المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
78. الدَّفْعُ عَمَّنْ قَعَدُوا عَنْ بَيْعَةِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہ جانے والوں کا دفاع
حدیث نمبر: 4647
حدثنا أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكُوني بالكوفة، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا شَريك، عن أُمَيٍّ الصَّيرَفي، عن أبي قَبيصة عمر بن قَبيصة، عن طارق بن شِهَاب قال: رأيتُ عَليًّا عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ بالرَّبَذة، وهو يقول للحسن والحسين: ما لكما تَخِنّان خَنِينَ (1) الجاريةِ، والله لقد ضربتُ هذا الأمرَ ظهرًا لِبَطنٍ، فما وجدتُ بُدًّا من قِتال القوم، أو الكُفرِ بما أُنزل على محمد ﷺ (2) . فأما عبد الله بن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4597 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4597 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا طارق بن شہاب فرماتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو روئی کے بوسیدہ گالوں کے پالان میں دیکھا وہ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے فرما رہے تھے: تمہیں کیا ہے؟ تم لڑکیوں کی طرح کیوں رو رہے ہو؟ خدا کی قسم میں نے اس معاملہ میں بہت غور و فکر کیا ہے۔ میرے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ (1) اس قوم سے جہاد کروں۔ (2) محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ (دین) کا انکار کر دوں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا موقف [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4647]
79. الدَّفْعُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا دفاع
حدیث نمبر: 4648
فحدَّثنا بصحَّة حاله فيه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدثنا بِشْر بن شعيب بن أبي حمزة القرشي، حدثني أبي، عن الزُّهْري، أخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر: أنه بينما هو جالس مع عبد الله بن عمر، إذ جاءه رجلٌ من أهل العراق، فقال: يا أبا عبد الرحمن، إني والله لقد حَرَصتُ أن اتَّسَمتُ بسَمْتِك، وأقتدي بك في أمر فُرقةِ الناس، وأعتزلُ الشرَّ ما استطعتُ، وإني أقرأ آيةً من كتاب الله مُحكَمةً قد أخَذَت بقلبي، فأخبرني عنها، أرأيتَ قولَ الله ﷿: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [الحجرات: 9] ، أخبِرْني عن هذه الآية؟ فقال عبد الله: ما لكَ ولذلك؟ انصرِفْ عني، فانطَلَقَ حتى تَوارَى عنا سَوادُه، أقبلَ علينا عبدُ الله بن عمر، فقال: ما وجدتُ في نفسي في شيء من أمر هذه الآية، ما وجدتُ في نفسي أني لم أُقاتِل هذه الفئةَ الباغيةَ كما أمرني الله ﷿ (1) . هذا باب كبيرٌ قد رواه عن عبد الله بن عمر جماعةٌ من كبار التابعين، وإنما قدّمتُ حديثَ شُعيب بن أبي حمزة عن الزُّهْري، واقتصرتُ عليه، لأنه صحيح على شرط الشيخين. وأما ما ذُكر من إمساك أسامة بن زيد عن القتال:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4598 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4598 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دفعہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک آدمی آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن! خدا کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ لوگوں میں اس تفرقہ کے وقت میں تمہاری اقتداء کروں اور تمہارے راستے کو اپناؤں۔ اور حتی المقدور میں شر سے بچ کر رہوں اور میں نے قرآن کریم کی ایک محکم آیت میں پڑھا ہے اور اس کو اپنے دل سے اپنایا ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ میری راہنمائی فرمائیں، آپ کا اس آیت طیبہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وَاِنْ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا فَاِنْ بَغَتْ اِحْدَاھُمَا عَلَی الاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیٓئَ اِلٰی اَمْرِاللّٰہِ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (الحجرات: 9) ” اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کرا دو اور عدل کرو بے شک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں “ آپ مجھے اس آیت کے بارے میں بتایئے! تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وجہ پوچھی (اور فرمایا) تو یہاں سے پلٹ جا۔ تو وہ شخص واپس چلا گیا حتی کہ وہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہماری طرف متوجہ ہو کر بولے: اس آیت کے حوالے سے میں نے اپنی سمجھ کے مطابق جو فیصلہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ میں اس باغی گروہ سے جہاد نہیں کروں گا جیسا کہ میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔ ٭٭ یہ باب بہت وسیع ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے والے کبار تابعین کی پوری ایک جماعت ہے۔ تاہم میں نے شعیب بن ابی حمزہ کی زہری سے روایت کردہ حدیث مقدم کی ہے اور صرف اسی پر اکتفا کیا ہے کیونکہ وہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ نوٹ: سیدنا اسامہ بن زید کے قتال میں شریک نہ ہونے کا ذکر (درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4648]
80. الدَّفْعُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا دفاع
حدیث نمبر: 4649
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد الدَّشْتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس الرازي، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن أبي الشَّعثاء، عن عمِّه، عن أسامة بن زيد، قال: بعثني رسولُ الله ﷺ في سَرِيّة في أُناس من أصحابه، فاستَبَقْنا أنا ورجلٌ من الأنصار إلى العدوّ، فحملتُ عليه، فلما دنوتُ منه كَبّر، فطعنتُه فقتلتُه، ورأيتُ أنه إنما فَعَل ذلك ليُحرِزَ دمَه، فلما رجعْنا سبقَني إلى النبيّ ﷺ، فقال: يا رسول الله، لا فارسَ خيرٌ من فارسِكم، إنّا استَلحَقْنا رجلًا فسبقَني إليه، فكبّر فلم يمنعه ذلك أن قَتَلَه، فقال النبي ﷺ:"يا أسامةُ، ما صنعتَ اليوم؟" فقلت: حملتُ على رجلٍ فكبّر، فرأيتُ أنه إنما فعل ليُحرِزَ دمَه فقتلتُه، فقال:"كيف بعدَ اللهُ أكبرُ، فهلّا شَقَقَتَ عن قلبِه فعَلِمت (1) ما قال؟! فلم يزَلْ يقول لي يومئذٍ، فلا أقاتلُ رجلًا يقول: اللهُ أكبرُ مما نهاني عنه، حتى ألقاُه (2) .
سیدنا ابوالشعثاء اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ ایک جنگ میں بھیجا، تو میں اور ایک انصاری صحابی دوسرے لوگوں سے پہلے دشمن تک جا پہنچے، میں نے ایک آدمی کا تعاقب کیا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے ” اللہ اکبر “ کا نعرہ بلند کیا۔ لیکن میں نے اس کو نیزہ مار کر قتل کر ڈالا کیونکہ میرا خیال تھا کہ اس نے اپنی جان بچانے کیلئے نعرئہ تکبیر بلند کیا تھا۔ جب ہم اس جنگ سے واپس آئے تو وہ انصاری مجھ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ گیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے شہسواروں سے بہتر کوئی شہسوار نہیں ہے۔ ہم ایک آدمی کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے لیکن یہ اس کے پاس ہم سے پہلے پہنچ گئے، اس آدمی نے ” اللہ اکبر “ (بھی) کہا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اسامہ! تم نے آج یہ کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو قابو میں لیا تو اس نے ” اللہ اکبر “ پکارا۔ میں نے سوچا کہ یہ اپنی جان بچانے کیلئے ” اللہ اکبر “ کا نعرہ لگا رہا ہے، اس لئے میں نے اس کو مار ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم نے اس کو) اللہ اکبر کہنے کے باوجود (قتل کر دیا) تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا؟ لیکن میں نے جو عذر پیش کرنا تھا کر دیا۔ اس دن آپ مجھ سے مسلسل یہی فرماتے رہے (کہ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا؟) اس لئے میں کسی ایسے آدمی سے نہیں لڑوں گا جو ” اللہ اکبر “ کہنے والا ہو، جس سے لڑنے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کیا ہے۔ یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4649]
حدیث نمبر: 4650
حدَّثَناهُ أبو أحمد محمد بن محمد الحافظ القاضي، حدثنا أحمد بن جعفر بن نصر، حدثنا محمد بن حُميد، حدثنا هارون بن المغيرة، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن إبراهيم بن مُهاجر، عن إبراهيم النَّخَعي، عن أبي الشَّعْثاء، عن عَمِّه، عن أسامة بن زيد. فذكر الحديثَ بنحوه (3) . وأما ما ذُكِر من اعتزال سعد بن أبي وقّاص عن القتال:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4599 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4599 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی سابقہ حدیث منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4650]
81. الدَّفْعُ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا دفاع
حدیث نمبر: 4651
فحدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا علي بن المُنذر، حدثنا ابن فُضيل، حدثنا مُسلم المُلائي، عن خَيثمة بن عبد الرحمن، قال: سمعت سعدَ بن مالك وقال له رجلٌ: إِنَّ عليًّا يقعُ فيك أنك تخلّفتَ عنه، فقال سعدٌ: واللهِ إنه لرأيٌ رأيتُه، وأخطأَ رأبي، إنَّ عليّ بن أبي طالب أُعطيَ ثلاثًا، لأن أكونَ أُعطيتُ إحداهُنّ أحبُّ إليَّ من الدنيا وما فيها، لقد قال له رسولُ الله ﷺ يومَ غَدير خُمٍّ بعدَ حمدِ الله والثناءِ عليه:"هل تعلمون أني أَولى بالمؤمنين من أنفُسِهم؟" قلنا: نعم، قال:"اللهم مَن كنتُ مولاهُ فعليٌّ مولاه، اللهم والِ من والاهُ، وعادِ من عاداهُ". وجيءَ به يومَ خَيبَر وهو أرمَدُ ما يُبصِرُ، فقال: يا رسول الله، إني أرمَدُ، فَتَفَلَ في عينَيه ودعا له، فلم يَرمَدْ حتى قُتِل، وفُتِحَ عليه خيبرُ. وأخرج رسول الله ﷺ عمَّه العباسَ وغيرَه من المسجد، فقال له العباسُ: تُخرِجُنا ونحن عُصْبتُك وعُمومتُك وتُسكِنُ عليًا؟ فقال:"ما أنا أخرَجَكُم وأسَكَنَه، ولكنّ الله أخرجَكُم وأسكَنَه" (1) وأما ما ذُكر من اعتزال أبي مسعود الأنصاري وأبي موسى الأشعري، فإنَّ أمير المؤمنين ﵁ وَجَّهَ إلى الكوفة لأَخْذ البيعةِ له محمدًا ابنَه ومحمدَ بن أبي بكر، وكان على الكوفة أبو موسى الأشعري وأبو مسعود، فامتنع أبو موسى أن يُبايع، فرجعا إلى أمير المؤمنين، فبعث الحسنَ ابنَه ومالكَ الأشْتَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4601 - سكت الحاكم عن تصحيحه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4601 - سكت الحاكم عن تصحيحه
سیدنا خیثمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں: سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ تمہارے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے کیونکہ تم نے ان کی بیعت نہیں کی۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! یہ صرف میری (ذاتی) رائے تھی، اور میری رائے غلط بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تین ایسی فضیلتیں حاصل ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے ایک بھی حاصل ہو تو دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” غدیر خم “ کے دن اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد ان کے متعلق فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اے اللہ! جس کا میں مولیٰ ہوں، علی (بھی) اس کا مولیٰ ہے۔ جو اس سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی کر اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی کر۔ (2) آپ کو غزوہ خیبر کے موقع پر لایا گیا، اس وقت آپ کی آنکھوں میں تکلیف تھی، آپ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری آنکھوں میں تکلیف ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈال کر ان کے لئے دعا فرمائی، اس کے بعد شہادت تک کبھی بھی آپ کو آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح فرمایا۔ (3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسجد سے منتقل ہونے کا حکم دیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی، آپ ہمیں یہاں سے منتقل ہونے کا حکم دے رہے ہیں، حالانکہ ہم آپ کے قریبی رشتہ دار اور تمہارے چچا ہیں۔ اور آپ علی کو مسجد ہی میں ٹھہرا رہے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں نے تمہیں منتقل کیا ہے اور نہ اس کو ٹھہرایا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مسجد سے منتقل کیا ہے اور اس کو ٹھہرایا ہے۔ ایک اور سند کے ساتھ سیدنا محمد بن مسلمہ کا یہ بیان منقول ہے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب نمازیوں (یعنی مسلمانوں) کے درمیان اختلاف رونما ہو جائے تو پھر میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنی تلوار لے کر حرہ (یعنی مدینہ منورہ کے نواح میں موجود پتھریلی زمین) میں جانا اور اپنی تلوار اس پر مار کر (توڑ دینا)۔ پھر اپنے گھر آ کر بیٹھ جانا یہاں تک کہ تمہیں (طبعی) موت آ جائے یا گناہ گار ہاتھ تم تک پہنچ جائے (یعنی جنگجو لوگ تمہیں قتل کر دیں)۔ اور جہاں تک سیدنا ابو مسعود انصاری اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے علیحدگی اختیار کرنے کا ذکر ہے، تو (حقیقت یہ ہے کہ) امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں بیعت لینے کے لیے اپنے صاحبزادے محمد (بن حنفیہ) اور محمد بن ابی بکر کو کوفہ بھیجا تھا۔ اس وقت کوفہ میں ابو موسیٰ اشعری اور ابو مسعود موجود تھے، تو ابو موسیٰ نے بیعت کرنے سے (عارضی طور پر) انکار کر دیا، جس پر وہ دونوں امیر المومنین کے پاس واپس آگئے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے حسن (رضی اللہ عنہ) اور مالک اشتر کو بھیجا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4651]
82. الدَّفْعُ عَنِ اعْتِزَالِ أَبِي مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى .
سیدنا ابو مسعود اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کے کنارہ کش رہنے کا دفاع
حدیث نمبر: 4652
فحدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا داود بن رُشَيد، حدثنا الهيثم بن عَديّ، عن مجالدٍ وابن (1) عيّاش وإسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعْبي قال: لما قُتل عثمان وبُويع عليٌّ خَطَبَ أبو موسى وهو على الكوفة، فنهى الناسَ عن القتالِ والدخولِ في الفتنة، فعزلَه عليٌّ عن الكوفة من ذي قار، وبَعَثَ إليه عمارَ بن ياسر والحسنَ بن عليٍّ فعزَلاه، واستعمل قَرَظة بنَ كعب، فلم يزل عاملًا حتى قدم عليٌّ من البصرة بعد أشهُر، فعزلَه حيثُ قدم، فلما سار إلى صِفِّين استخلف عُقبة بن عمرو أبا مسعود الأنصاري حين قدم من صِفِّين (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4602 - الهيثم بن عدي متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4602 - الهيثم بن عدي متروك
سیدنا شعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی۔ تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کوفہ کے گورنر تھے، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں لوگوں کو قتال سے منع کیا اور فتنہ میں شریک ہونے سے روکا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوفہ سے ” ذی قار “ سے معزول کر دیا۔ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا، انہوں نے آ کر سیدنا ابوموسیٰ کو معزول کر دیا اور قرظہ بن کعب کو گورنر بنا دیا پھر جب (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) چند ماہ بعد بصرہ سے واپس آئے تو ان کو بھی معزول کر دیا پھر جب آپ صفین کی طرف روانہ ہوئے تو عقبہ عمرو کو عامل بنایا اور جب صفین سے واپس آئے تو سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو وہاں کا عامل مقرر فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4652]
حدیث نمبر: 4653
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي وائل قال: دخل أبو موسى الأشعَري وأبو مسعود البَدْري على عمّار، وهو يَستنفِرُ الناسَ، فقالا له: ما رأَينا منك أمرًا منذ أسلمتَ أكرَهَ عندنا من إسراعِك في هذا الأمر، فقال عمارٌ: ما رأيتُ منكما منذ أسلمتُما أمرًا أكرَهَ عندي من إبطائكُما عن هذا الأمر، قال: فكَساهُما عمارٌ حُلَّة حلّةً، وخرج إلى الصلاة يومَ الجُمعة (1) . وأما قصة اعتزال محمد بن مَسلَمة الأنصاري عن البَيعة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابووائل فرماتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اس وقت وہ لوگوں کو جنگ کے لئے جمع کر رہے تھے، انہوں نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: تم جب سے اسلام لائے تو اس وقت سے لے کر آج تک ہم نے تم میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل یہی دیکھا ہے کہ تم جنگ میں جلدبازی کر رہے ہو، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: تم جب سے اسلام لائے ہو اس وقت سے لے کر آج تک میں نے تم میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل یہی دیکھا ہے کہ تم جنگ میں دیر کر رہے ہو۔ پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک ایک جوڑا پیش کیا اور نماز جمعہ کے لئے چلے گئے۔ محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کا بیعت سے گریز کرنے کا قصہ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4653]
83. الدَّفْعُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ .
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا دفاع
حدیث نمبر: 4654
فحدَّثَناه عليُّ بن عيسى الحِيري، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن سالم بن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن محمود بن لَبيد، عن محمد بن مَسلَمة، قال: قلتُ: يا رسول الله، كيف أصنعُ إذا اختلفَ المُصلُّون؟ قال:"تَخْرُجُ بسيِفك إلى الحَرّة فتضربُها به، ثم تَدخُل بيتَك حتى تأتيَك مَنِيّةٌ - أو قال: مِيتةٌ - قاضِيةٌ، أو يدٌ خاطئةٌ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4604 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4604 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب نماز پڑھنے والوں میں اختلاف واقع ہو تو اس وقت میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی تلوار لے جا کر سیاہ پتھروں والی زمین میں مارنا (یعنی اپنی تلوار وہاں پھینک دینا) پھر اپنے گھر آ جانا، یہاں تک کہ تجھ پر قضاء کا ہاتھ آ پہنچے یا کسی خطا کرنے والے کا ہاتھ آ پہنچے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4654]
حدیث نمبر: 4655
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثني إبراهيم بن جعفر الأنصاري، حدثني سليمان بن محمود، من ولد محمد بن مَسلَمة الأنصاري، عن سعد بن زيد بن سعد الأشهلي: أنه أَهدَى إلى رسولِ الله ﷺ سيفًا من نَجْران، فلما قَدِم عليه أعطاهُ محمدَ بنَ مسلمة، وقال:"جاهِدْ بهذا في سبيل الله، فإذا اختلَفتْ أعناقُ الناس فاضرِبْ به الحَجَرَ، ثم ادخُل بيتَك، وكن حِلْسًا مُلقًى، حتى تَقتُلَك يدٌ خاطئةٌ أو تأتيَك مَنيَّةٌ قاضيةٌ" (1) . قال الحاكم: فبهذِه الأسبابِ وما جانسها كان اعتزالُ من اعتزل عن القتال مع عليّ ﵁، وبضدّها كان قتالُ مَن قاتَلَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4605 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4605 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعد بن زید بن سعد الاشہلی نے نجران سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک تلوار ہدیہ بھیجی۔ جب یہ تلوار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ نے یہ تلوار محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو عطا کی اور فرمایا: اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو لیکن جب لوگوں کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو اس کو پتھروں پر مار کر اپنے گھر میں جا کر بیٹھ جانا حتی کہ تجھے کوئی خطا کرنے والا ہاتھ قتل کر دے یا تجھے قضائے الٰہی سے موت آ جائے۔ ٭٭ امام حاکم فرماتے ہیں: یہی اور اس سے ملتی جلتی کچھ دیگر وجوہات تھیں جن کی بناء پر کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قتال میں شریک ہو گئے اور کچھ لوگ آپ کے ہمراہ قتال سے کنارہ کش رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4655]
حدیث نمبر: 4656
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سُفيان، حدثنا أبو موسى - يعني إسرائيل بن موسى - قال: سمعتُ الحسن يقول: جاء طلحةُ والزُّبير إلى البصرة، فقال لهم الناسُ: ما جاء بكم؟ قالوا: نَطلُب دمَ عثمان قال الحسنُ: أيا سُبحانَ الله! أفَما كان للقوم عُقولٌ فيقولون: والله ما قتلَ عثمانَ غيرُكم؟! قال: فلما جاء عليٌّ إلى الكوفة، وما كان للقوم عُقولٌ فيقولون: أيُّها الرجلُ، إنا واللهِ ما ضُمِّنّاك؟ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4606 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4606 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما بصرہ میں آئے، لوگوں نے ان سے آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص چاہتے ہیں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: واہ! سبحان اللہ، اس قوم کے عقلمند لوگ تو کہتے ہیں کہ خدا کی قسم! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل تو خود تم ہو، پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو وہاں کے ذمہ دار لوگوں نے کہا: ہم آپ کو اپنا کفیل نہیں بنا سکتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4656]