المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
179. دُعَاءُ ذِي النُّونِ فِي بَطْنِ الْحُوتِ
حضرت ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی مچھلی کے پیٹ میں کی گئی دعا
حدیث نمبر: 3485
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب إملاءً وقراءةً، حدثنا محمد بن علي بن ميمون الرَّقِّي، حدثنا محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثني يونس بن أبي إسحاق، عن إبراهيم بن محمد بن سعد، عن محمد بن سعد، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"دُعاءُ ذِي النُّونِ إِذْ دعا به وهو في بَطْن الحوت: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87] ، أنه لم يَدْع بها رجلٌ مسلمٌ في شيءٍ قطُّ إِلَّا استُجيبَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3444 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3444 - صحيح
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہتے ہوئے کی تھی: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ”(اے اللہ!) تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصورواروں میں سے ہوں۔“ [سورة الأنبياء: 87] حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص کسی بھی معاملے میں اس کے ذریعے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3485]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3485]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن إسحاق. وهو مكرر (1883).» [ترقيم الرساله 3485] [ترقيم الشركة 3464] [ترقيم العلميه 3444]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3486
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن مسعود في قوله: ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ﴾ قال: ظُلْمة الليل، وظلمةُ بَطْن الحوت، وظُلْمة البحر (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3445 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3445 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ﴾ [سورة الأنبياء: 87] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (ان تاریکیوں سے مراد) رات کی تاریکی، مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور سمندر کی تاریکی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3486]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3486]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 3486] [ترقيم الشركة 3465] [ترقيم العلميه 3445]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3487
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا طلحة بن عمرو، عن عطاء، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ﴾ [الأنبياء: 90] قال: كان في لسانِ امرأة زكريّا طولٌ، فأصلَحَه الله (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3446 - طلحة بن عمرو واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3446 - طلحة بن عمرو واه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ﴾ [سورة الأنبياء: 90] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: زکریا علیہ السلام کی اہلیہ کی زبان میں کچھ تیزی (درازی) تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اسے درست فرما دیا (یعنی ان کے اخلاق و کلام میں شائستگی پیدا کر دی)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3487]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3487]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل طلحة بن عمرو الحضرمي، ووهّاه الذهبي في "تلخيصه". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وعطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 3487] [ترقيم الشركة 3466] [ترقيم العلميه 3446]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل طلحة بن عمرو الحضرمي
180. خُطْبَةُ أَبي بَكْرٍ الصِّدِّيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ
حدیث نمبر: 3488
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، أخبرنا الله بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن عبد الله بن عُبيد القُرَشي، عن عبد الله بن عُكَيم، قال: خَطَبَنا أبو بكر الصِّدِّيق، فحَمِدَ اللهَ وأَثنى عليه بما هو له أهلٌ، قال: أُوصيكم بتقوى الله وأن تُثْنُوا عليه بما هو له أَهلٌ، وأن تَخلِطُوا الرَّغبةَ بالرَّهبة، فإنَّ الله أَثنى على زكريا وأهلِ بيتِه فقال: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾ [الأنبياء: 90] . ثمَّ اعلَموا عبادَ الله أن الله قد ارتَهَنَ بحقِّه أنفسَكم، وأَخَذَ على ذلك مواثيقَكم، واشترى منكم القليلَ الفانيَ بالكثير الباقي، وهذا كتابُ الله فيكم لا يَطفَأُ نورُه ولا تنقضي عجائبُه، فاستَضيؤوا بنُورِه، وانتصِحُوا كتابَه، واستَضيؤوا منه ليوم الظُّلمة، فإنه إنما خَلَقكم لعبادته، ووَكَّلَ بكم كِرامًا كاتبينَ يعلمون ما تفعلون. ثم اعلَموا عبادَ الله أنكم تَغدُون وتَرُوحون في أجَلٍ قد غُيِّب عنكم عِلمُه، فإن استطعتم أن تنقضيَ الآجالُ وأنتم في عمل الله فافعلوا، ولن تستطيعوا ذلك إلَّا بالله، فسابِقُوا في مَهَلٍ آجالَكم قبل أن تنقضيَ آجالُكم فيَردَّكم إلى سُوءِ أعمالِكم، فإنَّ قومًا جعلوا آجالَهم لغيرهم ونَسُوا أنفسَهم، فأنهاكم أن تكونوا أمثالَهم، فالوَحَا الوَحَا، ثم النَّجَا النَّجَا، فإنَّ وراءَكم طالب حَثيث (1) ، مَرُّه سريع (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3447 - عبد الرحمن بن إسحاق كوفي ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3447 - عبد الرحمن بن إسحاق كوفي ضعيف
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ہمیں خطبہ دیا، پس اللہ تعالیٰ کی ویسی ہی حمد و ثنا بیان کی جیسا کہ وہ اس کا اہل ہے، پھر فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں اور یہ کہ تم اس کی ویسی ہی تعریف کرو جس کا وہ حقدار ہے، اور اپنی رغبت (امید) کو رہبت (خوف) کے ساتھ ملا کر رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾ [سورة الأنبياء: 90] ”بے شک وہ لوگ نیک کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے، اور ہمیں امید اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور وہ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔“ پھر اے اللہ کے بندو! جان لو کہ اللہ نے اپنے حق کے عوض تمہاری جانوں کو رہن (گروی) رکھا ہے، اور اس پر تم سے پختہ عہد لیے ہیں، اس نے تم سے تمہاری اس تھوڑی سی فانی زندگی کے بدلے آخرت کی بہت سی دائمی نعمتوں کو خرید لیا ہے، اور یہ تمہارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے جس کا نور کبھی نہیں بجھتا اور نہ ہی اس کے عجائب کبھی ختم ہوتے ہیں، پس اس کے نور سے روشنی حاصل کرو، اس کی کتاب سے نصیحت پکڑو، اور اندھیرے کے دن (قیامت) کے لیے اس سے رہنمائی لو، کیونکہ اللہ نے تمہیں محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، اور تم پر معزز لکھنے والے فرشتے مقرر کیے ہیں جو تمہارے ہر عمل کو جانتے ہیں۔ پھر اے اللہ کے بندو! یہ بھی جان لو کہ تم ایک ایسی مقررہ مدت میں صبح و شام کر رہے ہو جس کا علم تم سے پوشیدہ رکھا گیا ہے، پس اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ تمہاری زندگی کے لمحات اس حال میں ختم ہوں کہ تم اللہ کی اطاعت کے کاموں میں مشغول ہو تو ضرور ایسا کرو، اور تم اللہ کی توفیق کے بغیر ایسا کرنے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے، لہٰذا اپنی موت کے آنے سے پہلے مہلت کے لمحات میں (نیکیوں کی طرف) دوڑو اس سے پہلے کہ تمہاری زندگی ختم ہو جائے اور وہ تمہیں تمہارے برے اعمال کی طرف دھکیل دے، کیونکہ کچھ لوگوں نے اپنی زندگی کی مہلت دوسروں کے لیے ضائع کر دی اور خود اپنے انجام کو بھول گئے، پس میں تمہیں اس بات سے روکتا ہوں کہ تم ان جیسے بن جاؤ، لہٰذا جلدی کرو جلدی کرو، اور نجات پاؤ نجات پاؤ، کیونکہ تمہارے پیچھے ایک نہایت مستعدی سے تعاقب کرنے والا (موت) لگا ہوا ہے جس کی رفتار بہت تیز ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3488]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3488]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق» [ترقيم الرساله 3488] [ترقيم الشركة 3467] [ترقيم العلميه 3447]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
181. مُذَاكَرَةُ السَّاعَةِ بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ فِي لَيْلَةِ الْإِسْرَاءِ
شبِ معراج میں انبیاء علیہم السلام کے درمیان قیامت کے بارے میں باہمی گفتگو
حدیث نمبر: 3489
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، عن جَبَلة بن سُحَيم، عن مُؤْثِر بن عَفَازَة، عن عبد الله بن مسعود قال: لما أُسرِيَ ليلةَ أُسرِيَ بالنبي ﷺ، لقيَ إبراهيمَ وموسى وعيسى، فتذاكروا الساعةَ، فبدؤوا بإبراهيمَ فسألوه عنها، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، ثم موسى، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، فتراجَعُوا الحديثَ إلى عيسى، فقال عيسى: عَهِدَ اللهُ إليَّ فيما دون وَجْبتِها فلا نعلَمُها - قال: فذَكَرَ من خروج الدَّجال - فأَهبِطُ فاقتلُه، ويَرجِعُ الناسُ إلى بلادهم فيَستقبِلُهم يأجوجُ ومأجوجُ وهم من كلِّ حَدَبٍ يَنسِلُون، فلا يَمرُّون بماءٍ إِلَّا شربوه ولا يَمرُّون بشيءٍ إِلَّا أَفسدُوه، فيَجأَرُون إلى الله فيَدعُون اللهَ فيُميتُهم، فتَجأَرُ الأرضُ إلى الله من رِيحهم، ويَجأَرُون إليَّ، فأَدعُو، فيُرسِل السماءَ بالماء، فيحمل أجسامَهم فيَقذِفُها في البحر، ثم تُنسَفُ الجبالُ وتُمدُّ الأرضُ مدَّ الأَدِيم، فعَهِدَ اللهُ إليَّ إذا كان ذلك، فإنَّ الساعة من الناس كالحامل المُتِمِّ، لا يدري أهلُها متى تَفجَؤُهم بولادتِها ليلًا أو نهارًا. قال عبد الله: فوجدتُ تصديق ذلك في كتاب الله ﷿: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ الآية [الأنبياء: 96، 97] ، قال: وجميعُ الناس من كل مكانٍ جاؤوا منه يومَ القيامة فهو حَدَبٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فأمّا مُؤْثِر فليس بمجهولٍ، قد روى عن عبد الله بن مسعود والبراء بن عازب، وروى عنه جماعةٌ من التابعين (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3448 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فأمّا مُؤْثِر فليس بمجهولٍ، قد روى عن عبد الله بن مسعود والبراء بن عازب، وروى عنه جماعةٌ من التابعين (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3448 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی۔ انہوں نے آپس میں قیامت کے بارے میں تذکرہ چھیڑا، پہلے انہوں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا تو ان کے پاس اس کے (وقت کے) بارے میں کوئی علم نہ تھا، پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو ان کے پاس بھی اس کا علم نہ تھا، پھر بات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹی تو انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے قیامت کے برپا ہونے کے اصل وقت کے علاوہ دیگر تمام معاملات کا مجھ سے عہد لیا ہے (یعنی اس کا وقت تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا)،“ پھر انہوں نے دجال کے خروج کا ذکر کیا اور بتایا: ”میں نازل ہو کر اسے قتل کروں گا، پھر جب لوگ اپنے شہروں کو لوٹیں گے تو ان کا سامنا یاجوج وماجوج سے ہوگا جو ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ”ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکل پڑیں گے۔“ وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے اسے برباد کر دیں گے، پھر لوگ اللہ کے حضور گریہ و زاری کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج وماجوج کو موت دے دے گا، یہاں تک کہ زمین ان کی بو سے تعفن زدہ ہو کر اللہ کے حضور فریاد کرے گی، پھر لوگ میری طرف رجوع کریں گے تو میں دعا کروں گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جو ان کے جسموں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی، پھر پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے اور زمین کو «اديم» (صاف کیے ہوئے چمڑے) کی طرح پھیلا کر وسیع کر دیا جائے گا، تو اللہ نے مجھ سے عہد فرمایا ہے کہ جب یہ حالات ہو جائیں تو قیامت لوگوں کے لیے اس حاملہ عورت کی طرح ہوگی جس کے دن پورے ہو چکے ہوں، جس کے گھر والوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب اچانک بچے کو جنم دے دے، رات کو یا دن کو۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس بات کی تصدیق اللہ کی کتاب میں پائی ہے: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ [سورة الأنبياء: 96، 97] ”یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ اور سچا وعدہ قریب آ جائے گا۔“ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن تمام لوگ جس بھی جگہ سے اٹھ کر آئیں گے وہ «حَدَبٌ» (بلندی) کہلائے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، رہا معاملہ «مُؤْثِر» کا تو وہ مجہول راوی نہیں ہے، اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے احادیث روایت کی ہیں اور اس سے تابعین کی ایک بڑی جماعت نے روایت لی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3489]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، رہا معاملہ «مُؤْثِر» کا تو وہ مجہول راوی نہیں ہے، اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے احادیث روایت کی ہیں اور اس سے تابعین کی ایک بڑی جماعت نے روایت لی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3489]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه ضعفٌ من جهة تفرُّد مؤثر بن عفازة بهذا السياق، فقد تفرَّد بذكر اجتماع الأنبياء الثلاثة بنبيّنا ﷺ وتذاكرهم الساعة في ليلة الإسراء، ثم إنَّ نسف الجبال ومدّ الأرض إنما يكون مع قيام الساعة لا قبلها، أما إهلاك يأجوج ومأجوج بعد مقتل الدجال فيشهد له حديث النواس بن سمعان ...» [ترقيم الرساله 3489] [ترقيم الشركة 3468] [ترقيم العلميه 3448]
الحكم على الحديث: إسناده فيه ضعفٌ من جهة تفرُّد مؤثر بن عفازة بهذا السياق
حدیث نمبر: 3490
حدثنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، عن يزيد النَّحْوي، عن عِكْرمة عن ابن عبَّاس قال: لما نزلت ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ [الأنبياء: 98] ، فقال المشركون: الملائكةُ وعيسى وعُزَيرٌ يُعبَدون من دون الله، فقال: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ﴾ الذين يُعبَدون ﴿آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ [الأنبياء: 99] ، قال: فنزلت: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ [الأنبياء: 101] عيسى وعُزَيرٌ والملائكةُ (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [22 - ومن تفسير سورة الحج] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3449 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3449 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾ ”بے شک تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو، تم سب اس میں داخل ہونے والے ہو۔“ [سورة الأنبياء: 98] تو مشرکین (اعتراضاً) کہنے لگے: فرشتوں، عیسیٰ اور عزیر علیہم السلام کی بھی تو اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے (تو کیا وہ بھی جہنم میں جائیں گے؟)، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا﴾ ”اگر یہ (معبود) واقعی الٰہ ہوتے تو اس (جہنم) میں وارد نہ ہوتے۔“ [سورة الأنبياء: 99] یعنی وہ باطل معبود جن کی عبادت پر وہ راضی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے (مقدس ہستیوں کے بارے میں) یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ ”بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے ہی بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گے۔“ [سورة الأنبياء: 101] اور اس سے مراد سیدنا عیسیٰ، سیدنا عزیر علیہم السلام اور فرشتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3490]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3490]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم. يزيد النحوي: هو يزيد بن أبي سعيد.» [ترقيم الرساله 3490] [ترقيم الشركة 3469] [ترقيم العلميه 3449]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
182. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ
سورۂ حج کی تفسیر
حدیث نمبر: 3491
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأَشيَب، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة. قال الصَّغَاني: وحدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين: أنَّ رسول الله ﷺ قال وهو في بعض أسفاره، قد فاوَتَ بين أصحابه السَّيرُ، فرَفَعَ بهاتَين الآيتين صوتَه ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾، فلما سمع ذلك أصحابُه حَثُّوا المَطِيَّ وعرفوا أنه عندَ قولٍ يقولُه، فلما تأشَّبُوا حولَه قال:"هل تدرونَ أيُّ يومٍ ذاكم؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"ذاك يومَ يُنادَى آدمُ فيناديهِ ربُّه فيقول: يا آدمُ، ابعَثْ بَعْثَ النارِ، فيقول: يا ربِّ، وما بعثُ النار؟ فيقول: من كلِّ ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعة وتسعون في النار وواحدٌ في الجنة"، قالوا: فأُبلِسُوا حتى ما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأى رسولُ الله ﷺ ذلك قال:"اعْمَلُوا وأَبشِروا، والذي نفسُ محمدٍ بيده إنكم لمعَ خَلِيقَتينِ ما كانتا مع شيءٍ إلَّا كَثَّرتاه: يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدمَ وبني إبليسَ"، قال: فسَرَّى ذلك عن القوم، فقال:"اعمَلوا وأَبشِروا، فوالذي نفسُ محمدٍ بيده، ما أنتم في الناس إلَّا كالرَّقْمةِ في ذراع الدابَّة، أو كالشَّامةِ في جَنْب البعير" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأكثرُ أئمَّة البصرة على أنَّ الحسن قد سمع من عِمران، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3450 - قد مر تصحيحه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأكثرُ أئمَّة البصرة على أنَّ الحسن قد سمع من عِمران، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3450 - قد مر تصحيحه
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں تھے اور آپ کے صحابہ کے درمیان چلنے کی رفتار میں فرق (یعنی وہ آگے پیچھے بکھرے ہوئے) تھے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیات کے ساتھ اپنی آواز بلند فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [سورة الحج: 1-2] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی، اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔“ جب آپ کے صحابہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنی سواریوں کو تیز کیا اور سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اہم بات ارشاد فرمانے والے ہیں، پھر جب وہ آپ کے گرد جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون سا دن ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جب آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا، پس ان کا رب انہیں پکارے گا اور فرمائے گا: اے آدم! جہنم کا لشکر (الگ) نکال دو، وہ عرض کریں گے: اے رب! جہنم کا لشکر کیا ہے؟ اللہ فرمائے گا: ہر ایک ہزار میں سے 999 جہنم میں اور 1 جنت میں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر صحابہ اتنے غمزدہ اور خاموش ہو گئے کہ کسی کی ہنسی (مسکراہٹ) تک واضح نہ رہی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: ”نیک عمل کیے جاؤ اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم ایسی دو مخلوقوں کے ساتھ ہو کہ وہ جس گروہ میں بھی شامل ہوتی ہیں اسے کثرت میں بدل دیتی ہیں: یاجوج اور ماجوج، اور تمہارے ساتھ وہ بھی ہیں جو بنی آدم اور ابلیس کی اولاد میں سے ہلاک ہو چکے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: اس بات سے لوگوں کا غم دور ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم لوگوں کے درمیان ایسے ہو جیسے کسی جانور کے بازو پر ایک نشان یا اونٹ کے پہلو پر ایک تل ہوتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بصرہ کے اکثر ائمہ اس بات پر ہیں کہ حسن بصری نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3491]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بصرہ کے اکثر ائمہ اس بات پر ہیں کہ حسن بصری نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3491]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات، وقد سلف عند المصنف برقم (78) من طريقين عن الحسن الأشيب، وانظر تمام تخريجه والكلام عليه هناك.» [ترقيم الرساله 3491] [ترقيم الشركة 3470] [ترقيم العلميه 3450]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3492
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا الحسن بن بِشْر، حدثنا الحَكَم بن عبد الملك، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: كان رسول الله ﷺ يقرأ: ﴿وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [الحج: 2] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت تلاوت فرمایا کرتے تھے: ﴿وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [سورة الحج: 2] ”اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3492]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3492]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك، وقد سلف برقم (2953).» [ترقيم الرساله 3492] [ترقيم الشركة 3471]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك
حدیث نمبر: 3493
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيِّ، حدثنا سعيد بن يزيد التَّيْمي، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: ﴿مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ﴾ [الحج: 5] ، قال: المخلَّقة: ما كان حيًّا، وغيرُ مخلَّقةٍ: ما كان من سِقْطٍ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3452 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3452 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ﴾ [سورة الحج: 5] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: «المخلَّقة» سے مراد وہ (جنین) ہے جو جاندار صورت اختیار کر لے، اور «غير مخلَّقة» سے مراد وہ ہے جو (تکمیل سے پہلے ہی) ادھورا ساقط ہو جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3493]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3493]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، سعيد بن يزيد التيمي مجهول، لم يرو عنه غير إسماعيل بن محمد الرازي، وذكره الذهبي في "تاريخ الإسلام" 6/ 92 ولم يأثر فيه جرحًا ولا تعديلًا، وسماك - وهو ابن حرب - في بعض رواياته عن عكرمة اضطراب.» [ترقيم الرساله 3493] [ترقيم الشركة 3472] [ترقيم العلميه 3452]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3494
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن التَّميمي (2) ، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ﴾ [الحج: 15] قال: مَن كان يظنُّ أن لن ينصرَ اللهُ محمدًا ﷺ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3453 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3453 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ﴾ [سورة الحج: 15] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (اس کا مفہوم یہ ہے کہ) جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ (دنیا و آخرت میں) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں فرمائے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3494]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3494]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل أربدة التميمي، وقد سلف بيان حاله عند الحديث (925). أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3494] [ترقيم الشركة 3473] [ترقيم العلميه 3453]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل أربدة التميمي