🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
169. يُمَثَّلُ لِكُلِّ قَوْمٍ مَعْبُودُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن ہر قوم کے سامنے اس کا معبود لا کر کھڑا کر دیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3465
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ والحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمة قالوا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا أبو غسّان مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، أخبرنا يزيد بن عبد الرحمن أبو خالد الدَّالَاني، حدثنا المِنهال بن عمرو، عن أبي عُبيدة، عن مسروق، عن عبد الله قال: يَجمَعُ اللهُ الناسَ يومَ القيامة، قال: فينادي منادٍ: يا أيها الناس، ألم تَرضَوْا من ربِّكم الذي خَلَقَكم ورَزَقَكم وصوَّرَكم، أن يُولِّيَ كلَّ إنسان منكم إلى من كان يتولَّى في الدنيا؟ قال: ويُمثَّلُ لمن كان يَعبُد عُزَيرًا شيطانُ عُزيرٍ، حتى يُمثَّلَ - أو تُمثَّل - لهم الشجرةُ والعُودُ والحَجَرُ، ويبقى أهلُ الإسلام جُثومًا، فيقال لهم: ما لكم لم تنطلقوا كما ينطلقُ الناسُ؟ فيقولون: إنَّ لنا ربًّا ما رأَيناه بعدُ، قال: فيقال: فبِمَ تعرفون ربَّكم إنْ رأيتموه؟ قالوا: بينَنا وبينَه علامةٌ، إنْ رأَيناه عَرَفْناه، قيل: وما هي؟ قالوا: يُكشَف عن ساقٍ، قال: فيُكشَفُ عند ذلك عن ساقٍ، قال: فيَخِرُّ من كان لظَهرِه طَبَقٌ (2) ساجدًا، ويبقى قومٌ ظهورُهم كصَيَاصِي البَقَر (1) يريدون السجودَ فلا يستطيعون. ثم يُؤمَرون فيَرفَعون رؤوسَهم فيُعطَونَ نورَهم على قَدْر أعمالهم، قال: فمنهم من يُعطَى نورَه مثلَ الجبل بين يديه، ومنهم من يُعطَى نورَه فوق ذلك، ومنهم من يُعطَى نورَه مثلَ النَّخْلة بيمينه، ومنهم من يُعطَى دون ذلك بيمينه، حتى يكونَ آخرُ ذلك من يُعطَى نورَه على إبهام قَدَمه، يُضيءُ مرةً ويَطفَأُ مرةً، فإذا أضاء قدَّمَه (2) ، وإذا طَفِئَ قام، قال: فيَمرُّ، ويمرُّون على الصِّراط، والصراطُ كحَدِّ السيف، دَحْضٌ مَزَلَّةٌ (3) ، فيقال لهم: انجُوا على قَدْرِ نُوركم، فمنهم من يمرُّ كانقِضاض الكوكب، ومنهم من يمرُّ كالطَّرْف، ومنهم من يمرُّ كالرِّيح، ومنهم من يمرُّ كشَدِّ الرَّجُل ويَرمُل رَمَلًا، فيمرُّون على قَدْر أعمالهم، حتى يمرَّ الذي نورُه على إبهام قدمِه، قال: تَخِرُّ يدٌ وتَعلَقُ يدٌ، وَتَخِرُّ رِجلٌ وتَعلَقُ، رجلٌ، وتصيبُ بجوانبه النارُ، قال: فيَخلُصون، فإذا خَلَصُوا قالوا: الحمد لله الذي نجَّانا منكِ بعد الذي أراناكِ، لقد أعطانا الله ما لم يُعطِ أحدًا. قال مسروق: قَلَّما بَلَغَ عبدُ الله هذا المكانَ من هذا الحديث إلَّا ضَحِكَ، فقال له رجل: يا أبا عبد الرحمن، لقد حدَّثتَ هذا الحديث مِرارًا، كلَّما بلغتَ هذا المكانَ من هذا الحديث ضحكتَ! فقال عبد الله: سمعتُ رسول الله ﷺ يحدِّثُه مِرارًا، قَلَّما بَلَغَ هذا المكانَ من هذا الحديث إلَّا ضَحِكَ حتى تَبدُوَ لَهَواتُه ويَبدُوَ آخرُ ضِرسٍ من أضراسه، لقول الإنسان: أَتهزَأُ بي وأنت ربُّ العالمين؟! فيقول: لا، ولكنِّي على ذلك قادرٌ، فسَلُوني (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3424 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائے گا، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: اے لوگو! کیا تم اپنے اس رب سے راضی نہیں ہو جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں رزق دیا اور تمہاری صورتیں بنائیں، کہ وہ تم میں سے ہر انسان کو اسی کے سپرد کر دے جس کی وہ دنیا میں پیروی کرتا تھا؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر (باطل معبودوں کی شکلیں بنا دی جائیں گی) یہاں تک کہ جو سیدنا عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتا تھا اس کے لیے عزیر کا شیطان پیش کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ ان کے لیے درخت، لکڑی اور پتھر تک کی شکلیں بنا دی جائیں گی، جبکہ اہل اسلام گھٹنوں کے بل بیٹھے رہ جائیں گے، پس ان سے کہا جائے گا: تمہیں کیا ہوا کہ تم بھی ویسے ہی نہیں چلے جاتے جیسے باقی لوگ چلے گئے؟ وہ جواب دیں گے: بے شک ہمارا ایک رب ہے جسے ہم نے ابھی تک (بچشمِ خود) دیکھا نہیں ہے، تب ان سے پوچھا جائے گا: اگر تم اپنے رب کو دیکھ لو تو اسے کس علامت سے پہچانو گے؟ وہ کہیں گے: ہمارے اور اس کے درمیان ایک نشانی ہے کہ جب ہم اسے دیکھیں گے تو پہچان لیں گے، پوچھا جائے گا: وہ کیا ہے؟ وہ کہیں گے: «ساق» (پنڈلی) کا ظاہر کیا جانا، وہ بیان کرتے ہیں کہ اسی وقت «يُكشَفُ عَنْ سَاقٍ» «ساق» ظاہر کر دی جائے گی، تو جو (دنیا میں اخلاص سے) سجدہ کرنے والے تھے وہ سجدے میں گر جائیں گے، جبکہ وہ لوگ پیچھے رہ جائیں گے جن کی پیٹھیں گائے کے سینگوں کی طرح (سخت اور ناخمیاب) ہوں گی، وہ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر کر نہیں پائیں گے۔ پھر انہیں حکم دیا جائے گا تو وہ اپنے سر اٹھائیں گے اور انہیں ان کے اعمال کے بقدر نور عطا کیا جائے گا، ان میں سے کسی کو پہاڑ جتنا نور اس کے سامنے دیا جائے گا، کسی کو اس سے بھی زیادہ، کسی کو اس کی دائیں جانب کھجور کے درخت جتنا نور ملے گا اور کسی کو اس سے کم، یہاں تک کہ آخری شخص وہ ہوگا جسے اس کے پاؤں کے انگوٹھے پر نور ملے گا جو کبھی روشن ہوگا اور کبھی بجھ جائے گا، جب وہ روشن ہوگا تو وہ اپنا قدم آگے بڑھائے گا اور جب بجھ جائے گا تو وہ کھڑا ہو جائے گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر سب کا گزر پل صراط پر ہوگا، اور صراط تلوار کی دھار کی مانند (تیز) اور نہایت پھسلن والی جگہ ہے، ان سے کہا جائے گا: اپنے نور کے مطابق نجات حاصل کرو، چنانچہ ان میں سے کوئی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی طرح گزر جائے گا، کوئی پلک جھپکنے کی رفتار سے، کوئی ہوا کی طرح، کوئی تیز دوڑنے والے آدمی کی طرح اور کوئی عام رفتار سے چلے گا، غرض وہ اپنے اعمال کے مطابق پار ہوں گے، یہاں تک کہ وہ شخص گزرے گا جس کا نور اس کے انگوٹھے پر ہوگا، وہ بیان کرتے ہیں کہ (مشقت کی وجہ سے) اس کا ایک ہاتھ گرے گا اور ایک لٹک جائے گا، ایک پاؤں گرے گا اور ایک لٹک جائے گا اور آگ اس کے پہلوؤں کو چھو رہی ہوگی، وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ سب نجات پا جائیں گے، اور جب وہ نجات پا لیں گے تو کہیں گے: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں تجھ (آگ) سے نجات دی اس کے بعد کہ اس نے ہمیں تجھ کو دکھا دیا تھا، یقیناً اللہ نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا جو اس نے کسی کو نہیں دیا۔ مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب بھی اس حدیث کے اس مقام پر پہنچتے تو وہ مسکرا دیتے، ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ نے یہ حدیث کئی بار بیان کی ہے اور جب بھی آپ اس مقام پر پہنچتے ہیں تو ہنس دیتے ہیں! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے بارہا بیان کرتے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب اس مقام پر پہنچتے تو ہنس دیتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو اور آخری داڑھیں مبارک نظر آنے لگتیں، کیونکہ انسان (حیرت و خوشی سے) کہے گا: (اے اللہ!) کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: نہیں، بلکہ میں اس پر قادر ہوں، پس تم مجھ سے مانگو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3465]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي خالد الدالاني، والمنهال بن عمرو وثقه ابن معين وغيره، وقال الدارقطني: صدوق. والحديث وإن كانت صورته الوقف هنا، فإنَّ في آخر الحديث ما يُنبئ بالرَّفع. أبو عبيدة: هو ابن عبد الله بن مسعود. وسيأتي بنحوه بأطول ممّا هنا برقم (8966) من طريق أحمد بن أبي ...» [ترقيم الرساله 3465] [ترقيم الشركة 3444] [ترقيم العلميه 3424]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل أبي خالد الدالاني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3466
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا أبو معاوية. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد؛ قالا: حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق القُرشي، عن النُّعمان بن سعد، عن عليٍّ في هذه الآية: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم: 85] ، قال علي: أمَا واللهِ ما يُحشَرُ الوفدُ على أرجلهم، ولا يُساقُون سَوقًا، ولكنهم يُؤتَونَ بنُوقٍ (1) لم تَرَ الخلائقُ مثلَها، عليها رَحْلُ الذهب، وأزِمَّتُها الزَّبَرجَد، فيركبون عليها حتى يَضرِبوا أبوابَ الجنة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3425 - بل عبد الرحمن لم يرو له مسلم ولا لخاله النعمان وضعفوه
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [سورة مريم: 85] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ وفد اپنے پیروں پر چل کر جمع نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں (جانوروں کی طرح) ہنکا کر لایا جائے گا، بلکہ انہیں ایسی اونٹنیوں پر لایا جائے گا کہ مخلوق نے ان جیسی کبھی نہیں دیکھی ہوں گی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے اور ان کی مہاریں زبرجد (قیمتی پتھر) کی ہوں گی، وہ ان پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازوں پر دستک دیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3466]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق، وليس هو بالقرشي كما توهَّمه بعض رواة الإسناد، بل هو أبو شيبة الواسطي، وهو ابن أخت النُّعمان بن سعد وقد تفرَّد بالرواية عنه، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 3466] [ترقيم الشركة 3445] [ترقيم العلميه 3425]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
170. تَفْسِيرُ آيَةِ (إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا)
آیت“مگر وہ جس نے رحمٰن کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہو”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3467
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، حدثنا المسعوديُّ، عن عَوْن، عن الأسوَد بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود أنه قرأ ﴿إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [مريم: 87] ، قال: اتَّخِذُوا عند الرحمن عهدًا، فإنَّ الله يقول يومَ القيامة: من كان له عندي عهدٌ فليَقُمْ. قال: فقلنا: فعَلِّمْنا يا أبا عبد الرحمن، قال: قولوا: اللهمَّ فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيب والشهادة، إني أَعهدُ إليك في هذه الحياة الدنيا (2) ، إنك إنْ تَكِلْني إلى عملٍ (3) تُقرِّبْني من الشرِّ، وتُباعِدْني من الخير، وإني لا أثِقُ إلَّا برحمتِك، فاجعله لي عندَك عهدًا تؤدِّيهِ إليَّ يومَ القيامة، إنك لا تُخلِفُ الميعادَ (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [20 - ومن تفسير سورة طه]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3426 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [سورة مريم: 87] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: تم رحمن کے پاس ایک عہد کر لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: جس کا میرے پاس کوئی عہد ہے وہ کھڑا ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! (وہ عہد کیا ہے؟) ہمیں سکھائیں، تو انہوں نے کہا: یوں کہو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، إِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى عَمَلٍ تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تؤدِّيهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ.» اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کے جاننے والے، میں اس دنیاوی زندگی میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے میرے (نفس کے) عمل کے سپرد کر دیا تو وہ مجھے برائی کے قریب اور خیر سے دور کر دے گا، اور میں صرف تیری رحمت پر ہی بھروسہ کرتا ہوں، پس تو اس اقرار کو میرے لیے اپنے پاس ایک ایسا عہد بنا دے جسے تو قیامت کے دن مجھے پورا کر کے عطا فرمائے، یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3467]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح موقوف، وهذا إسناد منقطع بين عون» [ترقيم الرساله 3467] [ترقيم الشركة 3446] [ترقيم العلميه 3426]

الحكم على الحديث: خبر صحيح موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
171. تَفْسِيرُ سُورَةِ طه
سورۂ طٰہٰ کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3468
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة، أخبرنا عمر بن أبي زائدة قال: سمعت عِكرمةَ يَذكُر عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿طه﴾ قال: هو كقولك: يا محمدُ، بلسانِ الحَبَش (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3427 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿طه﴾ [سورة طه: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: حبشی زبان میں اس کا مفہوم اے محمد! کے برابر ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3468]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي. وقد انفرد به الحاكم.» [ترقيم الرساله 3468] [ترقيم الشركة 3447] [ترقيم العلميه 3427]

الحكم على الحديث: إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
172. بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ
آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3469
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد قال: حدثني سِمَاك بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة، عن العبَّاس بن عبد المطَّلِب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبطحاءِ فمرَّتْ سحابةٌ، فقال رسول الله ﷺ:"أتدرونَ ما هذا؟" فقلنا: اللهُ ورسولُه أعلمُ، فقال:"السَّحَابُ" فقلنا: السَّحابُ، فقال:"والمُزْنُ" فقلنا: والمُزْن، فقال:"والعَنَانُ" ثم سَكَتَ، ثم قال:"تدرونَ كم بين السماءِ والأرض؟" فقلنا: الله ورسوله أعلمُ، فقال:"بينهما مَسِيرةُ خمسِ مئةِ سنة، وبين كلِّ سماءٍ إلى السماء التي تَلِيها مسيرةُ خمسِ مِئة سنة، وكِثَفُ كلِّ سماء مسيرةُ خمسِ مئة سنة، وفوقَ السماءِ السابعة بحرٌ بين أعلاهُ وأسفلِه كما بين السماء والأرض، ثم فوقَ ذلك ثمانيةُ أوْعالٍ بين رُكَبِهم وأظلافِهم كما بين السماء والأرض، واللهُ فوقَ ذلك ليس يَخفَى عليه من أعمالِ بني آدمَ شيءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3428 - وقد مر وهو صحيح
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم بطحاء کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے ایک بادل گزرا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ «السَّحَابُ» (بادل) ہے۔ ہم نے بھی کہا: یہ بادل ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور یہ «المُزْنُ» (برستا ہوا بادل) ہے۔ ہم نے بھی کہا: یہ «المُزْنُ» ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور یہ «العَنَانُ» (آسمان کی بلندی پر چھایا ہوا بادل) ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک بھی پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے جس کے اوپر اور نچلے حصے کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ «أوْعالٍ» (پہاڑی بکروں کی شکل کے فرشتے) ہیں جن کے گھٹنوں اور کھروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کے بھی اوپر ہے اور اس پر بنی آدم کے اعمال میں سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3469]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا. وهو مكرَّر (3174).» [ترقيم الرساله 3469] [ترقيم الشركة 3448] [ترقيم العلميه 3428]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3470
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار الزاهد، حدثنا أبو نَصْر أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو غسّان مالك بن إسماعيل، حدثنا شَرِيك، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة، عن العبَّاس بن عبد المطَّلب في قول الله ﷿: ﴿وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ﴾ [الحاقة: 17] ، قال: ثمانيةُ أملاكٍ على صورة الأَوعال، بين أظلافِهم ورُكَبِهم مسيرةُ ثلاثٍ وستين سنةً أو خمسٍ وستين سنةً (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3429 - على شرط مسلم
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ﴾ [سورة الحاقة: 17] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد آٹھ فرشتے ہیں جو پہاڑی بکروں کی صورت میں ہیں، جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان تریسٹھ یا پینسٹھ سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3470]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وهو هنا موقوف، شريك - وهو ابن عبد الله النَّخعي - في حفظه شيء لكنه متابع، وأما سماك - فهو وإن كان صدوقًا - ليس بذاك الحُجة، وقد انفرد بالرواية عن عبد الله بن عميرة، وهذا لا يُعرَف، وبينه وبين العبَّاس انقطاع، وسيأتي برقم (3890) من طريق الحسين ...» [ترقيم الرساله 3470] [ترقيم الشركة 3449] [ترقيم العلميه 3429]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
173. بَيَانُ مَعْنَى السِّرِ وَبَيَانُ مَعْنَى (أَخْفَى)
لفظ“سِرّ”اور لفظ“أخفى”کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3471
حدثنا محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشْتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى﴾ [طه: 7] ، قال: السِّرُّ: ما عَلِمتَه أنت، وأَخفى: ما قَذَفَ اللهُ في قلبك ممّا لم تَعلَمْه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3430 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى﴾ [سورة طه: 7] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: «السِّرُّ» سے مراد وہ (راز) ہے جسے تم جانتے ہو، اور «أَخفى» سے مراد وہ (پوشیدہ بات) ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل میں ڈال دی ہو مگر تم ابھی اسے نہیں جانتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3471]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. وأخرجه الطبري في "تفسيره" 16/ 139 من طريق حكّام بن سلم، عن عمرو بن أبي قيس، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3471] [ترقيم الشركة 3450] [ترقيم العلميه 3430]

الحكم على الحديث: إسناده حسن. وأخرجه الطبري في "تفسيره" 16/ 139 من طريق حكّام بن سلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
174. لِبَاسُ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - حِينَ كَلَّمَ رَبَّهُ عَلَى الطُّورِ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لباس جب انہوں نے کوہِ طور پر اپنے رب سے کلام کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3472
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عمر بن حفص بن غِيَاث، حدثنا أَبي وخَلَف بن خليفة، عن حُميد بن قيس، عن عبد الله بن الحارث، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"يومَ كلَّمَ اللهُ موسى كانت عليه جُبَّةُ صوفٍ وكِساءُ صوفٍ وسَراويلُ صوفٍ وكُمَّةُ صوفٍ، ونَعلانِ من جلدِ حمارٍ غيرِ ذكيٍّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3431 - بل ليس على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس دن اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا، اس وقت ان کے جسم پر اون کا جبہ، اون کی چادر، اون کا پاجامہ اور اون ہی کی ٹوپی تھی، اور ان کے جوتے غیر ذبح شدہ گدھے کی کھال کے بنے ہوئے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3472]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، حميد بن قيس هذا قد وَهِمَ أحدُ الرواة فسمّاه هكذا، والصواب أنه حميد بن علي أو ابن عمار، وهو أحد المتروكين كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقد سبق للمصنف أن نبَّه على ذلك حيث خرَّجه فيما سلف برقم (76)، وذَهَلَ عنه هنا.» [ترقيم الرساله 3472] [ترقيم الشركة 3451] [ترقيم العلميه 3431]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3473
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا أبو هلال، حدثنا قَتَادة، عن أبي حسّان، عن عِمران بن حُصَين قال: كان النبي ﷺ يحدِّثنا عامَّةَ ليلِه عن بني إسرائيل، لا يقومُ إِلَّا لعُظْمِ صلاة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3432 - صحيح
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اکثر رات ہمیں بنی اسرائیل کے حالات سنانے میں صرف فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز کے بڑے وقت (یعنی فرض نماز کی ادائیگی) کے لیے ہی قیام فرماتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3473]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن من حديث عبد الله بن عمرو لا من حديث عمران بن حصين، فإنَّ أبا هلال - وهو محمد بن سليم الراسبي - في روايته عن قتادة بخاصّة مقال، وقد خالفه من هو أوثق منه بمفاوز فجعله عن عبد الله بن عمرو بن العاص كما سيأتي، وباقي رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 3473] [ترقيم الشركة 3452] [ترقيم العلميه 3432]

الحكم على الحديث: حديث صحيح لكن من حديث عبد الله بن عمرو لا من حديث عمران بن حصين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
175. مَا يُقْرَأُ عِنْدَ وَضْعِ الْجِنَازَةِ فِي الْقَبْرِ
جنازہ قبر میں رکھتے وقت پڑھی جانے والی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3474
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثني أَبي، حدثنا يحيى بن أيوب، عن عُبيد الله بن زَحْر، عن علي بن يزيد، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبي أُمامةَ قال: لما وُضِعَت أمُّ كُلْثوم بنت رسول الله ﷺ في القبر، قال رسول الله ﷺ: ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾ [طه: 55] ، باسم الله وفي سبيلِ الله وعلى مِلَّة رسول الله"، فلما بُنِيَ عليها لَحْدُها طَفِقَ يَطرَحُ إليهم الجَبُوبَ ويقول:"سُدُّوا خِلالَ اللَّبِنِ" ثم قال:"أمَا إِنَّ هذا ليس بشيءٍ، ولكنَّه يُطيِّبُ بنَفْس الحيِّ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3433 - لم يتكلم عليه وهو خبر واه لأن علي بن يزيد متروك
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبر میں اتارا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا، اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔ [سورة طه: 55] اور فرمایا: «بِاسْمِ اللهِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رسول اللهِ» اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ کے دین پر۔ پھر جب ان کی لحد تیار کر لی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود لوگوں کو مٹی ڈالنے لگے اور فرمانے لگے: اینٹوں کے درمیان کی دراڑیں بند کر دو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً یہ (مٹی اور اینٹیں) کوئی نفع بخش چیز نہیں (یعنی میت کو فائدہ نہیں دیتی)، لیکن اس سے زندوں کا جی خوش ہو جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل علي بن يزيد - وهو الألْهاني - ووهَّى الذهبي الخبر في "تلخيصه" وقال: لأنَّ علي بن يزيد متروك. قلنا: وعبيد الله بن زَحْر فيه ضعف وبخاصة في علي بن يزيد.» [ترقيم الرساله 3474] [ترقيم الشركة 3453] [ترقيم العلميه 3433]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل علي بن يزيد - وهو الألْهاني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں