُ ميمونة:
سیدنا محمد بن علی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں، ان سے پوچھا گیا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس کسی بندے کی اپنے قرض کو ادا کرنے کی نیت ہو، تو اللہ کی طرف سے اسے مدد حاصل ہوتی ہے۔ پس میں اسی مدد کی طلبگار رہتی ہوں۔
اس کا شاہد سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2234]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه منقطع، لأنَّ محمد بن علي» [ترقيم الرساله 2234] [ترقيم الشركة 2216]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2235
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا جَرير. وحدثنا الأستاذ أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جرير، عن منصور، عن زياد بن عمرو بن هند، عن عِمران بن حذيفة، عن ميمونة: أنها كانت تَدّانُ، فتُكثِر، فقيل لها في ذلك، فقالت: لا أدَعُ الدَّين، لأنَّ له من اللهِ عونًا، فأنا ألتمِسُ ذلك العَونَ (2) .
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کثرت سے قرض لیا کرتی تھیں، جب ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی کیونکہ اس پر اللہ کی طرف سے مدد حاصل ہوتی ہے، اور میں اسی مدد کی جستجو میں رہتی ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2235]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد بن عمرو بن هند، وعمران بن حذيفة، ثم الأشبهُ أنه عن عمران بن حذيفة أنَّ ميمونة كانت تدّان، يعني مرسلًا، كما نبَّه عليه الدارقطني في "العلل" (4016)، وقد اختُلف فيه على منصور كما سيأتي بيانه، وجميع من رواه عن ميمونة غير الحاكم رفع آخره.» [ترقيم الرساله 2235] [ترقيم الشركة 2217]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. إِنَّ اللَّهَ مَعَ الدَّائِنِ، حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ، مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُهُ اللَّهُ
اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، بشرطیکہ اس میں اللہ کی نافرمانی نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2236
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نعيم ضِرَار بن صُرَدٍ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك. وأخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رَجَاء، حدثنا يعقوب بن حُميد بن كاسِب، حدثنا ابن أبي فُديك، حدثنا سعيد بن سفيان الأسلمي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن عبد الله بن جعفر، قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله مع الدائنِ حتَّى يقضيَ دَينَه، ما لم يكن فيما يَكرهُه اللهُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي أُمامة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2205 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، بشرطیکہ وہ قرض کسی ایسے کام کے لیے نہ ہو جسے اللہ ناپسند فرماتا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک شاہد سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2236]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سعيد بن سفيان الأسلمي، وقد روى القاسمُ بن الفضل - وهو ثقة - عن محمد بن علي الباقر والد جعفر بن محمد عن عائشة نحوه، كما تقدم برقم (2234)، وهو أشبه بالصواب، وكأنَّ سعيدًا أخطأ فيه، والله أعلم.» [ترقيم الرساله 2236] [ترقيم الشركة 2218] [ترقيم العلميه 2205]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. مَنْ تَدَايَنَ بِدَيْنٍ وَلَيْسَ فِي نَفْسِهِ وَفَاؤُهُ، ثُمَّ مَاتَ، اقْتَصَّ اللَّهُ لِغَرِيمِهِ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جو شخص قرض لیتا ہے اور دل میں ادائیگی کی نیت نہیں رکھتا، پھر مر جاتا ہے تو قیامت کے دن اللہ اس کے قرض خواہ کو اس سے بدلہ دلائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2237
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا بِشر بن نُمير، عن القاسم، عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن تَداين بدَين، وفي نفسه وفاؤُه، ثم مات، تجاوز الله عنه، وأرضَى غريمَه بما شاء، ومَن تَداين بدَين وليس في نفسه وفاؤُه، ثم مات، اقتصَّ اللهُ لغَريمِه منه يومَ القيامة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2206 - بشر متروك
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی قرض لیا اور اس کے دل میں اسے ادا کرنے کی نیت تھی، پھر وہ (ادائیگی سے پہلے) فوت ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے گا اور اس کے قرض خواہ کو جس طرح چاہے گا راضی کر دے گا، اور جس نے قرض لیا جبکہ اس کے دل میں ادائیگی کی نیت نہ تھی، پھر وہ مر گیا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے قرض خواہ کے لیے اس سے بدلہ لے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2237]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف بمرةٍ، بشر بن نمير متروك الحديث، واتهمه بعضهم بالكذب.» [ترقيم الرساله 2237] [ترقيم الشركة 2219] [ترقيم العلميه 2206]

الحكم على الحديث: إسناده تالف بمرةٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2238
حدثنا الأستاذ أبو الوليد حَسّان بن محمد وأبو بكر محمد بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا عُمارة بن أبي حفصة، عن عِكْرمة، عن عائشة، قالت: كان على رسول الله ﷺ بُردان قِطْريان غَليظان خَشِنان، فقلت: يا رسول الله، إنَّ ثوبَيك خَشِنان غليظان، وإنك تَرشَحُ فيهما فيَثقُلان عليك، وإنَّ فلانًا قَدِمَ له بَزٌّ من الشام، فلو بعثتَ إليه فأخذْتَ منه ثوبَين بنَسيئةٍ إلى مَيسَرة، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ، فقال: قد علمتُ ما يريدُ محمدٌ، يريدُ أن يَذهَبَ بِثَوبيَّ ويَمطُلَني بهما، فأتى الرسولُ إلى النبيِّ ﷺ فأخبره، فقال النبيُّ ﷺ:"قد كَذَبَ، قد عَلِمُوا أني أتقاهُم لله وآدَاهُم للأمانة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد روي عن شعبة عن عُمارة بن أبي حفصة مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2207 - على شرط البخاري
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قطر کے بنے ہوئے دو موٹے اور کھردرے کپڑے (چادریں) تھیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے یہ دونوں کپڑے بہت کھردرے اور موٹے ہیں، اور آپ کو ان میں پسینہ آتا ہے جس سے وہ آپ پر بوجھل ہو جاتے ہیں، فلاں شخص کے پاس شام سے کچھ عمدہ کپڑا آیا ہے، کاش آپ اس کی طرف پیغام بھیجتے اور اس سے دو جوڑے میسر آنے (سہولت) تک ادھار لے لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ میرا کپڑا لے جائیں اور پھر اس میں ٹال مٹول کریں۔ قاصد نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے جھوٹ بولا ہے، وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان سب میں زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور امانت کو سب سے زیادہ ادا کرنے والا ہوں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے شعبہ نے عمارہ بن ابی حفصہ سے مختصراً بھی روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2238]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2238] [ترقيم الشركة 2220] [ترقيم العلميه 2207]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں