🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. نَفَقَتُكَ عَلَى أَهْلِكَ وَوَلَدِكَ وَخَادِمِكَ صَدَقَةٌ
اپنے اہل، اولاد اور خادم پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3156
حدثنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب ابن عطاء، أخبرنا هارون بن موسى، عن خالد الحذَّاء، عن عبد الله الله بن الحارث، عن عبد الله بن عبَّاس: أنه كان يقرؤها: (برِبْوَةٍ) [البقرة: 265] بكسر الراء، قال: والرِّبوة: النَّشْرُ من الأرض (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3119 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اس لفظ ﴿بِرِبْوَةٍ﴾ [سورة البقرة: 265] کو «را» کے کسرہ یعنی زیر کے ساتھ پڑھتے تھے اور انہوں نے فرمایا: «الربوه» سے مراد زمین کا بلند حصہ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3156]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي, وقرأها من السبعة بكسر الراء نافع وأبو عمرو وابن كثير وحمزة والكسائي، وقرأ عاصم وابن عامر: (برَبْوَةٍ) بفتح الراء. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 190.» [ترقيم الرساله 3156] [ترقيم الشركة 3137] [ترقيم العلميه 3119]

الحكم على الحديث: إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3157
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حجَّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، سمعت ابنَ أبي مُلَيكة يُخبر عن عُبيد بن عُمير أنه سمعه يقول: سأل عمرُ أصحابَ النبي ﷺ فقال: فيمَ ترونَ أُنزلت: ﴿أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ﴾ [البقرة: 266] ؟ فقالوا: الله أعلمُ، فغَضِبَ فقال: قولوا: نعلمُ أو لا نعلمُ، فقال ابن عبَّاس: في نفسي منها شيءٌ يا أمير المؤمنين، فقال عمر: قل يا ابنَ أخي ولا تَحقِرْ نفسَك، قال ابن عبَّاس: ضُرِبَت مثلًا لعَملٍ، فقال عمر: أيُّ عملٍ؟ فقال: لعملٍ، فقال عمر: رجلٌ غنيٌّ يعمل الحسناتِ، ثم بَعَثَ الله له الشياطين فعَمِلَ بالمعاصي، حتى أَغرَقَ أعمالَه كلَّها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3120 - على شرط البخاري ومسلم
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا: تمہاری رائے میں یہ آیت ﴿أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ﴾ [سورة البقرة: 266] کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اس پر وہ ناراض ہوئے اور فرمایا: یہ کہو کہ ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! میرے دل میں اس کے متعلق کچھ ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! کہو اور اپنے آپ کو کم تر نہ سمجھو، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ ایک عمل کی مثال بیان کی گئی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون سا عمل؟ انہوں نے کہا: عمل کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: یہ اس مالدار آدمی کی مثال ہے جو نیک اعمال کرتا ہے، پھر اللہ اس کی طرف شیطانوں کو بھیج دیتا ہے تو وہ گناہوں کے کام کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے تمام پچھلے اعمال کو غرق کر دیتا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3157]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن أبي مليكة: وهو أبو بكر بن أبي مليكة أخو عبد الله، كما جاء مبيَّنًا عند البخاري في "صحيحه".» [ترقيم الرساله 3157] [ترقيم الشركة 3138] [ترقيم العلميه 3120]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3158
حدثنا بكر بن محمد حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن هارون بن عَنتَرة، عن أبيه، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ﴾ [البقرة: 266] قال: ريحٌ فيها سَمُومٌ شديدٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3121 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ﴾ [سورة البقرة: 266] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد ایسی ہوا ہے جس میں سخت لو اور تپش ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3158]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي. سفيان هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3158] [ترقيم الشركة 3139] [ترقيم العلميه 3121]

الحكم على الحديث: إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3159
حدثنا أحمد بن سهل بن حَمدَوَيهِ الفقيه ببُخارَي، حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر قال: أَمر النبيُّ ﷺ بزكاة الفِطْر بصاعٍ من تمر، فجاء رجل بتمرٍ رديءٍ، فقال النبي ﷺ لعبد الله بن رَوَاحة:"لا تَخرُصُ هذا التمر"، فنزل القرآن: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [البقرة: 267] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3122 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور ادا کرنے کا حکم دیا، تو ایک شخص ردی کھجوریں لے آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ان کھجوروں کا اندازہ (بطور زکوٰۃ) نہ کرو، تب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے خرچ کرو اور اس میں سے گھٹیا چیز (اللہ کی راہ میں) دینے کا ارادہ نہ کرو۔ [سورة البقرة: 267]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3159]
تخریج الحدیث: «إسناده ليِّن، حاتم بن إسماعيل -وإن كان ثقة في الجملة- تكلَّم ابن المديني في أحاديثه عن جعفر بن محمد -وهو ابن علي بن الحسين الملقَّب بالصادق- فقال: روى عن جعفر عن أبيه أحاديث مراسيل أسندَها، وقال أحمد: زعموا أن حاتمًا كان فيه غفلة. وأما قيس بن أُنيف فقد روى عنه ...» [ترقيم الرساله 3159] [ترقيم الشركة 3140] [ترقيم العلميه 3122]

الحكم على الحديث: إسناده ليِّن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. أَوْلَادُكُمْ هِبَةُ اللَّهِ لَكُمْ
تمہاری اولاد اللہ کی طرف سے تمہیں عطا کی گئی نعمت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3160
حدثني أبو عبد الرحمن محمد بن محمود الحافظ، حدثنا حماد بن أحمد القاضي،، حدثنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق قال: سمعت أَبي يقول: أخبرنا أبو حمزة، عن إبراهيم الصائغ، عن حماد، عن إبراهيم، عن الأَسود، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ أولادَكم هِبةُ الله لكم ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ [الشورى: 49] ، فهم وأموالُهم لكم إذا احتَجتُم إليها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتَّفقا على حديث عائشة:"أطيبُ ما أَكل الرجلُ من كَسْبه، وولدُه من كَسْبه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3123 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً تمہاری اولاد تمہارے لیے اللہ کا عطیہ ہے ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔ [سورة الشورى: 49] ، پس وہ اور ان کے اموال تمہارے ہی ہیں جب تمہیں ان کی ضرورت ہو۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ: آدمی جو سب سے پاکیزہ کھانا کھاتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی سے ہے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی کا حصہ ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3160]
تخریج الحدیث: «ضعيف بهذا اللفظ، انفرد به حماد -وهو ابن أبي سليمان- عن إبراهيم -وهو ابن يزيد النخعي- وحماد على ثقته تقع له أوهام في الآثار، وهذا منها، وقد عدَّ قولَه فيه: "إذا احتجتم إليها" من أوهامه سفيانُ كما في "سنن البيهقي" 7/ 480، وعدَّها أبو داود السجستاني في "سننه" بإثر الحديث ...» [ترقيم الرساله 3160] [ترقيم الشركة 3141] [ترقيم العلميه 3123]

الحكم على الحديث: ضعيف بهذا اللفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3161
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب الضَّبِّي ومحمد بن سِنَان قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبَّاد -وهو ابن العوام- عن سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف، عن أبيه قال: أمر رسول الله ﷺ، بصدقةٍ، فجاء رجلٌ من هذا السُّحَّل -قال سفيان: يعني الشِّيصَ- فقال رسول الله ﷺ:"مَن جاءَ بهذا؟" وكان لا يجيءُ أحدٌ بشيء إِلَّا نُسِبَ إلى الذي جاء به، ونَزَلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ [البقرة: 267] ، ونهى رسول الله ﷺ عن لونَينِ من التمر أن يُؤخَذا في الصدقة: الجُعْرورِ ولونِ الحُبَيق. قال الزُّهْري: واللَّونانِ (2) من تمر المدينة (3) . تابعه سليمان بن كثير عن الزُّهري:
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ (زکوٰۃ) کا حکم دیا، تو ایک شخص گھٹیا کھجوریں (شیص) لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون لایا ہے؟ اس وقت ہر چیز اس کے لانے والے کی طرف منسوب کی جاتی تھی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ اور اس میں سے گھٹیا چیز (اللہ کی راہ میں) دینے کا ارادہ نہ کرو، حالانکہ اسے تم خود بھی لینا پسند نہیں کرو گے سوائے اس کے کہ تم اس میں چشم پوشی برتو۔ [سورة البقرة: 267] ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ میں دو قسم کی کھجوریں لینے سے منع فرمایا: «الجُعْرور» اور «لون الحُبَيق» ۔ زہری کہتے ہیں کہ یہ دونوں مدینہ کی کھجوروں کی اقسام ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3161]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، سفيان بن حسين» [ترقيم الرساله 3161] [ترقيم الشركة 3142]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3162
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى الشهيد والسَّرِيّ بن خُزيمة قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا سليمان ابن كثير، حدثنا الزُّهْري، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ نَهَى عن لونَينِ من التمر: الجُعْرورِ ولونِ الحُبَيق، قال: وكان ناس يتيمَّمُون شرَّ ثِمارِهم فيُخرجونها في الصدقة، فنُهُوا عن لونَينِ من التمر، ونزلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3125 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی کھجوروں سے منع فرمایا: «الجُعْرور» اور «لون الحُبَيق» ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے پھلوں میں سے گھٹیا ترین تلاش کر کے صدقہ میں نکالا کرتے تھے، تو انہیں ان دو قسم کی کھجوروں سے روک دیا گیا اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ اور اس میں سے گھٹیا چیز (اللہ کی راہ میں) دینے کا ارادہ نہ کرو۔ [سورة البقرة: 267]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، سليمان بن كثير» [ترقيم الرساله 3162] [ترقيم الشركة 3143] [ترقيم العلميه 3125]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3163
[حدَّثَنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي ومحمد بن بن أنس القرشي قالا] (2) : حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني صالح بن أبي عَرِيب، عن كَثير بن مُرَّة، عن عَوْف بن مالك قال: خرج رسول الله ﷺ ومعه عصًا، فإذا أقْناءٌ معلَّقة، قِنوٌ منها حَشَفٌ، فَطَعَنَ في ذلك القِنْو وقال:"ما يَضُرُّ صاحبَ هذه لو تَصدَّق بأطيبَ من هذه؟ إنَّ صاحب هذه لَيَأكلُ الحَشَفَ يومَ القيامة" ثم قال:"واللهِ لَتَدَعُنَّها مُذلَّلةً أربعين عامًا للعَوَافي" ثم قال:"أتدرونَ ما العَوَافِي؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"الطيرُ والسِّباعُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3126 - صحيح
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لاٹھی ہاتھ میں لیے تشریف لائے، وہاں (صدقہ کی) کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشہ ردی اور سوکھی کھجوروں «الحشف» کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشے میں لاٹھی ماری اور فرمایا: اس صدقہ دینے والے کا کیا بگڑتا اگر وہ اس سے بہتر چیز صدقہ کرتا؟ یقیناً اس کھجور کے مالک کو قیامت کے دن ردی اور سوکھی کھجوریں ہی کھانے کو ملیں گی۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! تم ان باغات کو چالیس سال تک «عوافی» کے لیے چھوڑ دو گے۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، «عوافی» کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرندے اور درندے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3163]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل صالح بن أبي عَريب، وصحَّحه الحافظ ابن حجر في "الفتح" 6/ 228.» [ترقيم الرساله 3163] [ترقيم الشركة 3144] [ترقيم العلميه 3126]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل صالح بن أبي عَريب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ (وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ) الْآيَةَ
آیت“اور اس میں سے خراب چیز خرچ کرنے کا قصد نہ کرو”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3164
أخبرنا أبو أحمد محمد بن أحمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نصر، عن السُّدّي، عن عَدِيّ بن ثابت عن البَرَاء بن عازب في قول الله ﷿: ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ قال: نَزَلَت في الأنصار، كانت الأنصارُ تُخرِجُ إذا كان جِدَادُ النخل من حِيطانها أقناءَ البُسْر، فيُعلِّقونه على حدِّ رأس أُسطوانتين في مسجد رسول الله ﷺ، فيأكل منه فقراءُ المهاجرين، فيَعمِدُ أحدُهم فيُدخِلُ قِنوَ الحَشَفِ يُظنُّ أنه جائزٌ في كثرة ما يُوضَعُ من الأقناء، فنَزَل فيمن فعل ذلك: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ يقول: لا تَعمِدوا إلى الحَشَف منه تُنفِقون ﴿وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ يقول: لو أُهدِيَ لكم لم تَقبَلوه إلَّا على استحياءٍ من صاحبه غَيْظًا أنه بعث إليكم بما لم يكن له فيه حاجةٌ، ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ﴾ عن صَدَقاتِكم ﴿حَمِيدٌ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3127 - على شرط مسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، انصار کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کے باغات میں کھجوریں پکنے کا وقت آتا تو وہ کچی پکی کھجوروں کے خوشے نکالتے اور انہیں مسجد نبوی کے دو ستونوں کے درمیان لٹکا دیتے تاکہ فقراء مہاجرین ان میں سے کھا سکیں، تو ان میں سے کوئی شخص یہ گمان کرتے ہوئے کہ اتنے زیادہ خوشوں میں یہ بھی چل جائے گا، ردی اور سوکھی کھجوروں «الحشف» کا خوشہ بھی لٹکا دیتا، تب اس فعل پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ یعنی دانستہ طور پر ردی اور گھٹیا چیز نکالنے کا ارادہ نہ کرو ﴿وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ یعنی اگر یہی چیز تمہیں تحفے میں دی جائے تو تم دینے والے کی شرم و حیا اور اس بات پر غصے کی وجہ سے کہ اس نے تمہیں وہ چیز بھیجی ہے جس کی اسے خود ضرورت نہیں تھی، اسے بمشکل ہی قبول کرو گے، ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ﴾ اور جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بے نیاز ﴿حَمِيدٌ﴾ اور قابلِ ستائش ہے۔ [سورة البقرة: 267]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3164]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. السدي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 3164] [ترقيم الشركة 3145] [ترقيم العلميه 3127]

الحكم على الحديث: إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3165
أخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كانوا يكرهون أن يَرضَخُوا لأنسِبائِهم (1) وهم مشركون، فنزلت: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ حتى بلغ ﴿وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾ [البقرة: 272] ، قال: فرُخِّصَ لهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3128 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ کرام اپنے ان رشتہ داروں کو صدقہ دینا ناپسند کرتے تھے جو مشرک ہوں، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ سے لے کر ﴿وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾ انہیں ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے... اور تمہارے ساتھ ظلم نہیں کیا جائے گا۔ [سورة البقرة: 272] تک، راوی کہتے ہیں: پس ان کے لیے غیر مسلم رشتہ داروں کی مدد کی رخصت دے دی گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة» [ترقيم الرساله 3165] [ترقيم الشركة 3146] [ترقيم العلميه 3128]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں