🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. الدين الحب والبغض
دین کی بنیاد اللہ کے لیے محبت اور اللہ کے لیے نفرت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3186
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا عبد الأعلى بن أَعْيَن، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"الشِّركُ أخفى من دَبِيب الذَّرِّ على الصَّفَا في الليلة الظَّلماء، وأدناه أن تُحِبَّ على شيءٍ من الجَوْر، وتُبغِضَ على شيءٍ من العَدْل، وهلِ الدِّينُ إلَّا الحبُّ والبُغْضُ، قال الله ﷿: ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ [آل عمران: 31] " (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3148 - عبد الأعلى قال الدارقطني ليس بثقة
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرک اندھیری رات میں (سیاہ) چٹان پر چیونٹی کے رینگنے کی آہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے، اور اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ تم کسی ظلم (ناانصافی) سے محبت کرو یا کسی عدل و انصاف سے بغض رکھو، اور کیا دین اللہ کے لیے محبت اور بغض کے سوا کچھ اور ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ آپ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ [سورة آل عمران: 31]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3186]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرَّة، عبد الأعلى بن أعين ضعيف منكر الحديث، وأعلَّه الذهبي به في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 3186] [ترقيم الشركة 3166] [ترقيم العلميه 3148]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرَّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. شَرْحُ مَعْنَى: (إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً)
آیت“مگر یہ کہ تم ان سے تقیہ کرو”کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3187
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثني أبي، حدثنا أبو همَّام، حدثنا محمد بن بِشْر العَبْدي قال: سمعت سفيانَ بن سعيد يَذكُر عن ابن جُرَيج، حدثني عطاء، عن ابن عبَّاس: ﴿إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾ [آل عمران: 28] قال: فالتُّقَاة: التكلُّمُ باللسان والقلبُ مطمئنٌّ بالإيمان، ولا يَبسُطُ يدَه فيَقتُلَ، ولا إلى إثمٍ، فإنه لا عُذْرَ له (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3149 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت ﴿إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾ [سورة آل عمران: 28] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: «تقاة» (تقیہ) سے مراد صرف زبان سے (ایسی بات) کہنا ہے جبکہ دل ایمان پر پوری طرح مطمئن ہو، لیکن وہ (مجبوری کی حالت میں بھی) قتل کے لیے ہاتھ نہ بڑھائے اور نہ ہی کسی گناہ کی طرف جائے، کیونکہ اس میں کوئی عذر مقبول نہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3187]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، سفيان بن سعيد: هو الثوري، وأبو همَّام: هو الوليد بن شجاع السَّكوني، من الثِّقات.» [ترقيم الرساله 3187] [ترقيم الشركة 3167] [ترقيم العلميه 3149]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3188
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا﴾ تلا إلى قوله: ﴿وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا﴾ [آل عمران: 35 - 37] قال: كَفَلَها زكريا، فدخل عليها المِحرابَ، فوجد عندها عِنَبًا في مكتَل في غير حينه، قال زكريا: ﴿أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ قال: إِنَّ الذي يَرزْقُكِ العنبَ في غير حينِه، لَقادرٌ أن يَرزُقَني من العاقر الكبير العقيم ولدًا، هنالك دعا زكريَّا ربَّه، فلما بُشِّر بيحيى قال: ﴿رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ [مريم:10] ، قال: يُعتَقَلُ لسانُك من غير مرض وأنت سَوِيٌّ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3150 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا﴾ سے لے کر ﴿وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا﴾ [سورة آل عمران: 35 - 37] تک کی تلاوت کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا زکریا علیہ السلام نے سیدہ مریم علیہا السلام کی کفالت کی، وہ جب بھی ان کے پاس عبادت گاہ (محراب) میں داخل ہوتے تو وہاں بے موسم انگوروں کے ٹوکرے پاتے، سیدنا زکریا علیہ السلام نے پوچھا: ﴿أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (اے مریم!) یہ تمہارے پاس کہاں سے آئے؟ انہوں نے کہا: یہ اللہ کی طرف سے ہیں، بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ انہوں نے (اپنے دل میں) کہا: یقیناً وہ ذات جو بے موسم انگور دے سکتی ہے وہ مجھ جیسے بوڑھے اور بانجھ بیوی کے باوجود مجھے اولاد عطا کرنے پر بھی قادر ہے، وہیں زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی، جب انہیں سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی خوشخبری دی گئی تو انہوں نے عرض کی: ﴿رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما، فرمایا: تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تندرست ہونے کے باوجود تین راتوں تک لوگوں سے کلام نہیں کر سکو گے۔ [سورة مریم: 10] انہوں نے فرمایا: یعنی بغیر کسی بیماری کے تمہاری زبان کلام سے رک جائے گی حالانکہ تم بھلے چنگے ہو گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3188]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح إن شاء الله، عطاء بن السائب» [ترقيم الرساله 3188] [ترقيم الشركة 3168] [ترقيم العلميه 3150]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3189
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنافِسي، حدثنا سفيان بن سعيد، عن أبيه، عن أبي الضُّحَى، عن مسروق، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ لكل نبيٍّ وُلاةً من النبيِّين، وإنَّ وليِّي منهم أَبي وخَلِيلي إبراهيمُ" ثم قرأ: ﴿إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [آل عمران: 68] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3151 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے انبیاء میں سے کچھ سرپرست (ولاہ) ہوتے ہیں، اور ان میں سے میرے سرپرست میرے والد اور میرے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ﴾ بے شک لوگوں میں ابراہیم کے سب سے زیادہ قریب وہ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے، اور اللہ مومنوں کا مددگار ہے۔ [سورة آل عمران: 68]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح إن شاء الله، فقد اختلف فيه على سفيان بن سعيد -وهو الثوري- في ذكر مسروق بن الأجدع، فقد رواه عنه جماعة منهم يحيى القطان وابن مهدي ووكيع منقطعًا لم يذكروا فيه مسروقًا، وتابع محمدَ بنَ عبيد على وصله أبو أحمد الزبيري وأبو نعيم في رواية أحمد بن محمد ...» [ترقيم الرساله 3189] [ترقيم الشركة 3169] [ترقيم العلميه 3151]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. دَوَاءُ وَجَعِ عِرْقِ النَّسَاءِ
عرق النساء کے درد کا علاج
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3190
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ إسرائيل أخَذَه عِرقُ النَّسَا، فكان يُبيتُ وله زُقَاءُ (2) ، قال: فجَعَلَ إِن شَفَاه اللهُ أن لا يأكلَ لحمًا فيه عُروق، قال: فحرَّمَته اليهودُ، فنزلت: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [آل عمران: 93] ، إنَّ هذا كان قبلَ التَّوراة (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3152 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کو لنگڑی کا درد (عرق النساء) لاحق ہوا، جس کی وجہ سے وہ راتوں کو تکلیف سے کراہتے تھے، انہوں نے یہ منت مانی کہ اگر اللہ نے انہیں شفا دے دی تو وہ ایسا گوشت نہیں کھائیں گے جس میں رگیں ہوں، چنانچہ یہودیوں نے بھی اسے (اپنے لیے) حرام قرار دے دیا، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لیے تمام کھانے حلال تھے سوائے ان کے جو اسرائیل نے خود پر حرام کر لیے تھے، آپ کہیے کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو۔ [سورة آل عمران: 93] ، یقیناً یہ واقعہ تورات کے نزول سے پہلے کا تھا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3190]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العَنبَري، ويحيى بن سعيد: هو القطان، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3190] [ترقيم الشركة 3170] [ترقيم العلميه 3152]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3191
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا هشام بن حسَّان، عن أنس بن سِيرِين، عن أنس ابن مالك: أنَّ رسول الله رسول الله ﷺ قال في عرق النَّسَا:"يأخذُ أَلْيَةَ كَبْشٍ عربيٍّ ليست بأعظمِها ولا أصغرِها، فيُقطِّعُها صِغارًا، ثم يُذِيبُها فيُجِيدُ إذابتَها، ويجعلُها ثلاثةَ أجزاءٍ، فيشربُ كلَّ يوم جزءًا على رِيق النَّفْس". قال أنس بن سِيرِين: فلقد أمرتُ بذلك ناسًا -ذكر عددًا كثيرًا- كلُّهم يَبرَأُ بإذن الله (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3153 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرق النساء (لنگڑی کے درد) کے بارے میں فرمایا: عربی مینڈھے کی چکی (دمبے کی چربی) لی جائے جو نہ بہت بڑی ہو اور نہ بہت چھوٹی، اسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر اچھی طرح پگھلایا جائے، پھر اسے تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور روزانہ ایک حصہ نہار منہ پی لیا جائے۔ انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے کئی لوگوں کو یہ مشورہ دیا -انہوں نے کثیر تعداد کا ذکر کیا- اور اللہ کے حکم سے وہ سب تندرست ہو گئے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3191]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 3191] [ترقيم الشركة 3171] [ترقيم العلميه 3153]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. شَرْحُ: (أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ)
آیت“سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا”کی تشریح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3192
حدثنا بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو، حدثنا أحمد حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا عبيد الله بن موسى ومحمد بن سابق قالا حدثنا إسرائيل، حدثنا سِماك (1) بن حَرْب، عن خالد بن عَرعَرة قال: سأل رجلٌ عليًّا عن: ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا﴾ [آل عمران: 96] أهو أول بيت بُنِيَ في الأرض؟ قال: لا، ولكنه أولُ بيت وُضِعَ فيه البركةُ والهدى، ومَقامُ إبراهيم، ومن دخله كان آمنًا، وإن شئتَ أنبأتُك كيف بَناه (2) : إنَّ الله ﷿ أَوحَى إلى إبراهيم: أنِ ابنِ لي بيتًا في الأرض، فضاق به ذَرْعًا، فأرسل الله إليه السَّكينةَ، وهي ريحٌ خَجُوجٌ، لها رأس، فأتبَعَ أحدُهما صاحبَه حتى انتهت ثم تطوَّقَت إلى موضع البيت تطوُّقَ الحيَّة، فبنى إبراهيمُ، فكان يبني هو سافًا كلَّ يوم، حتى إذا بلغ مكانَ الحَجَر قال لابنه: ابغِني حَجَرًا، فالتَمَسَ ثَمَّ حجرًا حتى أتاه به، فوجد الحجرَ الأسودَ قد رُكّبَ، فقال له ابنه: من أين لك هذا؟ قال: جاء به مَن لم يَتَّكِل على بنائِك، جاء به جبريلُ ﵇ من السماءِ (1) فأتمَّه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3154 - على شرط مسلم
خالد بن عرعرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا﴾ [سورة آل عمران: 96] کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ زمین پر تعمیر ہونے والا سب سے پہلا گھر ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ وہ پہلا گھر ہے جو برکت اور ہدایت کے لیے (اللہ کی عبادت کے لیے) بنایا گیا، جس میں مقامِ ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہوا وہ امن پا گیا، اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ اسے کیسے تعمیر کیا گیا؟ اللہ عزوجل نے ابراہیم علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ زمین پر میرے لیے ایک گھر بناؤ، وہ اس کی جگہ کی تعیین کے متعلق فکر مند ہوئے تو اللہ نے ان کی طرف سکینہ کو بھیجا جو کہ ایک تیز ہوا ہے اور اس کا سر (سانپ کی طرح) ہے، پس وہ ایک دوسرے کے پیچھے چلے یہاں تک کہ وہ مقامِ کعبہ پر پہنچی اور وہاں سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھ گئی، تب ابراہیم علیہ السلام نے اسے تعمیر کرنا شروع کیا، وہ روزانہ ایک ایک ردہ رکھتے تھے، جب وہ حجرِ اسود کی جگہ پہنچے تو اپنے بیٹے سے فرمایا کہ میرے لیے ایک پتھر تلاش کرو، وہ پتھر ڈھونڈ کر واپس آئے تو دیکھا کہ حجرِ اسود پہلے ہی نصب ہو چکا ہے، انہوں نے پوچھا: یہ کہاں سے آیا؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اسے وہ ذات لائی ہے جو تمہاری تعمیر پر بھروسہ نہیں رکھتی تھی، اسے جبرئیل علیہ السلام آسمان سے لائے تھے، یوں انہوں نے اسے مکمل کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن,وقد سلف الحديث بأطول ممّا هنا برقم (1702) من طريق حماد بن سلمة عن سماك، فانظر تمام تخريجه هناك.» [ترقيم الرساله 3192] [ترقيم الشركة 3172] [ترقيم العلميه 3154]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. فَرْضِيَّةُ الْحَجِّ فِي الْعُمُرِ مَرَّةٌ وَاحِدَةٌ
زندگی میں حج صرف ایک ہی مرتبہ فرض ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3193
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا سليمان بن كثير قال: سمعت ابنَ شِهاب يحدِّث عن أبي سِنَان، عن ابن عبَّاس قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال:"يا أيها الناس، إنَّ الله كَتَبَ عليكم الحجَّ" فقام الأقرعُ بن حابس فقال: أفي كلِّ عام يا رسول الله؟ قال:"لو قلتها لوَجَبَت، ولو وَجَبَت لم تَعمَلوا بها -أو لم تستطيعوا أن تعملوا بها- الحجُّ مرَّةً، فمن زادَ فتطوُّعٌ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهكذا رواه سفيان بن حسين الواسطي عن الزُّهري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3155 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے، اس پر اقرع بن حابس کھڑے ہوئے اور پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہ ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ (ہر سال) واجب ہو جاتا، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے -یا تم میں اس کی استطاعت نہ ہوتی-، حج (زندگی میں) ایک ہی بار ہے، اور جو اس سے زیادہ کرے وہ نفل ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور زہری سے سفیان بن حسین واسطی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3193]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان بن كثير، وهو» [ترقيم الرساله 3193] [ترقيم الشركة 3173] [ترقيم العلميه 3155]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3194
حدَّثَناه أبو حامد أحمد بن محمد بن شعيب الفقيه الزاهد، حدثنا سهل ابن عمَّار العَتَكي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن أبي سِنان، عن ابن عبَّاس قال: سأل الأقرعُ بنُ حابسٍ رسولَ الله ﷺ فقال: الحجُّ في كلِّ عام مرَّةً؟ قال:"لا، بل مرَّةً واحدةً، فمن زادَ فتَطوُّع" (4) . وفي الباب عن علي بن أبي طالب بالشَّرح والبيان عن رسول الله ﷺ:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور پوچھا: کیا حج ہر سال ایک مرتبہ (فرض) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ (زندگی میں) صرف ایک ہی مرتبہ ہے، پس جو اس سے زیادہ کرے وہ نفل ہے۔
اس باب میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مفصل بیان مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3194]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سهل بن عمار -وإن كان متَّهمًا- قد تابعه سعيد بن مسعود المروزي فيما سلف عند المصنف برقم (1626). وسفيان بن حسين أيضًا متكلَّم في روايته عن الزهري، إلَّا أنه متابع عنه.» [ترقيم الرساله 3194] [ترقيم الشركة 3174]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3195
حدَّثَناه أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حدثنا مُخوَّل بن إبراهيم النَّهْدي، حدثنا منصور بن وَرْدَان، حدثنا علي ابن عبد الأعلى، عن أبيه، عن أبي البَخْتَرِي، عن علي قال: لما نزلت هذه الآيةُ: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97] قالوا: يا رسول الله، أفي كلِّ عام؟ فَسَكَتَ، ثم قالوا: أفي كلِّ عام؟ فسَكت، ثم قالوا: أفي كلِّ عام؟ قال:"لا، ولو قلتُ: نَعَم، لوَجَبَت"، فأنزل الله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [المائدة: 1] (1) . قال الحاكم: كان من حُكْم هذه الأحاديث الثلاثة أن تكون مخرَّجةً في أول كتاب المَناسِك، فلم يُقدَّرْ ذلك لي، فخرَّجتُها في تفسير الآية.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3157 - مخول رافضي وعبد الأعلى هو ابن عامر ضعفه أحمد
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا (فرض) ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ [سورة آل عمران: 97] تو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، انہوں نے دوبارہ پوچھا: کیا ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے، انہوں نے تیسری بار پوچھا: کیا ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ (ہر سال) واجب ہو جاتا، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔ [سورة المائدة: 101]
امام حاکم فرماتے ہیں: ان تینوں احادیث کا تقاضا تو یہ تھا کہ انہیں کتاب المناسک کے شروع میں ذکر کیا جاتا، لیکن میرے لیے (اس وقت) ایسا مقدر نہ تھا، اس لیے میں نے انہیں اس آیت کی تفسیر میں یہاں ذکر کر دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3195]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الأعلى بن عامر الثعلبي والد علي، وأبو البختري» [ترقيم الرساله 3195] [ترقيم الشركة 3175] [ترقيم العلميه 3157]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عبد الأعلى بن عامر الثعلبي والد علي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں