🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ
نسب سے سات اور سسرالی رشتے سے سات عورتیں حرام ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3235
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا أبو أسامة، حدثني إدريس بن يزيد، حدثنا طلحة بن مُصرِّف، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ (1) أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [النساء: 33] ، قال: كان المهاجرون حين قَدِمُوا المدينةَ تُورَّثُ الأنصارَ دون ذوي القُربَى، رحمةً للأخوَّة التي آخى رسولُ الله ﷺ بينهم، فلما نزلت: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ [النساء: 33] ، قال: فنَسَخَتها (وَالَّذِينَ عاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ) من النَّصر والنَّصيحة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين..... (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3196 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ اور جن سے تمہارے داہنے ہاتھ عہد کر چکے ہیں، انہیں ان کا حصہ دے دو [سورة النساء: 33] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مہاجرین جب مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور انصار کے درمیان جو بھائی چارہ قائم فرمایا تھا اس کی بنیاد پر انصار (موت کی صورت میں) قریبی رشتہ داروں کے بجائے مہاجرین کے وارث بنتے تھے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ اور ہم نے ہر ایک کے لیے وارث مقرر کر دیے ہیں اس مال کے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں تو اس نے پہلی صورت کو منسوخ کر دیا، اور (ارشاد باری تعالیٰ:) اور جن سے تمہارے داہنے ہاتھ عہد کر چکے ہیں، انہیں ان کا حصہ دے دو سے مراد (اب وراثت نہیں بلکہ) مدد اور خیر خواہی کا حصہ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے... [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3235]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.» [ترقيم الرساله 3235] [ترقيم الشركة 3215] [ترقيم العلميه 3196]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. فَضِيلَةُ التَّيْسِيرِ عَلَى الْمُوسِرِ وَإِنْظَارِ الْمُعْسِرِ
مالدار پر نرمی کرنے اور تنگ دست کو مہلت دینے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3236
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو خالد الأحمر، حدثنا سعد بن طارق أبو مالك الأشجَعي، حدثنا رِبْعيُّ بن حِرَاش، عن حُذيفة قال:"أُتِيَ الله بعبد من عبادِه آتاه الله مالًا، فقال له: ماذا عملتَ في الدنيا؟ - قال: ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾ [النساء: 42] - فقال: ما عملتُ من شيء يا ربِّ إلَّا أنك آتيتني مالًا فكنتُ أبايع الناسَ، وكان من خُلُقي أن أيسِّرَ على المُوسِر وأُنظِرَ المُعسِرَ، قال الله: أنا أحقُّ بذلك منك، تَجاوَرُوا عن عبدي". فقال عُقْبة بن عامر الجُهَني وأبو مسعود الأنصاري: هكذا سمعنا من فِي رسول الله ﷺ (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3197 - على شرط مسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اللہ کے حضور اس کے بندوں میں سے ایک بندہ لایا گیا جسے اللہ نے مال عطا فرمایا تھا، اللہ نے اس سے پوچھا: تم نے دنیا میں کیا عمل کیا؟ - (راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ) ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے [سورة النساء: 42] - تو اس نے عرض کی: اے میرے رب! میں نے کوئی (خاص) عمل نہیں کیا سوائے اس کے کہ تو نے مجھے مال دیا تھا تو میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کیا کرتا تھا، اور میرا یہ رویہ تھا کہ میں مالدار (قرض دار) کے لیے آسانی کرتا تھا اور تنگدست کو مہلت دیا کرتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس (درگزر) کا تم سے زیادہ حقدار ہوں، میرے اس بندے سے درگزر کر دو۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی اور سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سنا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3236]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي خالد الأحمر -وهو سليمان بن حيان- وقد توبع. وأخرجه مسلم (1560) (29) عن أبي سعيد الأشج، عن أبي خالد الأحمر، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه. وأخرجه أحمد 28/ (18064) عن يزيد بن هارون، عن أبي مالك الأشجعي، به.» [ترقيم الرساله 3236] [ترقيم الشركة 3216] [ترقيم العلميه 3197]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3237
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن مُطرِّف، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ رجلًا سأله عن هذه الآية: ﴿وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ﴾ [الأنعام: 23] ، وقال في آية أخرى: ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾ [النساء: 42] ، فقال ابن عبَّاس: أما قوله: ﴿وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ﴾ فإنهم لما رأَوْا يومَ القيامة أنه لا يدخل الجنةَ إِلَّا أَهل الإسلام، قالوا: تعالَوا فلنَجحَدْ، فَخَتَمَ الله على أفواهِهم، فتكلَّمت أيديهم وأرجلُهم، فلا يَكتُمون اللهَ حديثًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3198 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے اس آیت ﴿وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ﴾ ہمارے رب اللہ کی قسم! ہم مشرک نہ تھے [سورة الأنعام: 23] کے بارے میں پوچھا جبکہ دوسری آیت میں ہے ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾ اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے [سورة النساء: 42] ، (یعنی یہ کیسے ممکن ہے؟) تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ ہمارے رب اللہ کی قسم! ہم مشرک نہ تھے تو وہ (ایسا اس لیے کہیں گے کہ) جب قیامت کے دن وہ دیکھیں گے کہ جنت میں صرف اہل اسلام ہی داخل ہو رہے ہیں تو وہ کہیں گے: آؤ ہم بھی (شرک کا) انکار کر دیتے ہیں، تب اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کلام کریں گے، اس وقت وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3237]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عبد العزيز بن حاتم وعمرو بن أبي قيس. مطرف: هو ابن طريف.» [ترقيم الرساله 3237] [ترقيم الشركة 3217] [ترقيم العلميه 3198]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ: (لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى)
آیت“نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3238
أخبرنا محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وقَبِيصة قالا: حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن، عن عليٍّ قال: دعانا رجلٌ من الأنصار قبل تحريم الخمر، فحَضَرَت صلاةُ المغرب، فتقدَّم رجلٌ فقرأ ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ فالتبس عليه، فنزلت: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ الآية [النساء:43] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وفي هذا الحديث فائدة كبيرة، وهي أنَّ الخوارج تَنُسب هذا السُّكرَ وهذه القراءةَ إلى أمير المؤمنين عليِّ بن أبي طالب دون غيره، وقد برَّأَه الله منها، فإنه راوي هذا الحديث!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3199 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے ہمیں شراب کی حرمت سے پہلے (کھانے پر) بلایا، پس مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا تو ایک شخص آگے بڑھا (امامت کے لیے) اور اس نے سورۃ ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ پڑھی تو اسے اشتباہ (خلط ملط) ہو گیا، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو، یہاں تک کہ تم وہ سمجھنے لگو جو تم کہہ رہے ہو [سورة النساء: 43]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث میں ایک بہت بڑا فائدہ ہے، وہ یہ کہ خوارج اس نشے اور (غلط) قرات کی نسبت صرف امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے ہیں جبکہ اللہ نے انہیں اس سے بری کر دیا ہے کیونکہ وہ خود اس حدیث کے راوی ہیں (اور یہاں وہ کسی اور شخص کا ذکر کر رہے ہیں)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3238]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، ورواية سفيان» [ترقيم الرساله 3238] [ترقيم الشركة 3218] [ترقيم العلميه 3199]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3239
حدثنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ عبد الرحمن بن عَوْف وأصحابًا له أتَوُا النبيَّ ﷺ بمكة فقالوا: يا نبيَّ الله، كنا في عزٍّ ونحن مشركون، فلمَّا آمَنَّا صِرْنا أَذلَّةً! قال:"إني أُمِرْتُ بالعفو فلا تُقاتِلوا، فكُفُّوا"، فأنزل الله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ [النساء: 77] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3200 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھی مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! جب ہم مشرک تھے تو عزت والے تھے، لیکن جب ہم ایمان لائے تو (بظاہر) ذلیل و خوار ہو گئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے (ابھی) درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا تم لڑائی نہ کرو اور (اپنے ہاتھوں کو) روکے رکھو، پھر (مدینہ ہجرت کے بعد) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، پھر جب ان پر قتال فرض کر دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ڈرنے لگا [سورة النساء: 77] ۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3239]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل إبراهيم بن هلال وقد سلفت ترجمته برقم (420)، وهذا الحديث سلف برقم (2408).» [ترقيم الرساله 3239] [ترقيم الشركة 3219] [ترقيم العلميه 3200]

الحكم على الحديث: حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3240
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا عمّار بن رُزَيق، حدثنا عطاء بن السائب، عن أبي يحيى، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ قال: كان الرجل يأتي رسولَ الله ﷺ فيُسلِمُ، ثم يَرِجعُ إلى قومه فيكون فيهم [وهم] مشركون، فيصيبه المسلمون خطأً في سَرِيَّة أو غَزَاة، فيُعتِق الرجلُ رَقَبةً، ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ [النساء: 92] قال: يكون الرجلُ معاهدًا وقومه أهلُ عهدٍ فيُسلَّمُ إليهم دِيَتُه، ويُعتق الذي أصابه رقبةً (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3201 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایسا ہوتا تھا کہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کر لیتا، پھر وہ اپنی قوم میں واپس چلا جاتا جبکہ وہ لوگ مشرک ہوتے، پھر مسلمانوں کے کسی لشکر یا جنگ میں وہ شخص غلطی سے (مسلمانوں کے ہاتھوں) مارا جاتا، تو اس (مارنے والے) پر ایک مومن غلام آزاد کرنا لازم ہوتا، اور (اسی طرح) ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ اور اگر وہ ایسی قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو، تو اس کے گھر والوں کو دیت پہنچائی جائے گی اور ایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا [سورة النساء: 92] ، فرمایا: (اس سے مراد یہ ہے کہ) وہ شخص خود معاہد (ذی می) ہو اور اس کی قوم بھی معاہد ہو، تو اس کی دیت ان کے حوالے کی جائے گی اور اسے قتل کرنے والا ایک غلام آزاد کرے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3240]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي, أبو الجوَّاب: هو الأحوص بن جوّاب، وأبو يحيى: هو زياد المكي الأعرج.» [ترقيم الرساله 3240] [ترقيم الشركة 3220] [ترقيم العلميه 3201]

الحكم على الحديث: إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3241
أخبرني إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حَجَّاج بن محمد قال: قال ابن جُرَيج: أخبرني يَعلَى بن مُسلِم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى﴾ [النساء: 102] ، قال: نزلت في عبد الرحمن بن عَوْف كان جريحًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3202 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى﴾ اگر تمہیں بارش کی وجہ سے کوئی تکلیف ہو یا تم بیمار ہو [سورة النساء: 102] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہ آیت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ وہ زخمی تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3241]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن الفرج -وهو أبو بكر الأزرق- وقد توبع. وأخرجه البخاري (4599)، والنسائي (11056) من طرق عن حجاج بن محمد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.» [ترقيم الرساله 3241] [ترقيم الشركة 3221] [ترقيم العلميه 3202]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3242
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني الزاهد، حدثنا إسماعيل ابن إسحاق، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمَّاد بن زيد (2) ، عن الحَجّاج الصَّوّاف، عن أَيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي المُهلَّب قال: رحلتُ إلى عائشة في هذه الآية: ﴿لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [النساء: 123] ، قالت: هو ما يُصيبُكم في الدنيا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3203 - على شرط البخاري ومسلم
ابوالمهلب سے روایت ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ (کامیابی) نہ تمہاری تمناؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی تمناؤں پر، جو بھی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا [سورة النساء: 123] کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف رختِ سفر باندھا، تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ (تکلیفیں اور مصائب) ہیں جو تمہیں دنیا میں پہنچتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3242]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أيوب: هو ابن أبي تميمة السَّختياني، وأبو قلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرْمي، وأبو المهلَّب: هو الجرمي، مشهور بكنيته واختُلف في اسمه.» [ترقيم الرساله 3242] [ترقيم الشركة 3222] [ترقيم العلميه 3203]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3243
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا عمّار بن رُزَيق، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ﴾ [النساء: 127] ، في أول هذه السورة من المَواريث، كانوا لا يُورِّثون صبيًّا حتى يَحتلِمَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3204 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ﴾ اور جو کتاب میں تمہیں ان یتیم عورتوں کے بارے میں پڑھ کر سنایا جاتا ہے [سورة النساء: 127] کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد اس سورہ کے شروع میں مذکور وراثت کے احکام ہیں، کیونکہ (زمانہ جاہلیت میں) لوگ کسی بچے کو اس وقت تک وارث نہیں بناتے تھے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3243]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، أبو الجوّاب: هو الأحوص بن جوّاب.» [ترقيم الرساله 3243] [ترقيم الشركة 3223] [ترقيم العلميه 3204]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. تطليق رافع بن خديج زوجته ونزول الآية
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا اپنی بیوی کو طلاق دینا اور آیت کا نازل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3244
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر عن الزُّهري، عن سعيد بن المسيّب وسليمان بن يَسار، عن رافع بن خَدِيج: أنه كانت تحته امرأةٌ قد خَلَا من سِنِّها، فتزوَّج عليها شابةً، فآثر البِكَر عليها، فأبَتِ امرأتُه الأولى أن تَقِرَّ على ذلك، فطلَّقها تطليقةً حتى إذا بقي من أجَلِها يسيرٌ قال: إن شئتِ راجعتُكِ وصبرتِ على الأَثَرة، وإن شئتِ تركتُكِ حتى يَخلُوَ أجَلُكِ، قالت: بل راجِعْني أَصبِرْ على الأَثَرة، فراجعها، ثم آثَرَ عليها، فلم تَصبِرْ على الأَثَرة فطلَّقها الأخرى، وآثَرَ عليها الشابةَ. قال: فذلك الصلحُ الذي بَلَغَنا أنَّ الله أنزل فيه: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا﴾ [النساء: 128] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3205 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے نکاح میں ایک معمر خاتون تھیں، تو انہوں نے ایک نوجوان عورت سے نکاح کر لیا اور اس کنواری کو پہلی بیوی پر ترجیح دینے لگے، تو ان کی پہلی بیوی نے اس پر راضی ہونے سے انکار کیا، چنانچہ انہوں نے اسے ایک طلاق دے دی یہاں تک کہ جب عدت ختم ہونے کے قریب تھی تو انہوں نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم سے رجوع کر لیتا ہوں بشرطیکہ تم اس ترجیح (امتیازی سلوک) پر صبر کرو، اور اگر چاہو تو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں یہاں تک کہ تمہاری عدت پوری ہو جائے، اس نے کہا: بلکہ آپ مجھ سے رجوع کر لیں میں اس پر صبر کر لوں گی، چنانچہ انہوں نے رجوع کر لیا لیکن وہ دوبارہ اس ترجیح پر صبر نہ کر سکیں تو انہوں نے اسے دوسری طلاق دے دی اور اس نوجوان بیوی کو ہی ترجیح دی، راوی کہتے ہیں: یہی وہ صلح ہے جس کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا﴾ اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی جانب سے زیادتی یا بے رخی کا خوف ہو، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ آپس میں کسی طرح صلح کر لیں [سورة النساء: 128]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3244]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3244] [ترقيم الشركة 3224] [ترقيم العلميه 3205]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں