🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. سَيَأْتِي زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ
عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب آدمی کو بے بسی اور گناہ گاری کے درمیان انتخاب کرنا پڑے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8557
حدَّثَناه أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد بن العوّام، عن داود بن أبي هند، عن سعيد بن أبي جَبيرة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"سيأتي على الناسٌ زمان يُخيَّر فيه الرجلُ بين العَجْزِ والفُجور، فمن أدرك منكم ذلك الزمان فليخترِ العجز على الفجور" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی کو بے بسی اور گناہگاری کے درمیان اختیار دیا جائے گا، پس تم میں سے جو کوئی وہ زمانہ پائے اسے چاہیے کہ وہ فجور کے مقابلے میں عجز کو ترجیح دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8557]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف شاذٌّ، لمخالفة عباد بن العوام جمعًا من ثقات أصحاب داود بن أبي هند في تسمية شيخه كما هو مبيَّن في الحديث السابق، وسعيد بن أبي جبيرة هذا لا يعرف إلا في هذا الحديث عند المصنف، ولم نقف له على ترجمة، وفي هذه الطبقة من شيوخ داود سعيدُ ...» [ترقيم الرساله 8557] [ترقيم الشركة 8455]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف شاذٌّ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8558
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، أخبرني معاوية بن صالح، حدثني أبو الزاهرية، عن كَثير بن مُرَّة، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"ليَعْشَينَّ أمَّتي من بعدي فتنٌ كقِطَع الليلِ المُظلِم، يُصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبحُ كافرًا، يبيعُ أقوامٌ دينَهم بعَرَضٍ من الدنيا قليلٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهده الحديث الذي يعرِّف هذا المتنَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8354 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کو میرے بعد ایسے فتنے ڈھانپ لیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے، آدمی ان میں صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر، اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، لوگ دنیا کے تھوڑے سے مال کے بدلے اپنا دین بیچ ڈالیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کا شاہد وہ حدیث ہے جو اس متن کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8558]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح: وهو كاتب الليث أبو الزاهرية هو حدير بن كريب الحضرمي» [ترقيم الرساله 8558] [ترقيم الشركة 8456] [ترقيم العلميه 8354]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8559
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن يعقوب. وقد حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث وابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سِنَان ابن سعد، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"بينَ يَدَي الساعةِ فتنٌ كَقِطَع الليل المُظلم، يصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبح كافرًا، يبيعُ أقوامٌ دينَهم بعَرَضٍ من الدنيا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8355 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے، آدمی ان میں صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، لوگ دنیا کے (تھوڑے سے) مال کے بدلے اپنا دین بیچ ڈالیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8559]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل سنان بن سعد، فإنه يصلح للاعتبار» [ترقيم الرساله 8559] [ترقيم الشركة 8457] [ترقيم العلميه 8355]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. خُطْبَةُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي الْفِتْنَةِ
فتنوں کے متعلق سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خطبہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8560
أخبرنا أبو العباس السَّيَّاري بمَرُو، أخبرنا أبو المُوجّه، أخبرنا عَبْدان (2) ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي نضرة، عن أبي فراس قال: قال عمر بن الخطاب: ألا أيُّها الناس إنا كنا نَعرِفُكُم إِذْ فينا رسول الله ﷺ وَإِذْ يَنزِلُ الوحيُ وإذْ يُنبئنا من أخباركم، ألا وإن النبي ﷺ قد انطَلق ورُفِع الوحيُ، وإنما نعرفُكم بما أقولُ لكم، ألا ومن يُظهِرُ منكم خيرًا ظننا به خيرًا وأحببناه عليه، ومن يُظهِرُ منكم شرًّا ظننا به شرًا وأبغضناه عليه، سرائركم فيما بينكم وبين ربِّكم، ألا وقد أتى عليَّ زمانٌ وأنا أحسَبُ مَن قرأَ القرآن يريد به الله وما عنده، ولقد خُيِّل إليَّ بأَخَرةٍ أنَّ قومًا يقرؤونه يريدون ما عند الناس، ألا فأريدوا ما عند الله بقراءتِكم وبعملِكم، ألا وإنِّي -والله- ما أبعثُ عُمّالي ليَضرِبوا أبشارَكم ويأخذوا أموالَكم، ولكنّي أبعثُهم ليعلِّموكم دينكم وسُننكم، ويعدلوا بينكم ويَقسِموا فيكم فَيْئَكم، ألا من فُعِلَ به شيءٌ من ذلك فليَرفَعه إليَّ، والذي نفسُ عمرَ بيده لأقصَّنَّه منه. فَوَثَبَ عمرُو بن العاص فقال: يا أمير المؤمنين، أرأيت لو أنَّ رجلًا من المسلمين كان على رَعِيَّة، فأدَّب بعض رعيَّتِه، إنك لمُقتصُّه منه؟ قال: أنَّى لا أقتصُّه وقد رأيتُ رسول الله ﷺ يَقُصُّ من نفسه؛ ألا لا تضربوهم فتُذِلُّوهم، ولا تمنعوهم حقَّهم فتُكفِّروهم، ولا تُجبِروهم (1) فتَفتِنُوهم، ولا تُنزلوهم الغِياضَ فتُضيِّعوهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8356 - على شرط مسلم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اے لوگو! ہم تمہیں اس وقت پہچانتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے اور وحی نازل ہوتی تھی اور وہ ہمیں تمہاری خبریں دے دیا کرتی تھی، اب جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا، تو اب ہم تمہیں صرف ان باتوں سے پہچانیں گے جو میں تمہارے سامنے کہہ رہا ہوں؛ خبردار! تم میں سے جو کوئی (ظاہراً) خیر کرے گا ہم اس کے بارے میں اچھا گمان رکھیں گے اور اس سے محبت کریں گے، اور جو کوئی برا عمل ظاہر کرے گا ہم اس کے بارے میں برا گمان رکھیں گے اور اس سے بغض رکھیں گے، تمہارے پوشیدہ معاملات تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہیں۔ خبردار! مجھ پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا جب میرا یہ گمان تھا کہ جو کوئی قرآن پڑھتا ہے وہ صرف اللہ اور اس کے پاس موجود اجر کے لیے پڑھتا ہے، لیکن اب پچھلے کچھ عرصے سے مجھے یہ محسوس ہوا ہے کہ کچھ لوگ لوگوں کے پاس موجود (مال و جاہ) کی خاطر قرآن پڑھتے ہیں، پس تم اپنی قرآئت اور اپنے عمل سے صرف اللہ کی رضا کا ارادہ کیا کرو۔ خبردار! اللہ کی قسم، میں اپنے عاملوں (گورنروں) کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہاری کھالیں ادھیڑیں اور تمہارا مال چھینیں، بلکہ میں انہیں اس لیے بھیجتا ہوں تاکہ وہ تمہیں تمہارا دین اور سنتیں سکھائیں، تمہارے درمیان عدل کریں اور تمہارا مالِ فے (بیت المال کا مال) تم میں تقسیم کریں؛ خبردار! جس کے ساتھ بھی اس کے خلاف کچھ ہو تو وہ اپنا معاملہ میرے پاس لائے، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں عمر کی جان ہے! میں یقیناً اس سے بدلہ (قصاص) لوں گا۔ اس پر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اچھل کر کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ اگر کوئی مسلمان (گورنر) اپنی رعایا پر حاکم ہو اور وہ اپنی رعایا میں سے کسی کو (بطور تادیب) سزا دے، تو آپ اس سے بھی بدلہ لیں گے؟ آپ نے فرمایا: میں اس سے بدلہ کیوں نہیں لوں گا جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات سے قصاص دیتے ہوئے دیکھا ہے؛ خبردار! تم انہیں (رعایا کو) مار پیٹ کر ذلیل نہ کرنا، نہ ہی ان کا حق روک کر انہیں کفر (یعنی بغاوت و مایوسی) پر اکسانا، نہ ہی انہیں (کسی کام پر) مجبور کر کے فتنے میں ڈالنا، اور نہ ہی انہیں گھنے جنگلوں (پر خطر مقامات) میں اتار کر ہلاکت میں ڈالنا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8560]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله، أبو فراس» [ترقيم الرساله 8560] [ترقيم الشركة 8458] [ترقيم العلميه 8356]

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8561
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبيُّ بمَرُو، حدثنا الفَضْل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضر بن شُميل، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقترب، موتوا إن استطعتُم" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8357 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے جو قریب آ چکا ہے، اگر تم سے ہو سکے تو (فتنوں سے بچنے کے لیے) موت کو گلے لگا لو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8561]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة» [ترقيم الرساله 8561] [ترقيم الشركة 8459] [ترقيم العلميه 8357]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8562
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة حَرَسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين قال: ثارت الفتنةُ وأصحابُ رسول الله ﷺ عَشَرَةُ آلاف لم يَخِفَّ فيها منهم أربعون رجلًا، وقف مع عليٍّ (1) مئتان وبضعة وأربعون رجلًا من أهل بدر، فيهم أبو أيوب وسهل بن حنيف وعمار بن ياسر (2) .
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب فتنہ برپا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس ہزار صحابہ میں سے چالیس آدمی بھی اس میں شامل (سرگرم) نہیں ہوئے تھے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل بدر میں سے دو سو چالیس سے کچھ زائد افراد تھے جن میں سیدنا ابو ایوب، سہل بن حنیف اور عمار بن ياسر رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8562]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8562] [ترقيم الشركة 8460]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارٍ مِنْ خَلْقِهِ
قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8563
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث الدِّمشقي، عن القاسم، عن أبي أمامة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا يزداد الأمر إلَّا شدةً، ولا المالُ إلَّا إفاضةً، ولا تقومُ الساعةُ إِلَّا على شرارٍ من خلقه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8359 - صحيح
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: معاملات میں صرف سختی ہی بڑھے گی، اور مال میں صرف فراوانی ہی ہوگی، اور قیامت صرف اللہ کی مخلوق کے بدترین لوگوں پر ہی قائم ہوگی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8563]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح» [ترقيم الرساله 8563] [ترقيم الشركة 8461] [ترقيم العلميه 8359]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8564
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا أبو داود سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم الأحول، عن أبي كبشة قال: سمعت أبا موسى الأشعري يقول: قال رسول الله ﷺ:"إن بين أيديكم فِتنًا كقطع الليل المظلم، يصبحُ الرجل فيها مؤمنًا ويمسي كافرًا، ويمسي مؤمنًا ويصبحُ كافرًا، القاعدُ فيها خَيرٌ من القائم، والقائم فيها خيرٌ من الماشي، والماشي فيها خيرٌ من الساعي" قالوا: فما تأمرنا؟ قال:"كونوا أخلاس بيوتكم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وهكذا رواه أبو بكرة الأنصاري وسعدُ بن مالك عن رسول الله ﷺ. أما حديث أبي بكرة الأنصاري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8360 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سامنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر، اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، ان فتنوں میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا: آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھروں کے «أخلاس» (گھروں میں بچھائے جانے والے ٹاٹ یعنی گوشہ نشین) بن جاؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسی طرح اسے ابوبکرہ انصاری اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہما نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8564]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد فيه لِين من جهة أنَّ أبا كبشة هذا وهو السَّدوسي البصري» [ترقيم الرساله 8564] [ترقيم الشركة 8462] [ترقيم العلميه 8360]

الحكم على الحديث: حديث صحيح بطرقه وشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8565
فأخبرناه أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا أبو داود السجستاني، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد. وأخبرنا أحمد بن سلمان (1) ، حدثنا أبو داود، حدثنا سهل بن بكار، حدثنا حماد بن سَلَمة؛ جميعًا عن عثمان الشَّحَّام (2) ، عن مُسلم بن أبي بَكْرة قال: سمعت أبا بكرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"ألا إنها ستكون فتنٌ، ألا ثم تكون فتنةٌ القاعدُ فيها خير من القائم، والقائم فيها خيرٌ من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي إليها، فإذا نَزَلَت أَلَا مَن كان له إبلٌ فليلحق بإبله، ومن كان له غنمٌ فليلحق بغنيه، ومن كانت له أرضٌ فليلحق بأرضه" فقال له رجل: يا رسول الله، أرأيت إن لم يكن له إبل ولا غنم ولا أرضٌ؟ قال:"فليأخُذُ حجرًا فليدقَّ به على حدِّ سيفه، ثم لينج إن استطاع النَّجاةَ" ثم قال:"اللهم هل بلغتُ؟" ثلاثًا، فقال رجل: يا رسول الله، أرأيتَ إِن أُكرِهتُ حتى ينطلق بي إلى أحد الصَّفّين - أو إلى أحد الفِئَتين - فيرميني رجل بسهم أو يضربني بسيف فيقتلني؟ قال:"يُبوء بإثمه وإثمِك فيكون من أصحاب النار" قالها ثلاثًا (1) . أما حديث سعد بن مالك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8361 - صحيح
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب فتنے ہوں گے، پھر ایسا فتنہ ہوگا جس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا اس کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، پس جب وہ فتنے نازل ہوں تو جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلا جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے پاس نہ اونٹ ہوں، نہ بکریاں اور نہ زمین؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک پتھر لے کر اپنی تلوار کی دھار پر مارے (تاکہ وہ کند ہو جائے)، پھر اگر بچ نکلنے کی استطاعت رکھے تو بچ نکلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر مجھے زبردستی (فتنے کے دوران) کسی ایک صف یا گروہ میں لے جایا جائے اور کوئی شخص مجھے تیر مارے یا تلوار سے ضرب لگا کر قتل کر دے تو میرا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: وہ (قاتل) اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ لوٹے گا اور وہ دوزخیوں میں سے ہوگا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8565]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي من أجل عثمان الشحام وشيخه مسلم بن أبي بكرة» [ترقيم الرساله 8565] [ترقيم الشركة 8463] [ترقيم العلميه 8361]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8566
فأخبرناه أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا أبو داود، حدثنا عمرو بن عون، حدثنا هُشَيم، عن داود بن أبي هند، عن أبي عثمان النهدي، عن سعد مالك قال: قال بن رسول الله ﷺ:"إنها ستكون فتنة القاعدُ فيها خيرٌ من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، والماشي خيرٌ من الساعي، والساعي خيرٌ من الراكب، والراكب خيرٌ من الموضع" (2) . وهذا الحديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. قد صار هذا بابًا كبيرًا ولم يخرجاه، وإنما خرجه أبو داود السجستاني ﵀ في"السنن" الذي هو صحيح على شرطه، وأبو داود (3) أحد أئمة هذا العلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8362 - على شرط مسلم
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنہ ہوگا جس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، دوڑنے والا سوار سے بہتر ہوگا اور سوار تیزی سے چلنے والے سے بہتر ہوگا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ ایک بڑا باب بن چکا ہے جسے شیخین نے روایت نہیں کیا، جبکہ امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی «سنن» میں روایت کیا ہے جو کہ ان کی شرط پر صحیح ہے اور ابوداؤد اس علم کے ائمہ میں سے ایک ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8566]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8566] [ترقيم الشركة 8464] [ترقيم العلميه 8362]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں