المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
71. شَرْحُ مَعْنَى: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ)
آیت“اے ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے”کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3196
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود ووَهْب بن جَرير قالا: حدثنا شُعبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ تلا هذه الآية ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 102] ، قال:"والذي نفسي بيده لو أنَّ قَطْرةً من الزَّقُّوم قُطِرَت في بحار الأرض، لفَسَدَت". وفي حديث وهب بن جَرير:"لأمَرَّتْ على أهل الدنيا مَعايشَهم، فكيف بمن تكونُ طعامَه؟!" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3158 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3158 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 102] اور فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر زقوم (جہنم کا کڑوا درخت) کا ایک قطرہ زمین کے سمندروں میں گرا دیا جائے تو وہ روئے زمین کے تمام لوگوں کے جینے کے سامان کو فاسد (زہریلا) کر دے“، اور وہب بن جریر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ اہل دنیا کی معیشت اور خوراک کو تلخ و کڑوا کر دے، تو اس کا کیا حال ہوگا جس کا دائمی کھانا ہی یہی ہوگا؟!“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3196]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3196]
تخریج الحدیث: «لا يصحُّ مرفوعًا إلى النبي ﷺ مع ثقة رواته في الجملة غير عبد الرحمن بن الحسن في الإسناد الثاني وهو متابع، وقد خولف شعبةُ في وصله كما سيأتي. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي.» [ترقيم الرساله 3196] [ترقيم الشركة 3176] [ترقيم العلميه 3158]
الحكم على الحديث: لا يصحُّ مرفوعًا إلى النبي ﷺ
حدیث نمبر: 3197
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن سليمان بن الحارث، حدثنا عبيد الله بن موسى وأبو نُعيم قالا: حدثنا مِسعَر، عن زُبَيد، عن مُرَّة بن شَرَاحيل، عن عبد الله في قول الله ﷿: ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [آل عمران: 102] ، قال: أن يُطاعَ فلا يُعصَى، ويُذكَرَ فلا يُنسَى (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3159 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3159 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [سورة آل عمران: 102] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اللہ سے کماحقہ ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ) اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ ہو، اور اسے ہر وقت یاد رکھا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3197]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3197]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وزبيد: هو ابن الحارث الياميّ، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 3197] [ترقيم الشركة 3177] [ترقيم العلميه 3159]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
72. شَرْحُ آيَةِ: (كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ)
آیت“تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی”کی تشریح
حدیث نمبر: 3198
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد ابن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [آل عمران: 110] ، قال: هم الذين هاجَرُوا مع رسول الله ﷺ من مكَّة إلى المدينة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3160 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3160 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [سورة آل عمران: 110] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3198]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3198]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سماك بن حرب. وسيتكرر برقم (7140).» [ترقيم الرساله 3198] [ترقيم الشركة 3178] [ترقيم العلميه 3160]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3199
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو مُسلِم إبراهيم ابن عبد الله، حدثنا حجَّاج بن نُصَير، حدثنا أبو أُميَّة بن يعلى الثَّقَفي قال: سمعتُ موسى بنَ عُقْبة، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [آل عمران: 133] ، قال: حدثني إسحاق بن يحيى بن طَلْحة القرشي، عن عُبادةَ بن الصامت، عن أُبيِّ بن كعب، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن سَرَّه أَن يُشْرَفَ له البُنيانُ، وتُرفَعَ له الدرجات، فليَعفُ عمَّن ظَلَمَه، ويُعطِ من حَرَمَه، ويَصِلْ من قَطَعَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3161 - أبو أمية ضعفه الدارقطني وإسحاق لم يدرك عبادة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3161 - أبو أمية ضعفه الدارقطني وإسحاق لم يدرك عبادة
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”اور اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو۔“ [سورة آل عمران: 133] کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا: ”جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ (جنت میں) اس کے لیے بلند و بالا عمارتیں بنائی جائیں اور اس کے درجات بلند کیے جائیں، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے معاف کر دے جس نے اس پر ظلم کیا، اسے عطا کرے جس نے اسے محروم رکھا اور اس سے تعلق جوڑے جس نے اس سے قطع تعلقی کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3199]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، حجاج بن نصير ضعيف، وأبو أمية بن يعلى -واسمه إسماعيل- متروك الحديث، وأما إسحاق بن يحيى؛ فإن كان ابن طلحة القرشي كما وقع للمصنف هنا، فإن هذا متروك الحديث، وإن كان الأنصاري -كما وقع في رواية الطبراني- فإنه إسحاق بن يحيى بن الوليد ابن عبادة، وهذا هو ...» [ترقيم الرساله 3199] [ترقيم الشركة 3179] [ترقيم العلميه 3161]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
73. خُطْبَةُ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نبی ﷺ کی وفات کے وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ
حدیث نمبر: 3200
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري قال: أخبرني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن قال: كان ابن عبَّاس يحدِّث: أنَّ أبا بكر الصِّدِّيق دخل المسجدَ وعمرُ بنُ الخطَّاب يحدِّث الناس، فأَتى البيتَ الذي تُوفِّي فيه رسولُ الله ﷺ، فكَشَفَ عن وجهه بُرْدَ حِبَرةٍ وكان مُسجًّى به، فنظر إليه فأكَبَّ عليه ليقبِّلَ وجهَه، وقال: والله لا يَجمَعُ اللهُ عليك مَوتَتينِ بعد موتتِك التي لا تموتُ بعدَها. ثم خرج إلى المسجد وعمرُ يُكلِّم الناسَ، فقال أبو بكر: اجلِسْ يا عمر، فأَبى، فكلَّمه مرَّتين أو ثلاثًا، فأَبى، فقام فتَشهَّد، فلما قَضَى تشهُّدَه قال: أَمَّا بعدُ، فمن كان يَعبُدُ محمدًا، فإنَّ محمدًا قد مات، ومَن كان يَعبُد اللهَ، فإنَّ الله حيٌّ لا يموت، ثم تلا ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ [الأنبياء: 34] ، ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ تلا إلى ﴿الشَّاكِرِينَ﴾ [آل عمران: 144] ، فما هو إِلَّا أَنْ تَلَاها فأيقَنَ الناسُ بموت رسول الله ﷺ، حتى قال قائل: لم يَعلَمِ الناسُ أنَّ هذه الآيةَ أُنزِلت حتى تَلَاها أبو بكر. قال الزُّهْري: فأخبرني سعيد بن المسيّب: أنَّ عمر بن الخطَّاب قال: لمّا تلاها أبو بكر: عَقِرتُ حتى خَرَرتُ إلى الأرض، وأيقَنتُ أنَّ رسول الله ﷺ قد مات (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3162 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3162 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، پس وہ اس حجرے میں تشریف لے گئے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے وہ یمنی چادر ہٹائی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھانپا گیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور بوسہ لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر جھک گئے اور کہا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر اس موت کے بعد جو آپ کو آ چکی ہے، کبھی دوسری موت جمع نہیں فرمائے گا۔“ پھر وہ مسجد کی طرف نکلے جبکہ سیدنا عمر لوگوں سے کلام کر رہے تھے، سیدنا ابوبکر نے فرمایا: ”اے عمر! بیٹھ جاؤ“، انہوں نے انکار کیا، ابوبکر نے دو یا تین بار کہا مگر وہ نہ مانے، چنانچہ ابوبکر کھڑے ہوئے اور تشہد (خطبہ) پڑھا، جب وہ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امابعد! جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی“، پھر انہوں نے یہ آیات تلاوت فرمائیں ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ [سورة الأنبياء: 34] اور ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ [سورة آل عمران: 144] «شاكرين» تک، جیسے ہی انہوں نے یہ آیات تلاوت کیں لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا یقین آگیا، یہاں تک کہ کہنے والے نے کہا کہ لوگوں کو پتا ہی نہیں تھا کہ یہ آیت نازل ہو چکی ہے یہاں تک کہ ابوبکر نے اسے تلاوت کیا۔ زہری کہتے ہیں کہ مجھے سعید بن مسیب نے بتایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب ابوبکر نے یہ آیت تلاوت کی تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی یہاں تک کہ میں زمین پر گر پڑا اور مجھے یقین ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3200]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3200]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،هو بطوله في "مصنف عبد الرزاق" (9755).» [ترقيم الرساله 3200] [ترقيم الشركة 3180] [ترقيم العلميه 3162]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
74. قِصَّةُ غَزْوَةِ أُحُدٍ
غزوۂ اُحد کا واقعہ
حدیث نمبر: 3201
أخبرني أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سليمان بن داود بن علي بن عبد الله بن عبَّاس بن عبد المطَّلب، حدثنا عبد الرحمن ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتْبة، عن ابن عبَّاس أنه قال: ما نُصِرَ النبيُّ ﷺ في موطنٍ كما نُصِر في أُحد، قال: فأنكَرْنا ذلك، فقال ابن عبَّاس: بيني وبين مَن أنكَرَ ذلك كتابُ الله ﷿، إنَّ الله ﷿ يقول في يوم أُحد: ﴿وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ﴾، يقول ابن عبَّاس: والحَسُّ: القتل ﴿حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ (آل عمران: 152] ، وإنما عَنَى بهذا الرُّماةَ، وذلك أنَّ النبي ﷺ أقامهم في موضع ثم قال:"احمُوا ظهورَنا، فإن رأيتُمونا نُقتَلُ فلا تَنصُرونا، وإن رأيتُمونا قد غَنِمْنا فلا تَشرَكُونا"، فلما غَنِمَ رسولُ الله ﷺ وأباحوا عسكرَ المشركين، انكَفَتَ الرُّماةُ جميعًا فدخلوا في العسكر يَنتهِبون، وقد التَقَتْ صفوفُ أصحاب النبي ﷺ فهُمْ هكذا -وشبَّك أصابع يديه- والْتَبسوا، فلما أخَلَّ الرماة تلك الخَلَّةَ التي كانوا فيها، دخل الخيلُ من ذلك الموضع على أصحاب النبي ﷺ، فضَرَبَ بعضُهم بعضًا والْتَبَسوا، وقُتِل من المسلمين ناس كثير، وقد كان لرسول الله ﷺ وأصحابِه أولُ النهار حتى قُتل من أصحاب لواء المشركين سبعةٌ أو تسعةٌ. وجالَ المسلمون جولةً نحو الجبل، ولم يَبلغُوا -حيث يقول الناسُ- الغابَ، إنما كان تحت المِهْراس (1) ، وصاح الشيطان: قُتِلَ محمد، فلم نشكَّ فيه أنه حقٌّ، فما زلنا كذلك ما نشكُّ أنه قد قُتِلَ حتى طَلَعَ رسول الله ﷺ بين السَّعدَين (2) نعرفُه بتكفُّئِه إذا مشى، قال: ففَرِحْنا حتى كأنه لم يُصِبْنا ما أصابنا، قال: فرَقِيَ نحونا وهو يقول:"اشتَدَّ غضب الله على قوم دَمَّوا وجهَ رسول الله"، قال: ويقول مرةً أخرى:"اللهمَّ إنه ليس لهم أن يَعلُونا"، حتى انتهى إلينا. قال: فمَكَثَ ساعةً، فإذا أبو سفيان يصيحُ في أسفل الجبل: اعلُ هُبَلُ، اعلُ هُبَلُ - يعني: آلهته - أين ابن أبي كَبْشةَ؟ أين ابنُ أبي قُحَافة؟ أين ابنُ الخطَّاب؟ فقال عمر: يا رسول الله، ألا أجيبهُ؟ قال:"بلى" فلما قال: اعلُ هبلُ، قال عمر: اللهُ أعلى وأجلُّ، فقال أبو سفيان: يا ابن الخطَّاب، إنه يوم الصَّمْت، فعاد فقال: أين ابنُ أبي كَبْشة؟ أين ابنُ أبي قُحَافة؟ أين ابنُ الخطَّاب؟ فقال عمر: هذا رسول الله ﷺ، وهذا أبو بكر، وها أنا ذا عمر، فقال أبو سفيان: يومٌ بيوم بَدْر، الأيام دُوَلٌ، والحربُ سِجَالٌ، فقال عمر: لا سواءَ، قَتْلانا في الجنة وقَتلاكم في النار، قال: إنكم لتَزعُمون ذلك، لقد خِبْنا إذًا وخَسِرُنا، ثم قال أبو سفيان: أمَا إنكم سوف تَجِدُون في قتلاكم مُثْلةً، ولم يكن ذلك عن رأي سَرَاتِنا، ثم أدركته حِميَّةُ الجاهلية فقال: أمَا إنه إذا كان ذاك لم نَكرَهْه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3163 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3163 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: کسی بھی مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ویسی مدد نہیں کی گئی جیسی احد کے دن کی گئی، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرے اور اس شخص کے درمیان جو اس بات کا انکار کرے اللہ عزوجل کی کتاب ہے، اللہ عزوجل احد کے دن کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ﴾ ”اور یقیناً اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے انہیں (کافروں کو) قتل کر رہے تھے“ [سورة آل عمران: 152] ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «الحَسُّ» سے مراد قتل کرنا ہے، ﴿حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی دکھائی اور حکم کے بارے میں جھگڑا کیا اور اس کے بعد نافرمانی کی کہ اللہ نے تمہیں وہ دکھا دیا جو تم چاہتے تھے، تم میں سے کچھ دنیا چاہتے تھے اور کچھ آخرت چاہتے تھے، پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور یقیناً اس نے تمہیں معاف کر دیا، اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔“ اس آیت سے مراد تیر انداز تھے، اور واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مخصوص جگہ پر مقرر کیا اور فرمایا: ”ہماری پشت کی حفاظت کرو، اگر تم دیکھو کہ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے تب بھی ہماری مدد کو نہ آنا، اور اگر دیکھو کہ ہم نے مالِ غنیمت حاصل کر لیا ہے تو (بغیر حکم کے) اس میں شریک نہ ہونا“، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت حاصل کیا اور مشرکین کا لشکر پسپا ہو گیا تو تمام تیر انداز وہاں سے مڑ گئے اور مال لوٹنے کے لیے لشکر میں داخل ہو گئے، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صفیں آپس میں گتھم گتھا تھیں اور وہ اس طرح الجھ گئے تھے -ابن عباس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر کے دکھائیں-، پس جب تیر اندازوں نے اس جگہ کو خالی چھوڑ دیا جہاں وہ متعین تھے، تو وہاں سے مشرکین کے گھڑ سوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر حملہ آور ہوئے، جس سے ایسی افراتفری مچی کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور مسلمانوں کے ہاتھوں خود اپنے ہی لوگ زخمی ہوئے اور بہت سے مسلمان شہید ہو گئے۔ دن کے آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا غلبہ تھا یہاں تک کہ مشرکین کے جھنڈا برداروں میں سے سات یا نو آدمی مارے گئے تھے۔ پھر مسلمانوں کو پہاڑ کی طرف پسپائی ہوئی اور وہ وہاں تک نہیں پہنچے تھے جہاں لوگ «الغاب» کہتے ہیں بلکہ وہ «المِهْراس» (پہاڑی نالے) کے نیچے تھے، اسی دوران شیطان نے پکارا: ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) شہید کر دیے گئے“، ہمیں اس کے سچ ہونے میں کوئی شک نہ رہا، ہم اسی حالت میں تھے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «السَّعدَين» (سیدنا سعد بن معاذ اور سیدنا سعد بن عبادہ) کے درمیان نمودار ہوئے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی مخصوص چال سے پہچان گئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم اتنے خوش ہوئے کہ جیسے ہمیں کوئی تکلیف پہنچی ہی نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اوپر تشریف لائے اور فرما رہے تھے: ”اس قوم پر اللہ کا غضب شدید ہوا جنہوں نے اللہ کے رسول کے چہرے کو خون آلود کر دیا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اے اللہ! ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہم پر غالب آئیں“، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچ گئے اور تھوڑی دیر ٹھہرے۔ اچانک ابوسفیان پہاڑ کے نیچے سے چلانے لگا: «اعلُ هبل، اعلُ هبل» یعنی اے ہبل (بت) تو بلند ہو جا، پھر پکارا: ”ابن ابی کبشہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟ ابن ابی قحافہ (ابوبکر) کہاں ہیں؟ ابن خطاب کہاں ہیں؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، چنانچہ جب اس نے کہا «اعل هبل» تو سیدنا عمر نے جواب دیا: ”اللہ ہی سب سے بلند اور بزرگ ہے“، ابوسفیان نے کہا: اے ابن خطاب! یہ دن خاموشی کا ہے (یعنی بدر کا جواب ہے)، پھر اس نے دوبارہ پکارا: ”ابن ابی کبشہ کہاں ہیں؟ ابن ابی قحافہ کہاں ہیں؟ ابن خطاب کہاں ہیں؟“ سیدنا عمر نے جواب دیا: ”یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہ ابوبکر ہیں اور یہ میں عمر ہوں“، ابوسفیان نے کہا: ”یہ دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، ایام بدلتے رہتے ہیں اور لڑائی ڈول کی طرح ہے (کبھی ادھر کبھی ادھر)“، سیدنا عمر نے فرمایا: ”ہم اور تم برابر نہیں، ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے آگ میں“، ابوسفیان نے کہا: ”تمہارا یہی دعویٰ ہے، اگر ایسا ہے تو پھر ہم ہی خسارے میں رہے“، پھر ابوسفیان نے کہا: ”عنقریب تم اپنے مقتولوں میں کچھ «مُثْلة» (ناک کان کاٹنا) پاؤ گے، یہ ہمارے سرداروں کی رائے تو نہ تھی (لیکن جب ایسا ہوا) تو ہمیں یہ برا بھی نہ لگا“ کیونکہ اسے جاہلیت کی حمیت نے آ لیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3201]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3201]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزناد.» [ترقيم الرساله 3201] [ترقيم الشركة 3181] [ترقيم العلميه 3163]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3202
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وعلي بن عبد العزيز: قالا: حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، عن أبي طَلْحة الأنصاري قال: رفعتُ رأسي يومَ أُحد، فجعلتُ أنظر وما منهم أحد إلَّا وهو يَمِيدُ تحت حَجَفَتِه من النُّعاس، فذلك قوله ﷿: ﴿ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ﴾ الآية [آل عمران: 154] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3164 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3164 - صحيح
سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”غزوہ احد کے دن میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں (ادھر ادھر) دیکھنے لگا، اس وقت (صحابہ کرام میں سے) کوئی بھی ایسا نہ تھا جو اونگھ کے غلبے کی وجہ سے اپنی ڈھال کے نیچے جھوم نہ رہا ہو، اور یہی اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ﴾ ”پھر اس نے غم کے بعد تم پر امن و اطمینان (کی کیفیت) نازل فرمائی یعنی ایسی نیند جو تم میں سے ایک گروہ کو ڈھانپ رہی تھی“ [سورة آل عمران: 154] ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3202]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3202]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وأخرجه الترمذي (3007)، والنسائي (11134) من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد. والنسائي ليس في حديثه ذكر الآية. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.» [ترقيم الرساله 3202] [ترقيم الشركة 3182] [ترقيم العلميه 3164]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
75. أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ فِي جَوْفِ طَيْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ
شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے جسموں میں جنت کی نہروں میں سیر کرتی ہیں
حدیث نمبر: 3203
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن محمد بن إسحاق، عن إسماعيل بن أُمية، عن أبي الزُّبير، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ:"لمَّا أُصيبَ إخوانُكم بأُحدٍ، جعل الله أرواحَهم في جوفِ طيرٍ تَرِدُ أنهارَ الجنة وتأكل من ثمارِها، وتأوي إلى قناديلَ من ذهب معلَّقة في ظِلِّ العَرْش، فلما وَجَدُوا طِيبَ مَأكَلِهم ومَشرَبهم ومَقِيلهم قالوا: من يبلَّغ إخوانَنا عنا أنَّا أحياءٌ في الجنة نُرزَقُ، لئلَّا يَزهَدُوا في الجهاد، ولا يَنكُلوا في الحرب؟ فقال الله ﷿: أنا أبلِّغُهم عنكم، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ الآية [آل عمران: 169] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3165 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3165 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے بھائی احد (کے میدان) میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے جوف (پوپلے جسم) میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر آتی ہیں، اس کے پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سائے میں لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، پس جب انہوں نے اپنے کھانے، پینے اور آرام گاہ کی پاکیزگی و لطافت کو دیکھا تو کہنے لگے: ہمارے بھائیوں کو ہماری طرف سے کون یہ خبر پہنچائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جا رہا ہے، تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ کے وقت پیٹھ نہ پھیریں؟ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: میں تمہاری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچاتا ہوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں“ [سورة آل عمران: 169] ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3203]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3203]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. وهو مكرر (2475).» [ترقيم الرساله 3203] [ترقيم الشركة 3183] [ترقيم العلميه 3165]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3204
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا أبو سعيد المؤدِّب، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنها قالت لعبد الله بن الزُّبير: يا ابن أُختي، أمَا والله إنَّ أباك وجدَّك -يعني أبا بكر والزُّبير- لَمِن الذين قال الله ﷿ ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3166 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3166 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم! تمہارے والد (سیدنا زبیر) اور تمہارے نانا (سیدنا ابوبکر صدیق) یقیناً ان لوگوں میں شامل تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ ”جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا اس کے بعد کہ انہیں (غزوہ احد میں) زخم پہنچ چکا تھا“ [سورة آل عمران: 172] ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3204]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3204]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو سعيد المؤدب: هو محمد بن مسلم بن أبي الوضَّاح. وسيأتي مكررًا برقم (4367).» [ترقيم الرساله 3204] [ترقيم الشركة 3184] [ترقيم العلميه 3166]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
76. كَانَ آخِرُ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ (حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ)
جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا: اللہ مجھے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے
حدیث نمبر: 3205
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا أحمد بن إسحاق التَّميمي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي حَصِين، عن أبي الضُّحَى، عن ابن عبَّاس قال: آخر كلام إبراهيم حين أُلقِيَ في النار: حَسْبيَ الله ونِعمَ الوكيلُ، وقال نبيُّكم ﷺ مثلَها: ﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ [آل عمران: 173] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3167 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3167 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلام «حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ”مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے“ تھا، اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کے کلمات کہے تھے: ﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ ”وہ لوگ جن سے (مخالف) لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں، سو تم ان سے ڈرو، تو اس بات نے ان کے ایمان کو مزید بڑھا دیا اور انہوں نے کہا: ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے“ [سورة آل عمران: 173] ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3205]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3205]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن أبي دارم شيخ المصنف، وهو لم ينفرد به، فقد توبع.» [ترقيم الرساله 3205] [ترقيم الشركة 3185] [ترقيم العلميه 3167]
الحكم على الحديث: خبر صحيح