المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
129. تَفْسِيرُ: (لَوْلَا أَنْ رَأَىَ بُرْهَانَ رَبِّهِ)
آیت“اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا”کی تفسیر
حدیث نمبر: 3365
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الكريمَ ابنَ الكريمِ ابنِ الكريمِ ابن الكريم، يوسفُ بن يعقوبَ ابن إسحاقَ بنِ إبراهيمَ خليلِ الرَّحمن. ولو لَبِثْتُ ما لَبِثَ يوسفُ ثم جاءني الداعي لأجبتُ، إذ جاءه الرسولُ فقال: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ [يوسف: 50] " (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الزُّهْري عن سعيد وأبي عُبيد عن أبي هريرة:"لو لبثتُ في السجن ما لَبِثَ يوسف" فقط (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3325 - وقد اتفقا على حديث سعيد وابن عبيد عن أبي هريرة
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث الزُّهْري عن سعيد وأبي عُبيد عن أبي هريرة:"لو لبثتُ في السجن ما لَبِثَ يوسف" فقط (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3325 - وقد اتفقا على حديث سعيد وابن عبيد عن أبي هريرة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک معزز، معزز کے بیٹے، معزز کے پوتے اور معزز کے پڑپوتے یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل الرحمن علیہم السلام ہیں۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنی مدت رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے اور پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں اسے فوراً قبول کر لیتا، جبکہ ان کے پاس جب بادشاہ کا قاصد آیا تو انہوں نے (رہائی کے بجائے) فرمایا: ﴿ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ﴾ [سورة يوسف: 50] ”اپنے رب (بادشاہ) کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ بیشک میرا رب ان کے مکر سے خوب واقف ہے“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس مکمل سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے زہری کی روایت جو سعید اور ابوعبید سے ہے، اس میں صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگر میں قید خانے میں اتنی مدت رہتا جتنی یوسف (علیہ السلام) رہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3365]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس مکمل سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے زہری کی روایت جو سعید اور ابوعبید سے ہے، اس میں صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگر میں قید خانے میں اتنی مدت رہتا جتنی یوسف (علیہ السلام) رہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3365]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذ إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي.» [ترقيم الرساله 3365] [ترقيم الشركة 3345] [ترقيم العلميه 3325]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3366
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا موسى بن عُليِّ بن رَبَاح، عن أبيه قال: استَأذنَ رجلٌ على عمر فقال: استأذِنوا لابن الأخيار، فقال عمر: ائذَنوا لابن الأخيار، فلما دخل قال له عمر: من أنت؟ قال: أنا فلانُ بنُ فلان بنِ فلان، قال: فجعل يَعُدُّ رجالًا من أشراف الجاهلية، فقال له عمر: أنت يوسفُ بنُ يعقوبَ بن إسحاقَ بنِ إبراهيم؟ قال: لا، قال: ذاك ابنُ الأخيارِ، وأنت ابنُ الأشرار، إنما تعدُّ عليَّ رجالَ أهل النار (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعُليُّ بن رباح تابعيٌّ كبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3326 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعُليُّ بن رباح تابعيٌّ كبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3326 - على شرط مسلم
موسی بن علی بن رباح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور (دربان سے) کہا: ”بہترین لوگوں کے بیٹے کے لیے اجازت طلب کرو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس بہترین لوگوں کے بیٹے کو اندر آنے کی اجازت دے دو۔“ جب وہ اندر آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں۔“ وہ دور جاہلیت کے معزز لوگوں میں سے اپنے آباؤ اجداد گننے لگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”وہ (سیدنا یوسف علیہ السلام) ہیں بہترین لوگوں کے بیٹے، جبکہ تم تو بدترین لوگوں کے بیٹے ہو، تم میرے سامنے جہنمیوں کے نام گنوا رہے ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور علی بن رباح کبار تابعین میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3366]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور علی بن رباح کبار تابعین میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، محمد بن سنان القزاز مختلف فيه وقد تفرَّد به، وعُلي بن رباح لم يدرك السماع من عمر بن الخطاب وُلد بالمغرب في آخر خلافة عمر أو صدر خلافة عثمان. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.» [ترقيم الرساله 3366] [ترقيم الشركة 3346] [ترقيم العلميه 3326]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3367
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائِني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال لي عمر: يا عدوَّ الله وعدوَّ الإسلام، خُنْتَ مالَ الله، قال: قلت: لستُ عدوَّ الله، ولا عدوَّ الإسلام، ولكني عدوُّ من عاداهما، ولم أَخُنْ مالَ الله، ولكنها أثمانُ إبلي وسهامٌ اجتمَعَت، قال: فأعادها عليَّ وأعدتُ عليه هذا الكلام، قال: فغرَّمني اثني عشر ألفًا، قال: فقمتُ في صلاة الغَدَاة فقلت: اللهمَّ اغفِرْ لأمير المؤمنين. فلما كان بعدَ ذلك أرادني على العمل، فأَبيتُ عليه، فقال: لِمَ وقد سأل يوسفُ العملَ وكان خيرًا منك؟ فقلت: إنَّ يوسف نبيٌّ ابنُ نبيٍّ ابنِ نبيٍّ ابنِ نبيّ، وأنا ابن أُمَيْمةٍ، وأنا أخاف ثلاثًا واثنتين، قال: أوَلا (1) تقول: خمسًا؟ قلت: لا، قال: فآتِهنَّ، قلت: أخاف أن أقولَ بغير علم، وأن أُفتيَ بغير علم، وأن يُضَرَبَ ظَهْري، ويُشتَمَ عِرْضي، وأن يُؤخَذَ مالي بالضرب (2) .
هذا حديث بإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3327 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث بإسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3327 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن اور اسلام کے دشمن! تم نے اللہ کے مال میں خیانت کی ہے۔“ میں نے عرض کیا: ”میں نہ تو اللہ کا دشمن ہوں اور نہ اسلام کا دشمن ہوں، بلکہ میں تو ان کا دشمن ہوں جو ان دونوں سے دشمنی رکھے۔ اور میں نے اللہ کے مال میں کوئی خیانت نہیں کی، بلکہ یہ تو میرے اونٹوں کی قیمتیں اور وہ حصے ہیں جو جمع ہو گئے تھے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر دوبارہ یہی بات دہرائی اور میں نے بھی وہی جواب دہرایا۔ انہوں نے مجھ پر بارہ ہزار کا جرمانہ عائد کر دیا۔ پھر میں صبح کی نماز میں کھڑا ہوا تو میں نے دعا کی: «اللهمَّ اغفِرْ لأمير المؤمنين» ”اے اللہ! امیر المومنین کی مغفرت فرما۔“ پھر اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دوبارہ ایک عہدے کی پیشکش کی تو میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے پوچھا: ”تم کیوں انکار کر رہے ہو جبکہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے خود عہدہ مانگا تھا اور وہ تم سے بہت بہتر تھے؟“ میں نے جواب دیا: ”بے شک سیدنا یوسف علیہ السلام نبی، ابن نبی، ابن نبی، ابن نبی تھے، اور میں تو امیمہ کا بیٹا ہوں، اور مجھے تین اور دو (یعنی پانچ) باتوں کا ڈر ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم سیدھا پانچ نہیں کہہ سکتے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ انہوں نے پوچھا: ”بتاؤ وہ کیا ہیں؟“ میں نے کہا: ”مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ میں علم کے بغیر کوئی بات کہوں، علم کے بغیر فتویٰ دوں، میری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں، میری عزت اچھالی جائے اور مجھے مار پیٹ کر میرا مال چھین لیا جائے۔“
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3367]
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3367]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3367] [ترقيم الشركة 3347] [ترقيم العلميه 3327]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
130. عِلَّةُ ذِهَابِ بَصَرِ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمُصَابِهِ
سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بینائی جانے اور ان کے غم کی وجہ
حدیث نمبر: 3368
حدثنا الشيخ أبو الوليد الفقيه، حدثنا خُشْنام (1) بن بِشْر، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي غَنِيَّة، عن حفص بن عمر بن الزُّبير، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"كان ليعقوبَ النبيِّ ﵇ أخٌ مُؤاخِيًا في الله، فقال ذاتَ يوم: يا يعقوبُ، ما الذي أذهَبَ بصرَك؟ وما الذي قوَّسَ ظَهرَك؟ قال: فقال: أمَّا الذي أذهَبَ بصري فالبكاءُ على يوسف، وأما الذي قوَّسَ ظَهري فالحزنُ على ابني يامين، قال: فأتاه جبريلُ ﵇ فقال: يا يعقوبُ، إِنَّ الله يُقرِئك السلامَ ويقول: أما تستحيي تَشكُوني إلى غيري، قال: فقال يعقوب: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ [يوسف: 86] فقال جبريل: أعلم ما تَشكُو يا يعقوب، قال: ثم قال يعقوب: أيْ ربِّ، أما تَرحمُ الشيخَ الكبير، أذهبتَ بصري وقوَّستَ ظهري، فاردُدْ عليَّ رَيْحانتي أشَمَّه شمًّا قبل الموت، ثم اصنَعْ بي ما أردتَ، قال: فأتاه جبريل فقال: إِنَّ الله يُقرِئُك السلامَ ويقول لك: أبشِرْ وليَفرَحْ قلبُك، فوَعِزَّتي لو كانا ميتين لنَشَرتُهما، فاصنَعْ طعامًا للمساكين، فإنَّ أحبَّ عبادي إليَّ الأنبياءُ والمساكينُ، وتدري لِمَ أذهبتُ بصرَك، وقوَّستُ ظهرَك وصَنَعَ إخوةُ يوسفَ به ما صنعوا؟ إنكم ذبحتُم شاةً فأتاكم مسكينٌ يتيمٌ وهو صائم، فلم تُطعِموه منه شيئًا، قال: فكان يعقوب بعدُ إذا أراد الغَداءَ أَمر مناديًا فنادى: ألَا من أراد الغداءَ من المساكين فليتَغدَّ مع يعقوب، وإذا كان صائمًا أَمر مناديًا فنادى: ألا من كان صائمًا من المساكين فليُفطِرْ مع يعقوب (2) . قال الحاكم: هكذا في سماعي بخطِّ يدي: حفص بن عمر بن الزُّبير، وأظنُّ الزبيرَ وهمًا من الراوي، فإنه حفصُ بن عمر بن عبد الله بن أبي طَلْحة الأنصاري ابنُ أخي أنس بن مالك، فإن كان كذلك فالحديثُ صحيح! وقد أخرج الإمام أبو يعقوب إسحاقُ بن إبراهيم الحَنظَلي هذا الحديثَ في التفسير مرسَلًا:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نبی سیدنا یعقوب علیہ السلام کا ایک اسلامی بھائی (اللہ کی رضا کے لیے بنایا گیا بھائی) تھا۔ ایک دن اس نے پوچھا: اے یعقوب! آپ کی بینائی کس چیز نے ختم کر دی؟ اور آپ کی کمر کس چیز نے جھکا دی؟ سیدنا یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: میری بینائی یوسف پر رونے نے ختم کی، اور میری کمر میرے بیٹے بنیامین کے غم نے جھکا دی۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور فرمایا: اے یعقوب! بے شک اللہ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: کیا آپ کو مجھ سے غیروں کے سامنے میری شکایت کرتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ سیدنا یعقوب علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ ”میں اپنی پریشانی اور رنج کی فریاد اللہ ہی کے حضور کرتا ہوں۔“ [سورة يوسف: 86] جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اے یعقوب! میں جانتا ہوں کہ آپ کیا شکایت کر رہے ہیں۔ پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے دعا کی: «أَيْ رَبِّ، أَمَا تَرْحَمُ الشَّيْخَ الْكَبِيرَ؟ أَذْهَبْتَ بَصَرِي وَقَوَّسْتَ ظَهْرِي، فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتِي أَشَمَّهُ شَمًّا قَبْلَ الْمَوْتِ، ثُمَّ اصْنَعْ بِي مَا أَرَدْتَ» ”اے میرے رب! کیا تو اس بوڑھے پر رحم نہیں فرماتا؟ تو نے میری بینائی لے لی اور میری کمر جھکا دی، پس میرا پھول (بیٹا) مجھے لوٹا دے تاکہ میں موت سے پہلے اسے ایک بار سونگھ لوں، پھر تو میرے ساتھ جو چاہے کر۔“ پس جبرائیل علیہ السلام دوبارہ آئے اور فرمایا: بے شک اللہ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: خوشخبری سن لیں اور آپ کا دل خوش ہو جائے، مجھے میری عزت کی قسم! اگر وہ دونوں مر بھی چکے ہوتے تو میں انہیں آپ کے لیے زندہ کر دیتا۔ پس آپ مساکین کے لیے کھانا تیار کریں، کیونکہ مجھے اپنے بندوں میں سے انبیاء اور مساکین سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی بینائی کیوں ختم کی، آپ کی کمر کیوں جھکائی اور یوسف کے بھائیوں نے اس کے ساتھ جو کیا وہ کیوں کیا؟ (یہ اس لیے ہوا کہ) تم لوگوں نے ایک بکری ذبح کی تھی اور تمہارے پاس ایک یتیم مسکین آیا جو روزے دار تھا، تو تم نے اسے اس میں سے کچھ بھی نہ کھلایا۔“ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد سیدنا یعقوب علیہ السلام کا معمول بن گیا کہ جب وہ صبح کا کھانا کھانا چاہتے تو منادی کو حکم دیتے اور وہ اعلان کرتا: ”سن لو! مساکین میں سے جو کوئی کھانا کھانا چاہتا ہے وہ یعقوب کے ساتھ آ کر کھا لے۔“ اور جب آپ روزے سے ہوتے تو منادی کو حکم دیتے اور وہ اعلان کرتا: ”سن لو! مساکین میں سے جو کوئی روزے دار ہے وہ یعقوب کے ساتھ آ کر افطار کر لے۔“
امام حاکم نے فرمایا: میرے سماع میں میرے اپنے ہاتھ کی لکھائی میں اسی طرح ”حفص بن عمر بن زبیر“ لکھا ہے، اور میرا گمان ہے کہ زبیر کا نام راوی کا وہم ہے، کیونکہ دراصل یہ ”حفص بن عمر بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری“ ہیں جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ حدیث صحیح ہے! اور امام ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے اس حدیث کو اپنی تفسیر میں مرسلاً بھی روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3368]
امام حاکم نے فرمایا: میرے سماع میں میرے اپنے ہاتھ کی لکھائی میں اسی طرح ”حفص بن عمر بن زبیر“ لکھا ہے، اور میرا گمان ہے کہ زبیر کا نام راوی کا وہم ہے، کیونکہ دراصل یہ ”حفص بن عمر بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری“ ہیں جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ حدیث صحیح ہے! اور امام ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے اس حدیث کو اپنی تفسیر میں مرسلاً بھی روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3368]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ومتنه منكر، كما قال الحافظ ابن كثير في "تفسيره" 4/ 330، حفص بن عمر بن الزبير كذا وقع مسمًّى عند المصنف، ولا يُعرَف مَن ذا، لكن وقع عند بعضهم مسمًّى: حفص بن عمر بن أبي الزبير وهذا ذكره ابن حبان في "ثقاته" 4/ 153 وأنه روى عن أنس ...» [ترقيم الرساله 3368] [ترقيم الشركة 3348]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ومتنه منكر
حدیث نمبر: 3369
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عمرو بن محمد، حدثنا زافرُ بن سليمان، عن يحيى بن عبد الملك، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ قال:"كان ليعقوبَ أخٌ مُؤاخِيًا" فذكر الحديث بنحوه (1) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا یعقوب علیہ السلام کا ایک اسلامی بھائی تھا۔۔۔“ پھر راوی نے اسی (پچھلی) حدیث کے ہم معنی پوری حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3369]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه وعبَّر عنه المصنِّف سابقًا بالإرسال، فإنَّ يحيى بن عبد الملك بن أبي غنية لم يدرك أنسًا بينهما رجل كما سبق، وزافر بن سليمان ليس بذاك القوي وله أوهام. وأخرجه ابن أبي الدنيا في "العقوبات" (154)، وفي "الفرج بعد الشدة" (43) من طريقين عن عمرو بن محمد - ...» [ترقيم الرساله 3369] [ترقيم الشركة 3349]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه وعبَّر عنه المصنِّف سابقًا بالإرسال
131. شَرْحُ مَعْنَي: (إِذَا اسْتَيْأَسَ) الْآيَةَ
آیت“جب وہ ناامید ہو گئے”کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3370
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا الحسن بن علي المَعمَري، حدثنا أبو مسلم عبد الرحمن بن واقد الحرَّاني حدثنا إبراهيم بن سعد، حدثني صالح بن كَيْسان، عن ابن شِهاب، عن [عروة بن الزُّبير] (1) عن عائشة؛ قال: قلتُ لها: قوله تعالى: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ [يوسف: 110] ، قلت: لقد استيأَسوا أنهم كُذِبوا خفيفةً، قالت: مَعاذَ اللهِ أن تكون الرُّسلُ تظنُّ ذلك بربِّها، إنما هم أتباعُ الرسل، لما استأخَرَ عنهم النصرُ واشتدَّ عليهم البلاءُ، ظنَّت الرسلُ أن أتباعهم قد كَذَّبوا! (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! [13 - سورة الرعد] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3330 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! [13 - سورة الرعد] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3330 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، (عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ) میں نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ [سورة يوسف: 110] کے متعلق پوچھا، میں نے کہا: ”یقیناً وہ اس بات سے مایوس ہو گئے تھے کہ انہیں جھٹلایا گیا ہے۔“ (اور «كذبوا» کو بغیر تشدید کے ہلکا پڑھا) تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ! رسول اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان کیسے کر سکتے ہیں، یہ تو رسولوں کے پیروکار تھے، جب ان کی مدد آنے میں تاخیر ہوئی اور ان پر آزمائش سخت ہو گئی تو رسولوں نے یہ گمان کیا کہ ان کے پیروکاروں نے انہیں جھٹلا دیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3370]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3370]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح عن عائشة، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبد الرحمن بن واقد، إلَّا أنه متابع.» [ترقيم الرساله 3370] [ترقيم الشركة 3350] [ترقيم العلميه 3330]
الحكم على الحديث: خبر صحيح عن عائشة
132. تَفْسِيرُ سُورَةِ الرَّعْدِ
سورۂ رعد کی تفسیر
حدیث نمبر: 3371
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وهشام بن علي السَّدُوسي، قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا صَدَقة بن موسى، عن محمد بن واسع، عن سُمَير، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ ربَّكم تعالى يقول: لو أنَّ عبادي أَطاعوني لَأسقيتُهم المطرَ بالليل وأَطلعتُ عليهم الشمسَ بالنهار، ولم أُسمِعْهم صوتَ الرَّعْد" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3331 - بل صدقة بن موسى واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3331 - بل صدقة بن موسى واه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تمہارا رب تعالیٰ فرماتا ہے: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں انہیں رات کے وقت بارش پلاؤں اور دن کے وقت ان پر سورج طلوع کروں، اور میں انہیں بادل گرجنے کی آواز نہ سناؤں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3371]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3371]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسى، ووهّاه الذهبي في "تلخيصه". سمير: هو ابن نهار، ويقال في اسمه: شُتير، وقد تفرَّد بالرواية عنه محمد بن واسع.» [ترقيم الرساله 3371] [ترقيم الشركة 3351] [ترقيم العلميه 3331]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسى
حدیث نمبر: 3372
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سليمان التَّيْمي، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [الرعد: 39] : من أحد الكتابَينِ، هما كتابان يَمحُو اللهُ ما يشاء من أحدِهما ويُثبِت، ﴿وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ أي: جُمْلةُ الكتاب (2) . قد احتجَّ مسلمٌ بحمَّاد واحتجَّ البخاري بعِكْرمة، وهو غريب صحيح من حديث سليمان التيمي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3332 - صحيح غريب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3332 - صحيح غريب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ [سورة الرعد: 39] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(یہ مٹانا) دو کتابوں میں سے ایک سے ہوتا ہے، یہ دو کتابیں ہیں، اللہ ان میں سے ایک سے جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے، اور ﴿وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔“
امام مسلم نے حماد سے اور امام بخاری نے عکرمہ سے دلیل پکڑی ہے، اور یہ سلیمان تیمی کی حدیث سے غریب صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3372]
امام مسلم نے حماد سے اور امام بخاری نے عکرمہ سے دلیل پکڑی ہے، اور یہ سلیمان تیمی کی حدیث سے غریب صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3372]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان التيمي» [ترقيم الرساله 3372] [ترقيم الشركة 3352] [ترقيم العلميه 3332]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
133. لَا يَنْفَعُ الْحَذَرُ مِنَ الْقَدَرِ
تقدیر سے بچاؤ کوئی فائدہ نہیں دیتا
حدیث نمبر: 3373
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن محمود، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا حنظلة، عن طاووس، عن ابن عبَّاس قال: لا يَنفعُ الحذرُ من القَدَر، ولكنَّ الله يَمحُو بالدعاءِ ما يشاء من القَدَر (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3333 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3333 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تقدیر سے بچنا کوئی فائدہ نہیں دیتا، لیکن اللہ تعالیٰ دعا کے ذریعے تقدیر میں سے جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3373]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3373]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،حامد بن محمود: هو ابن حرب النيسابوري المقرئ، وحنظلة: هو ابن أبي سفيان الجمحي.» [ترقيم الرساله 3373] [ترقيم الشركة 3353] [ترقيم العلميه 3333]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3374
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوري، عن طلحة، عن عطاء، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا﴾ [الرعد: 41] ، قال: موتُ علمائِها وفقهائِها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 14 - سورة إبراهيم ﵇ - ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3334 - طلحة بن عمرو قال أحمد متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 14 - سورة إبراهيم ﵇ - ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3334 - طلحة بن عمرو قال أحمد متروك
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا﴾ [سورة الرعد: 41] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد زمین کے علماء اور فقہاء کا فوت ہو جانا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3374]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3374]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، طلحة» [ترقيم الرساله 3374] [ترقيم الشركة 3354] [ترقيم العلميه 3334]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا