🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. ذِكْرُ إِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4637
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن يوسف بن صهيب، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: انطلق أبو ذرِّ ونُعيمٌ ابن عم أبي ذر وأنا معهم نطلُبُ رسول الله ﷺ، وهو بالجبل مُكتَتِم، فقال أبو ذر: يا محمد، أتيناك نسمعُ ما تقول وإلى ما تدعو، فقال رسولُ الله ﷺ:"أقولُ: لا إله إلَّا الله، وإني رسولُ الله"، فآمنَ به أبو ذرٍّ وصاحبُه وآمنتُ به، وكان عليٌّ في حاجةٍ لرسول الله ﷺ أرسلَه فيها، وأُوحيَ إلى رسولِ الله ﷺ يومَ الاثنين وصلَّى عليٌّ يوم الثلاثاء (1) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4586 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا ابوذر اور ان کا چچا زاد بھائی نعیم اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پہاڑ میں چھپے ہوئے تھے۔ سیدنا ابوذر نے کہا: اے محمد! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ ہم سن سکیں کہ آپ کیا کہتے ہیں اور کس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں تو ہم تینوں آپ پر ایمان لے آئے۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کام کیلئے گئے ہوئے تھے، آپ نے ان کو کہیں بھیجا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیر کے دن وحی نازل ہوئی اور منگل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4637]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. نُبِّئَ النَّبِيُّ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیر کے دن نبوت ملی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منگل کے دن نماز ادا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4638
حدثني أبو سعيد أحمد بن عمرو الأحمَسي، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثني عبد الرحمن بن دُبَيس المُلائي، حدثني علي بن عابِس، عن مُسلم المُلائي، عن أنس، قال: نُبِّئ النبيُّ ﷺ يومَ الاثنين، وأسلمَ عليٌّ يومَ الثلاثاء (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4587 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیر کے دن نبوت دی گئی (یعنی آپ کی بعثت ہوئی) ظاہری طور پر۔ (ورنہ آپ تو اس وقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام ابھی پانی اور مٹی کی کشمکش میں تھے) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ منگل کے دن اسلام لائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4638]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. إِخْبَارُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِشَهَادَةِ عَلِيٍّ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4639
حدثني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ، حدثنا محمد بن موسى بن (2) حماد البَرْبري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن صالح صاحبُ المُصلّى، حدثنا علي بن صالح، حدثنا القاسم بن مَعْن (3) ، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرّة، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال: قُتل عليٌّ يومَ الجُمعة لسبعَ عشرة ليلةً خَلَتْ من شهر رمضان سنة أربعين، وكانت خلافتُه خمسَ سنين إلَّا ثلاثةَ أشهرٍ، قتله عبدُ الرحمن بن مُلْجَم المُرادي، وهو يومَ قُتل ابن ثلاثٍ وستين سنةً، أو أربعٍ وستين (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4588 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عبدالرحمن ابن ابی لیلی فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سن 40 ہجری 17 رمضان المبارک جمعۃ المبارک کے دن شہید کیا گیا۔ آپ کی مدت خلافت 4 سال اور 9 ماہ تھی، عبدالرحمن بن ملجم المرادی نے آپ کو شہید کیا۔ اور شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک 63 یا 64 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4639]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4640
سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ يقول: سمعت عثمان بن سعيد الدارمي يقول: سمعت أبا بكر بن أبي شَيْبة يقول: وَلِيَ عليُّ بن أبي طالب خمسَ سنين، وقُتل سنةَ أربعين من مُهاجَر رسولِ الله ﷺ، وهو ابن ثلاثٍ وستين سنة، قُتل يوم الجمعة الحادي والعشرين من شهر رمضان، ومات يومَ الأحد ودُفن بالكوفة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4589 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا ابوبکر بن ابی شیبہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پانچ سال تک خلیفہ رہے اور چالیسویں سن ہجری میں شہید ہوئے، شہادت کے وقت ان کی عمر 63 برس تھی، آپ کو 21 ویں رمضان، جمعہ کے دن زخمی کیا گیا اور ہفتہ کے دن آپ کا انتقال ہو گیا، آپ کو کوفہ میں دفن کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4640]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4641
أخبرنا إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، أخبرني خالد، أخبرني خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هِلال، عن زيد بن أسلم، أنَّ أبا سِنان الدُّؤَلي حدثه: أنه عاد عليًّا في شَكوى له اشتكاها، قال: فقلتُ له: لقد تَخوّفْنا عليك يا أمير المؤمنين في شكواك هذا، فقال: لكني والله ما تَخوّفتُ على نفسي منه، لأني سمعتُ رسولَ الله ﷺ الصادقَ المصدُوقَ يقول:"إنك ستُضرَبُ ضربةً هاهنا، وضربةً هاهنا - وأشار إلى صُدغَيه - فيَسيلُ دمُهما (2) حتى تختضِبَ لحيتُك، ويكون صاحبُها أشقاها، كما كان عاقرُ الناقةِ أشقى ثَمودَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4590 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوسنان الدؤلی کا بیان ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ زخمی تھے تو یہ ان کی عیادت کے لئے گئے (ابوسنان کہتے ہیں) میں نے عرض کی: اے امیرالمومنین! آپ کی اس زخمی حالت پر ہمیں تو بہت تشویش ہو رہی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن خدا کی قسم! مجھے اپنے اوپر کوئی تشویش نہیں ہے کیونکہ صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتا دیا تھا کہ تمہیں اس اس مقام پر زخم آئیں گے (یہ کہتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کنپٹیوں کی جانب اشارہ کیا) پھر وہاں سے خون بہے گا حتی کہ تیری داڑھی رنگین ہو جائے گی۔ اور مجھے شہید کرنے والا اس امت کا سب سے بڑا بدبخت ہو گا جیسا کہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا قوم ثمود کا سب سے بڑا بدبخت تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4641]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. لَمْ يُرْفَعْ حَجَرٌ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهُ دَمٌ عِنْدَ شَهَادَةِ عَلِيٍّ .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بیت المقدس کا کوئی پتھر ایسا نہ تھا جس کے نیچے خون نہ پایا گیا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4642
أخبرنا أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا سعيد بن عُفَير، حدثني حفص بن عِمران بن أبي الوسام، عن السَّرِيّ بن يحيى، عن ابن شِهَاب، قال: قدمتُ دمشقَ وأنا أُريد الغزوَ، فأتيتُ عبد الملك لأُسلِّمَ عليه، فوجدتُه في قُبّةٍ على فُرُشٍ بقرب القائم (1) وتحته سِماطانِ، فسلَّمتُ، ثم جلستُ، فقال لي: يا ابن شِهَاب، أتعلم ما كان في بيت المقدس صباحَ قُتل عليُّ بن أبي طالب؟ فقلتُ: نعم، فقال: هلُمَّ، فقمتُ من وراء الناس حتى أتيتُ خلفَ القُبّة، فحَوَّل إليَّ وجهَه فأحنَى عليَّ، فقال: ما كان؟ فقلت: لم يُرفَعْ حَجَرٌ من بيت المقدس إلَّا وُجد تحتَه دمٌ، فقال: لم يبقَ أحدٌ يعلمُ هذا غيري وغيرَك، لا يَسمعنَّ منك أحدٌ، فما حَدّثتُ به حتى تُوفّي (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4591 - والخبر مرسل
ابن شہاب کہتے ہیں: میں جہاد کے ارادے سے دمشق آیا، تو میں عبدالملک کے پاس سلام کرنے کیلئے آیا، وہ اس وقت مینار کے قریب فرش پر بنے ہوئے ایک قبہ میں موجود تھا اور اس کے نیچے لوگوں کی دو قطاریں تھیں۔ میں سلام کر کے بیٹھ گیا۔ اس نے مجھے کہا: اے ابن شہاب: کیا تم جانتے ہو کہ جس دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس دن بیت المقدس کی صورت حال کیا تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے مجھے اپنے پاس آنے کو کہا: تو میں لوگوں کے پیچھے سے گزرتا ہوا قبہ کی پچھلی جانب آ گیا، اس نے اپنا چہرہ میری طرف کیا اور بہت شفقت کے ساتھ کہنے لگا۔ کیا صورت حال تھی؟ میں نے کہا: بیت المقدس کی جو بھی اینٹ اٹھا کر دیکھا جاتا اس کے نیچے خون ہی خون ہوتا۔ اس نے کہا: (اس وقت دنیا میں) تیرے اور میرے علاوہ اور کوئی شخص ایسا نہیں بچا جس کو اس بات کا علم ہو، (لیکن اب) تم یہ بات کسی کو بھی بیان مت کرنا۔ چنانچہ عبدالملک کی وفات تک میں نے یہ بات کسی کو نہ بتائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4642]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. قُتِلَ عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ تریسٹھ برس کی عمر میں شہید کیے گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4643
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثنا الحسين بن علي السُّلمي، حدثني عمي محمد بن حسان، حدثنا الحسن بن زياد، عن أبي مَعشَر، عن شُرحْبيل بن سعد القرشي، قال: استُخلِفَ عليُّ بن أبي طالب سنة خمسٍ وثلاثين، وهو ابن ثمان وخمسين سنة وأشهُر، فلما حضر المَوسِم سنة خمس وثلاثين بعث عبدَ الله بنَ عبّاس على الموسم سنة خمس وثلاثين، وسنةَ ستٍّ وثلاثين، وسنة سبع وثلاثين، وسنة ثمان وثلاثين، وسنة تسع وثلاثين، وحَضَرَ الموسمُ وتشاغلَ عليٌّ بالقتال، فاصطَلح الناسُ على شَيْبة بن عثمان الحَجَبي، فشهد بالناس، فلما كان سنةَ أربعين قُتل عليٌّ يومَ الجمعة لسبعَ عشرةَ مَضَتْ من شهر رمضان من سنة أربعين، وهو ابن ثلاثٍ وستين سنة (1) . قال الحاكم: فنظرنا فوجدنا لهذه التواريخ برهانًا ظاهرًا بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4592 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا شرحبیل بن سعد القرشی فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو 35 سن ہجری میں خلیفہ بنایا گیا، اس وقت ان کی عمر شریف 38 سال اور کچھ ماہ تھی۔ جب 35 سن ہجری میں حج کا مہینہ آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو حج پر بھیجا، یونہی 37 اور 38 سن ہجری میں بھی انہی کو بھیجا۔ پھر حج کا موقع آ گیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جہاد ہی میں مصروف تھے۔ پھر کچھ لوگوں نے سیدنا شیبہ بن عثمان حجبی کے ساتھ صلح کی کوششیں کیں۔ آپ نے لوگوں کو اس بات پر گواہ بنایا۔ پھر جب چالیسواں سن ہجری تھا تو اسی سال کے رمضان المبارک کی 17 تاریخ کو آپ کو شہید کر دیا گیا۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 63 برس تھی۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: ہم نے غور و فکر کیا تو ہمیں ان تاریخوں کے واضح صحیح اسناد کے ہمراہ مل گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4643]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4644
حدّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا السَّري بن يحيى التَّميمي، حدثنا قَبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن رِبْعيّ بن حِراش، عن البراء بن ناجِيَة، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ:"تَدُورُ رَحَى الإسلامِ على خمسٍ وثلاثين أو ستٍّ وثلاثين، فإن يَهْلِكُوا فَسَبيلُ من هَلَك، وإن تَبَقّى لهم دينُهم فسبعين عامًا"، قال عمر: يا رسول الله، ممّا بقيَ أو ممّا مضى؟ قال:"ممّا بقيَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [ذكر بيعة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضوان الله عليه] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شعبان سنة اثنتين وأربع مئة، قال: اختلفتِ الرواياتُ في وقته، فقيل: أنه بُويع بعد أربعة أيام من قتل عثمان، وقيل: بعد خمس، وقيل: بعد ثلاث وقيل: بُويع يوم الجمعة لخمسٍ بَقِين من ذي الحِجّة، وقيل: بُويع عَقِيبَ قتل عثمان في دار عمرو بن مِحْصَن الأنصاري أحد بني عمرو بن مَبذُول، وأصحُّ الروايات أنه امتنع عن البيعة إلى أن دُفن عثمان، ثم بُويع على منبر رسول الله ﷺ، ظاهرًا، وكان أولَ من بايعه طلحةُ، فقال: هذه بيعة تُنكَثُ (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی چکی 35 یا 36 سال تک گھومے گی (یعنی یہ دین قائم و دائم رہے گا) پھر اگر یہ لوگ ہلاک ہو گئے تو ان کا حشر ہلاک شدگان والا ہو گا اور اگر ان کا دین باقی رہا تو ستر سال (بلکہ اس کے بعد بھی) رہے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ واقعہ ابھی رونما ہونا ہے یا گزر چکا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی رونما ہونا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام حاکم ابوعبداللہ الحافظ نے سن 402 ہجری میں املاء کرواتے ہوئے فرمایا: آپ کی شہادت کے وقت میں اختلاف ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چار دن بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی تھی۔ بعض نے کہا ہے کہ پانچ دن بعد بیعت کی گئی۔ بعض نے کہا: 3 دن بعد، اور بعض نے کہا ہے کہ 25 ذوالحجہ بروز جمعۃ المبارک کو بیعت کی گئی۔ بعض نے کہا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوراً بعد عمرو بن محمد الانصاری (جو کہ بنی عمرو بن مبذول کی اولادوں میں سے ایک ہے) کے گھر میں بیعت کی گئی۔ جبکہ سب سے صحیح تر روایت یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین تک بیعت سے انکار کئے رکھا۔ (پھر جب ان کی تدفین ہو گئی تو) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر رسول پر بیٹھ کر اعلانیہ بیعت لی۔ اور سب سے پہلے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیعت کی تھی۔ اور انہوں نے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا۔ یہ بیعت ہے جو توڑ دی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4644]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4645
فحدَّثنا أبو بكر بن أبي دارِم، الحافظ، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حدثنا وضّاح بن يحيى النَّهْشَلي، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن أبي إسحاق، عن الأسود بن يزيد النَّخَعي، قال: لما بُويع عليُّ بن أبي طالب على مِنبَر رسول الله ﷺ، قال خُزَيمة بن ثابت وهو واقفٌ بين يدي المنبر: إذا نحنُ بايَعْنا عليًّا فحَسْبُنا … أبو حَسَنٍ مما نخافُ من الفِتَنْ وجدناه أَولَى الناسِ بالناسِ إِنَّه … أطَبُّ قُريشٍ بالكتاب وبالسُّننْ وإن قريشًا ما تَشُقُّ غُبارَه … إِذا ما جَرَى يومًا على الضُّمَّرِ البَدَنْ وفيه الذي فيهم من الخَيرِ كلِّهِ … وما فيهمُ كلُّ الذي فيه من حَسَنِ (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4595 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا اسود بن یزید نخعی فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر شریف پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی جا رہی تھی تو خضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ منبر کے سامنے کھڑے ہوئے درج ذیل اشعار پڑھ رہے تھے۔ * جب ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ہے تو ہمیں جن فتنوں کا خدشہ ہے ان کے لئے ابوحسن ہمارے لئے کافی ہیں۔ * ہم نے ان کو لوگوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب پایا ہے اور یہ کتاب اللہ اور سنت رسول کے تمام قریش سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ * اور بے شک قریش کی غبار نہیں چھٹی جب کبھی وہ لاغر بدن پر چلتے ہیں اور اس میں وہ ہے جس میں تمام بھلائیاں موجود ہیں اور ان میں ایسا کوئی نہیں ہے جس میں تھوڑی بھلائیاں ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4645]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4646
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا العلاء بن صالح، عن عَدِي بن ثابت، عن أبي راشد، قال: لما جاءت بيعة عليٍّ إلى حذيفة قال: لا أبايع بعده إلَّا أصغَرَ أو أبتَرَ (1) . قال الحاكم: هذه الأخبارُ الواردة في بيعة أمير المؤمنين كلُّها صحيحةٌ مُجمَع عليها، فأما قول من زعم أنَّ عبد الله بن عُمر وأبا مسعود الأنصاري وسعد بن أبي وقّاص وأبا موسى الأشعري ومحمدَ بن مَسلَمة الأنصاري وأسامةَ بن زيد قَعدُوا عن بيعته، فإنَّ هذا قولُ من يَجحَد حقيقةَ تلك الأحوالِ، فاسمع الآنَ حقيقتَها:
سیدنا ابوراشد فرماتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کا معاملہ سیدنا حذیفہ تک پہنچا تو انہوں نے کہا: میں ان کے بعد کسی ٹیڑھے منہ والے یا ناقص شخص کی بیعت نہیں کروں گا۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: یہ وہ اخبار ہیں جو امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کی بیعت کے حوالے سے منقول ہیں۔ یہ تمام کی تمام صحیح ہیں اور ان پر اجماع ہے۔ اور جہاں تک تعلق ہے بعض لوگوں کے اس مؤقف کا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر، ابومسعود انصاری، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا ابوسیٰ اشعری، سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری، اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا تو یہ بات حقیقت حال کو ٹھکرانے کے مترادف ہے۔ آیئے ہم آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4646]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں