🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. كَانَ آخِرُ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ (حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ)
جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا: اللہ مجھے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3206
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن خَيْثمة، عن عبد الله قال: والذي لا إله غيرُه، ما على الأرض نفسٌ إلَّا الموتُ خيرٌ لها، إن كان مؤمنًا فإنَّ الله يقول: ﴿لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [آل عمران: 198] ، وإن كان فاجرًا فإنَّ الله يقول: ﴿إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا﴾ [آل عمران:178] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3168 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! روئے زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے مگر یہ کہ موت اس کے لیے (زندگی سے) بہتر ہے، کیونکہ اگر وہ مومن ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں [سورة آل عمران: 198] ، اور اگر وہ بدکار ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا﴾ ہم تو انہیں اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں [سورة آل عمران: 178]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3206]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، خيثمة» [ترقيم الرساله 3206] [ترقيم الشركة 3186] [ترقيم العلميه 3168]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات إلّا أنه منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3207
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو عمرو المُستَملي، حدثنا أبو هشام الرِّفاعي، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدثنا أبو إسحاق، حدثنا أبو وائل قال: قال عبد الله: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران:180] قال: ثُعبانٌ له زَبيبتان يَنهَشُه في قبره، يقول: أنا مالُك الذي بَخِلتَ به (1) . سمعت يحيى بن منصور يقول: سمعت أبا عمرو المُستَملي يقول: سمعت أبا هشام الرِّفاعي يقول: سمعت أبا بكر بن عيَّاش يقول: والله ما كَذَبَتُ على أبي إسحاق، ولا أرى أبا إسحاق كَذَبَ على أبي وائل، ولا أرى أبا وائل كَذَبَ على عبد الله. رواه الثَّوْريُّ عن أبي إسحاق:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3169 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ"" {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَجِيئُهُ ثُعْبَانٌ فَيَنْقُرُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَتَطَوَّقُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ جس مال میں انہوں نے بخل کیا تھا، قیامت کے دن وہی ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا [سورة آل عمران: 180] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (وہ طوق) ایک ایسا اژدہا ہوگا جس کے سر پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اسے اس کی قبر میں ڈسے گا اور کہے گا: میں وہی تمہارا مال ہوں جس میں تم نے بخل کیا تھا۔ یحییٰ بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابوعمرو مستملی کو سنا، انہوں نے ابوہشام رفاعی کو سنا، انہوں نے ابوبکر بن عیاش کو سنا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے ابواسحاق پر جھوٹ نہیں باندھا، اور میں نہیں سمجھتا کہ ابواسحاق نے ابو وائل پر جھوٹ بولا ہو، اور نہ ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابو وائل نے سیدنا عبداللہ بن مسعود پر جھوٹ بولا ہو۔ اسے امام ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3207]
تخریج الحدیث: «منكر بهذا السياق، علَّته أبو هشام الرفاعي -واسمه محمد بن يزيد بن محمد- وهو ليس بالقوي، وقد تفرّد بذِكْر القبر فيه، خالفه أبو بكر بن أبي شيبة في "مصنفه" 3/ 213 فرواه عن أبي بكر بن عياش دون ذكر القبر، كما في رواية سفيان الثوري عن أبي إسحاق التالية عند ...» [ترقيم الرساله 3207] [ترقيم الشركة 3187] [ترقيم العلميه 3169]

الحكم على الحديث: منكر بهذا السياق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3208
أخبرَناه أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي وائل، عن عبد الله في قوله: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ قال: قال عبد الله: يجيئُه ثعبانٌ فيَنقُر رأسَه ثم يَتطوَّق في عُنقِه، ثم يقول: أنا مالُكَ الذي بَخِلتَ به (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة آل عمران: 180] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس (بخیل) کے پاس ایک اژدہا آئے گا جو اس کے سر کو نوچے گا، پھر اس کی گردن کا طوق بن جائے گا اور کہے گا: میں تمہارا وہ مال ہوں جس میں تم نے بخل کیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3208]
تخریج الحدیث: «خبر موقوف صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة -وهو موسى بن مسعود النهدي- وقد توبع. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 3208] [ترقيم الشركة 3188]

الحكم على الحديث: خبر موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
جنت میں کوڑے کے برابر جگہ بھی دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3209
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله الدَّقاق ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا أبو بدر شُجاع بن الوليد، حدثنا محمد بن عمرو ابن عَلْقمة، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ موضعَ سَوْطٍ في الجنة لخيرٌ من الدنيا وما فيها" اقرؤوا إن شئتم: ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ [آل عمران: 185] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3170 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ان سب سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ پس جسے آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ یقیناً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے [سورة آل عمران: 185] ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3209]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.» [ترقيم الرساله 3209] [ترقيم الشركة 3189] [ترقيم العلميه 3170]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3210
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا محمد بن عبد الملك بن عبد العزيز بن جُرَيج، عن أبيه قال: أخبرني ابن أبي مُلَيْكة، أنَّ حُميدَ ابن عبد الرحمن أخبره: أنَّ مروان بَعَثَ إلى ابن عبَّاس: والله لَئِنْ كان كلُّ امرئٍ منّا إن فَرِحَ بما أُوتي وحُمِدَ بما لم يفعل عُذِّبَ، لنُعذَّبنَّ جميعًا! فقال ابن عبَّاس: إنما نزلت هذه الآيةُ في أهل الكتاب، أتاه اليهود فسألهم النبيُّ ﷺ عن شيءٍ فَكَتَمُوه، ثم أتَوْه، فسألهم فأخبروه بغير ذلك، فخرجوا ورأَوْا أن قد أخبروه بما سألهم عنه، واستَحمَدوا بذلك وفَرِحوا بما أَتَوْا من كتمانهم إياه ممّا سألهم عنه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3171 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مروان نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ: اللہ کی قسم! اگر ہم میں سے ہر اس شخص کو عذاب دیا گیا جو اپنی عطا کردہ چیز پر خوش ہوا اور اس کام پر اپنی تعریف چاہی جو اس نے نہیں کیا، تو ہم سب کو عذاب دیا جائے گا! اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ آیت تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، (واقعہ یہ ہے کہ) یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے چھپا لیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر غلط بات بتا دی، وہ (وہاں سے) یہ ظاہر کر کے نکلے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ سب بتا دیا ہے جو آپ نے پوچھا تھا، اور اس پر انہوں نے اپنی تعریف چاہی اور اپنی اس حرکت پر خوش ہوئے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حقیقت چھپا لی تھی جس کے بارے میں آپ نے ان سے سوال کیا تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3210]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن عبد الملك فإنه مجهول لم يرو عنه غير روح بن عبادة، وقد توبع على حديثه هذا.» [ترقيم الرساله 3210] [ترقيم الشركة 3190] [ترقيم العلميه 3171]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3211
حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم السَّكَني مِرْس (2) البخاريُّ بنَيْسابور، حدثنا أبو علي صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا محمد بن عمر بن الوليد الفَحَّام، حدثنا يحيى بن آدم، عن ابن المبارَك قال: سمعت إبراهيم بن طَهْمان وتلا قولَ الله ﷿: ﴿الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ﴾ [آل عمران: 191] فقال: حدثني حُسين المُكْتِب، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن عمران بن حُصَين: أنه كان به البَواسيرُ، فأمره النبيُّ ﷺ أن يصلّيَ على جَنْب (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3172 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں بواسیر کا عارضہ لاحق تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم فرمایا، اور اسی کے متعلق اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ﴾ وہ لوگ جو کھڑے، بیٹھے اور اپنے پہلوؤں کے بل (لیٹے ہوئے) اللہ کو یاد کرتے ہیں [سورة آل عمران: 191] ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3211]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محمد بن عمر بن الوليد، ويغلب على ظننا أنَّ ذكر الفحّام في اسمه وهمٌ، فإنه لا يُعرف بهذه النسبة في كتب التراجم، والفحّام آخر في طبقته تقريبًا واسمه: محمد بن الوليد بن أبي الوليد، وهو لا بأس به أيضًا، وكلاهما قد روى عن يحيى ابن آدم.» [ترقيم الرساله 3211] [ترقيم الشركة 3191] [ترقيم العلميه 3172]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3212
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الشَّيباني، حدثني أبي، حدثنا عبد الله بن الجرَّاح القُهُسْتاني، حدثنا الحارث بن مسلم، عن بَحْر السَّقَاء، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله؛ قال (2) : قلتُ له: أخبرني عن قول الله ﷿: ﴿يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا﴾ [المائدة: 37] قال: أخبَرني رسول الله ﷺ أنهم الكفّار. قال: قلتُ لجابر: فقوله: ﴿إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ﴾ [آل عمران: 192] ، قال: اللهُ قد أَخزاه حين أحرَقَه بالنار، أوَدُونَ ذلك الخِزيُ؟! (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3173 - بحر السقاء هالك
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا﴾ وہ آگ سے نکلنا چاہیں گے لیکن اس سے ہرگز نہیں نکل سکیں گے [سورة المائدة: 37] کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اس سے مراد کفار ہیں۔ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے (دوبارہ) پوچھا کہ (پھر) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد (کا کیا مطلب ہے): ﴿إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ﴾ اے ہمارے رب! یقیناً تو نے جسے آگ میں ڈال دیا، اسے رسوا کر دیا [سورة آل عمران: 192] ، تو انہوں نے فرمایا: اللہ نے اسے اسی وقت رسوا کر دیا جب اسے آگ میں جلایا، بھلا کیا اس (آگ کے عذاب) سے بڑھ کر بھی کوئی رسوائی ہو سکتی ہے؟ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3212]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا من أجل بحر السَّقّاء: وهو بحر بن كُنيز، وقال الذهبي في "تلخيصه": بحر هالك.» [ترقيم الرساله 3212] [ترقيم الشركة 3192] [ترقيم العلميه 3173]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا من أجل بحر السَّقّاء: وهو بحر بن كُنيز
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3213
أخبرنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهانَ على الصَّفَا، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد المكِّي، حدثنا يعقوب بن حُميد، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن عمرو بن دينار، عن سَلَمة بن أبي سَلَمة -رجل من وَلَد أم سلمة- عن أم سَلَمة أنها قالت: يا رسول الله، لا أَسْمَعُ اللهَ ذَكَرَ النساء في الهجرة بشيء! فأنزل الله ﷿: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ﴾ [آل عمران: 195] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3174 - على شرط البخاري
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے اللہ تعالیٰ کو ہجرت کے تذکرے میں عورتوں کا (اس طرح) ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا (جیسے مردوں کا ذکر ہے)! تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ﴾ تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم ایک دوسرے میں سے ہی ہو [سورة آل عمران: 195] ۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
(امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے ابواحمد حافظ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ بخاری کی کتاب میں دو حدیثیں ہیں جن میں یعقوب نامی راوی سفیان اور دراوردی سے روایت کرتا ہے، ابواحمد کے نزدیک وہ یعقوب بن حمید ہی ہیں، واللہ اعلم)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3213]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله يعقوب بن حميد يُعتبَر به، وقد توبع، وسلمة بن أبي سلمة، هكذا نسب إلى جدِّ أبيه: وهو سلمة بن عبد الله بن عمر بن أبي سلمة، روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات".» [ترقيم الرساله 3213] [ترقيم الشركة 3193] [ترقيم العلميه 3174]

الحكم على الحديث: إسناده حسن إن شاء الله يعقوب بن حميد يُعتبَر به
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3213M
سمعت أبا أحمد الحافظ، وذاكَرَني بحديثين في كتاب البخاري: يعقوب عن سفيان، ويعقوب عن الدَّرَاوَرْدي، فقال أبو أحمد هو يعقوب بن حُمَيد، فالله أعلم (2) .
میں نے ابواحمد حافظ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا، انہوں نے مجھ سے صحیح بخاری کی دو ایسی احادیث کے بارے میں مذاکرہ کیا جن میں (راوی) یعقوب، سفیان سے اور یعقوب، دراوردی سے روایت کرتے ہیں۔ ابواحمد نے فرمایا: (ان سندوں میں) یہ یعقوب بن حمید (بن کاسب) ہیں، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3213M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 3213M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. دَوَاءٌ بِنُصْرَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ دَوَاءٍ بِنُصْرَةِ النَّاسِ
اللہ کی مدد سے ملنے والا علاج لوگوں کی مدد سے ملنے والے علاج سے بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3214
أخبرنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا عبد الله بن علي الغَزَّال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا مصعب بن ثابت، عن عامر بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه قال: نَزَلَ بالنَّجَاشي عدوٌّ من أرضهم، فجاءه المهاجرون فقالوا: إنا نحبُّ أن نخرجَ إليهم حتى نقاتلَ معك وترى جُرْأَتَنا، ونَجزِيَك بما صنعتَ بنا. فقال: لَأدْواءٌ بنُصْرة الله، خيرٌ من دَوَاءٍ بنُصْرة الناس. قال: وفيه نزلت: ﴿وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ﴾ [آل عمران: 199] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3175 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ شاہِ نجاشی پر ان کی اپنی زمین سے ایک دشمن نے حملہ کر دیا، تو مہاجرین (صحابہ) ان کے پاس آئے اور عرض کی: ہم چاہتے ہیں کہ ان کے مقابلے کے لیے نکلیں تاکہ آپ کے ساتھ مل کر جنگ کریں اور آپ ہماری جرات دیکھ لیں، اور (اس طرح) ہم آپ کے اس احسان کا بدلہ بھی چکا سکیں جو آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ اس پر نجاشی نے جواب دیا: اللہ کی نصرت کے ساتھ ملنے والی تکلیفیں، لوگوں کی مدد سے ملنے والی راحت سے بہتر ہیں۔ (سیدنا زبیر فرماتے ہیں کہ) اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ﴾ اور یقیناً اہل کتاب میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس (کتاب) پر بھی جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی، وہ اللہ کے حضور عاجزی کرنے والے ہیں [سورة آل عمران: 199] ۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3214]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبد الله بن علي الغزَّال مجهول، ومصعب بن ثابت» [ترقيم الرساله 3214] [ترقيم الشركة 3194] [ترقيم العلميه 3175]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں