🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. تَفْسِيرُ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ
سورۂ آلِ عمران کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3176
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأشْيَب، حدثنا عمر بن راشد، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ ممَّا أَتَخَوَّفُ على أُمتي، أن يَكثُرَ فيهم المالُ حتى يتنافسوا فيه، فيَقتَتِلوا عليه، وإنَّ مما أتخوَّفُ على أُمتي، أن يُفتَحَ لهم القرآنُ حتى يقرأَه المؤمنُ والكافرُ والمنافقُ، فيُحِلُّ حلالَه المؤمنُ ﴿ابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ﴾ إلى آخر الآية [آل عمران: 7] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3139 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں جن باتوں کا خوف ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں مال و دولت کی کثرت ہو جائے گی یہاں تک کہ وہ اس میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کریں گے اور اس پر آپس میں لڑائی جھگڑا کریں گے، اور مجھے اپنی امت کے بارے میں یہ بھی ڈر ہے کہ ان پر قرآن (کے علوم) کھول دیے جائیں گے یہاں تک کہ اسے مومن، کافر اور منافق سب پڑھیں گے، پھر مومن تو اس کے حلال کو حلال مانے گا (اور منافق) ﴿ابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ﴾ اس کی (غلط) تاویل کی تلاش میں [سورة آل عمران: 7] آیت کے آخر تک (فتنہ پیدا کرے گا)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3176]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، عمر بن راشد متفق على ضعفه، وحدَّث عن يحيى بن أبي كثير بأحاديث مناكير كما قال أحمد وغيره.» [ترقيم الرساله 3176] [ترقيم الشركة 3157] [ترقيم العلميه 3139]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3177
أخبرنا علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد ابن سَهْل بن عَسكَر، حدثنا محمد بن يوسف حدثنا سفيان الثَّوْري، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ يُكْثِرُ أن يقول:"يا مُقلِّبَ القلوبِ ثَبِّتْ قلوبنا على دينِك" فقلنا: يا رسول الله، تخافُ علينا وقد آمنَّا بك؟ فقال:"إنَّ قلوب بني آدم بين إصبَعَينِ من أصابع الرَّحمن كقلبٍ واحدٍ يقولُ بها هكذا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما تفرَّد مسلمٌ بإخراج حديث عبد الله بن عمرو:"قلوب بني آدم" فقط (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3140 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ ہمارے بارے میں کسی فتنے کا اندیشہ رکھتے ہیں حالانکہ ہم آپ پر ایمان لا چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً آدم کی اولاد کے تمام دل اللہ رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی مانند ہیں، وہ انہیں جس طرح چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، امام مسلم نے اکیلے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے آدم کی اولاد کے دل کے الفاظ کے ساتھ حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3177]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي من أجل أبي سفيان -وهو طلحة بن نافع- والمحفوظ في حديثه هذا رواية الأعمش عنه عن أنس بن مالك، هكذا رواه جمهور أصحاب الأعمش عنه مخالفين لسفيان الثوري كما هو مفصَّل في تعليقنا على حديث أنس من "مسند أحمد" 19 / (12107)، وقال الترمذي: حديث أبي سفيان عن ...» [ترقيم الرساله 3177] [ترقيم الشركة 3158] [ترقيم العلميه 3140]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3178
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبَّاس بن الوليد البَيرُوتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن بُسْر بن عبيد الله، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن النَّوّاس بن سِمْعان الكِلَابي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"الميزانُ بيد الرحمن، يرفعُ أقوامًا ويضعُ آخَرِين، وقلبُ ابنِ آدمَ بين إصبَعَينِ من أصابع الرحمن، إذا شاء أقامَه، وإذا شاء أزاغَه"، وكان رسول الله ﷺ يقول:"يا مُقلِّبَ القلوبَ ثَبِّتْ قلبي على دينِك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3141 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ترازو اللہ رحمن کے ہاتھ میں ہے، وہ (جسے چاہتا ہے) بلند کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) پست کر دیتا ہے، اور آدم کے بیٹے کا دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ چاہے تو اسے (حق پر) قائم رکھے اور چاہے تو اسے (گمراہی کی طرف) ٹیڑھا کر دے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3178]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد سلف برقم (1947).» [ترقيم الرساله 3178] [ترقيم الشركة 3159] [ترقيم العلميه 3141]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3179
حدثنا عبد الصمد بن علي بن مُكرَم ابنُ أخي الحسن بن مُكرَم البزَّاز ببغداد، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية ابن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفَير، عن أبيه، عن المِقْداد بن الأسود قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لَقَلبُ ابنِ آدم أشدُّ انقلابًا من القِدْر إذا اجتَمَعَ غَلْبًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3142 - على شرط البخاري
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یقیناً آدم کے بیٹے کا دل (تبدیلی میں) اس ہنڈیا سے بھی زیادہ تیزی سے الٹ پلٹ ہوتا ہے جو پوری طرح جوش مار رہی ہو۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح المصري كاتب الليث.» [ترقيم الرساله 3179] [ترقيم الشركة 3160] [ترقيم العلميه 3142]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3180
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا زهير بن حَرْب، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن مَعمَر، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه قال: سمعت ابنَ عبَّاس يقرأ: (وما يَعلَمُ تأويله إلَّا الله ويقول الراسخونَ في العِلْمِ آمَنَّا به) [آل عمران: 7] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3143 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اس آیت کی قراءت یوں کرتے تھے: ﴿وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَيَقُولُ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ آمَنَّا بِهِ﴾ اور اس کی اصل حقیقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور علم میں پختگی رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ [سورة آل عمران: 7]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3180]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 3180] [ترقيم الشركة 3161] [ترقيم العلميه 3143]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. نُزُولُ الْقُرْآنِ
قرآنِ مجید کے نازل ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3181
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن أحمد بن الليث الرَّازي، حدثنا أبو همَّام بن أبي بَدْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني حَيْوَةُ ابن شُريح، عن عُقَيل بن خالد، عن سَلَمة بن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عَوْف، عن أبيه، عن عبد الله بن مسعود، عن رسول الله ﷺ قال:"كان الكتابُ الأَوَّلَ نَزَل من بابٍ واحد على حرفٍ واحد، ونزل القرآنُ من سبعةِ أبواب على سبعة أحرف: زاجرٍ وآمرٍ، وحلالٍ وحرامٍ ومُحكَمٍ ومتشابِهٍ، وأمثالٍ، فأحِلُّوا حلالَه، وحرِّموا حرامَه، وافعلوا ما أُمِرتُم به، وانتَهُوا عمّا نُهِيتم عنه، واعتبروا بأمثاله، واعمَلوا بمُحكَمِه، وآمنوا بمُتشابهه، وقولوا: ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ [آل عمران: 7] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3144 - منقطع
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی کتاب ایک ہی دروازے سے ایک ہی طریقے پر نازل ہوئی تھی، جبکہ قرآن سات دروازوں سے سات حروف یعنی سات اقسام پر نازل ہوا ہے: زجر کرنے والا، حکم دینے والا، حلال، حرام، محکم، متشابہ اور مثالیں، پس اس کے حلال کو حلال جانو، اس کے حرام کو حرام سمجھو، جس کا حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو، جس سے روکا گیا ہے اس سے رک جاؤ، اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو، اس کی محکم آیات پر عمل کرو، اس کی متشابہ آیات پر ایمان لاؤ اور کہو: ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔ [سورة آل عمران: 7]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3181]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه كما سبق بيانه فيما سلف برقم (2054).» [ترقيم الرساله 3181] [ترقيم الشركة 3162] [ترقيم العلميه 3144]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3182
أخبرني الحسن بن حليم المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حُميد الطويل، عن أنس قال: قرأ عمرُ بن الخطَّاب ﴿وَفَاكِهَةٍ وَأَبًّا﴾ [عبس: 31] ، فقال بعضهم هكذا، وقال بعضهم هكذا، فقال عمر: دَعُونا من هذا، ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3145 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آیت ﴿وَفَاكِهَةٍ وَأَبًّا﴾ [سورة عبس: 31] کی تلاوت کی، تو بعض لوگوں نے اس کی تفسیر میں مختلف آراء دیں، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمیں ان (غیر ضروری بحثوں) سے دور رہنے دو، (ہمارا کام تو یہ کہنا ہے کہ) ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3182]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو الموجّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3182] [ترقيم الشركة 3163] [ترقيم العلميه 3145]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. قِصَّةُ قَتْلِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی شہادت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3183
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد ابن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ﴾ [آل عمران: 21] ، قال: بَعَثَ عيسى ابنُ مريم يحيى بنَ زكريّا (2) في اثني عشر رجلًا من الحَوَاريِّين يعلِّمون الناس، فكان ينهاهم عن نِكاح ابنة الأخ، وكان ملكٌ له ابنةُ أخٍ تعجبُه، فأرادها، وجعل يَقْضي لها كلَّ يوم حاجةً، فقالت لها أمُّها: إذا سألكِ عن حاجَتِك فقولي: حاجَتي أن تقتلَ يحيى بنَ زكريا، فقال لها الملك: ما حاجتُك؟ فقالت: حاجَتي أن تقتلَ يحيى بنَ زكريا، فقال: سَلِي غيرَ هذا، فقالت: لا أسألُ غيرَ هذا، فلما أَتَى أَمَرَ به فذُبِحَ فِي طَسْتٍ فنَدَرَت قَطْرةٌ من دمه، فلم تَزَلْ تَغْلي حتى بَعَثَ اللهُ بُخْتَنصَّر، فدلَّت عجوزٌ عليه، فأُلقيَ في نفسه أن لا يزالَ القتلُ حتى يَسكُنَ هذا الدمُ، فقتل في يومٍ واحد من ضربٍ واحدٍ وسِنٍّ واحدٍ سبعين ألفًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد غريب الإسناد والمتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3146 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ﴾ اور وہ نبیوں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے عدل کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں [سورة آل عمران: 21] کے متعلق روایت ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو بارہ حواریوں کے ہمراہ لوگوں کو دین سکھانے کے لیے روانہ کیا، سیدنا یحییٰ علیہ السلام لوگوں کو بھتیجی سے نکاح کرنے سے منع کرتے تھے، اس وقت ایک بادشاہ کی اپنی ہی بھتیجی اسے پسند تھی اور وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا، وہ بادشاہ روزانہ اس لڑکی کی کوئی نہ کوئی خواہش پوری کیا کرتا تھا، اس لڑکی کی ماں نے اسے سکھایا کہ جب بادشاہ تم سے تمہاری حاجت پوچھے تو کہنا کہ میری مراد یحییٰ بن زکریا کا قتل ہے، چنانچہ جب بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تمہاری کیا حاجت ہے؟ تو اس نے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ آپ یحییٰ بن زکریا کو قتل کر دیں، بادشاہ نے کہا: اس کے علاوہ کچھ اور مانگ لو، اس نے کہا: میں اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گی، جب وہ بضد رہی تو بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں ایک طشت میں ذبح کر دیا گیا، ان کے خون کا ایک قطرہ زمین پر گرا اور وہ مسلسل جوش مارتا (ابلتا) رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو مسلط کر دیا، ایک بوڑھی عورت نے اس قطرے کی نشاندہی کی تو بخت نصر کے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ جب تک یہ خون ساکن نہیں ہوتا وہ قتلِ عام جاری رکھے گا، چنانچہ اس نے ایک ہی دن میں ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، ومتنه منكر، فقد قال الطبري في "تاريخه" 1/ 589: وهذا القول الذي رُويَ عمن ذكرتُ في هذه الأخبار التي رويت وعمن لم يذكر في هذا الكتاب، من أن بختنصَّر هو الذي غزا بني إسرائيل عند قتلهم يحيى بنَ زكريا، عند أهل السير والأخبار والعلم بأمور الماضين ...» [ترقيم الرساله 3183] [ترقيم الشركة 3164] [ترقيم العلميه 3146]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. أَخْبَارُ الْقَتْلِ عِوَضَ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار افراد کے قتل کی خبر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3184
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله بن إبراهيم بن عمرو البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو يعلى محمد بن شدَّادِ المِسمَعي، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا عبد الله بن حَبيب ابن أبي ثابت، عن أبيه، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أَوحى الله إلى نبيِّكم ﷺ: إني قتلتُ بيحيى بن زكريا سبعين ألفًا، وإني قاتلٌ بابن ابنتِك سبعين ألفًا وسبعين ألفًا (1) . قال الحاكم: قد كنت أحسبُ دهرًا أنَّ المِسمَعي ينفرد بهذا الحديث عن أبي نُعيم حتى:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3147 - المتن منكر جدا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی فرمائی: میں نے یحییٰ بن زکریا (کے ناحق قتل) کے بدلے ستر ہزار لوگوں کو ہلاک کیا تھا، اور میں تمہارے نواسے (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کے بدلے ستر ہزار اور (مزید) ستر ہزار لوگوں کو قتل کروں گا۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ایک شاہد موجود ہے جو اگرچہ سند اور متن کے لحاظ سے غریب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن شداد المسمعي ومتنه منكر، وهو وإن كان قد رُوِيَ من عدة وجوه عن أبي نعيم -وهو الفضل بن دكين- فيما سيأتي عند المصنف برقم (4882)، إلَّا أنَّ هذه المتابعات لا يخلو واحد منها من مقال، ثم إن سَلِم إسنادٌ منها إلى أبي نعيم فإنَّ حبيب ...» [ترقيم الرساله 3184] [ترقيم الشركة 3165] [ترقيم العلميه 3147]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف محمد بن شداد المسمعي ومتنه منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3185
حدَّثَناه أبو محمد السَّبِيعي الحافظ، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجيَةَ، حدثنا حُمَيد بن الرَّبيع، حدثنا أبو نُعيم، فذكره بإسناده نحوَه (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں ایک طویل عرصے تک یہ گمان کرتا رہا کہ اس حدیث کو ابونعیم سے روایت کرنے میں مسمعی منفرد ہیں، یہاں تک کہ ابو محمد السبیعی الحافظ نے عبداللہ بن محمد بن ناجیہ سے اور انہوں نے حمید بن ربیع کے واسطے سے ابونعیم سے یہ حدیث ان کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3185]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 3185] [ترقيم الشركة 3165/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں