المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
83. الدَّفْعُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ .
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا دفاع
حدیث نمبر: 4657
فحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن مَعِين، عن هشام بن يوسف، عن عبد الله بن مصعب، قال: أخبرني موسى بن عُقْبة، قال: قال علقمة بن وقّاص اللَّيثي: لما خرج طلحةُ والزبيرُ وعائشةُ لطلب دم عثمان ﵃ أجمعين - كانت عائشةُ خطيبةَ القوم بها، وهم لها تَبَعٌ، فعَرضُوا من معهم بذاتِ عِرقٍ، فاستصغَروا عُرْوة بنَ الزبير وأبا بكر ابن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، فردُّوهُما. قال: ورأيتُ طلحةَ وأَحبُّ المجالسِ إليه أخلاها، وهو ضارِبٌ بلِحْيتِه على زَوْرِه، قال: فقلتُ له: يا أبا محمد إني أراك وأحبُّ المجالسِ إليك أخلاها، وأنت ضاربٌ بلحيتِك على زَوْرِك، إن كنتَ تكرهُ هذا الأمرَ فدَعْهُ، فليس يُكرِهُك عليه أحدٌ، قال: يا علقمةَ بنَ وقْاص، لا تَلُمني، كنا أمسِ يدًا واحدةً على مَن سِوانا، فأصبحنا اليومَ جَبَلَين من حديدٍ يَزْحَفُ أحدُنا إلى صاحبِه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4607 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4607 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علقمہ بن وقاص لیثی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے قصاص کا مطالبہ کرتے ہوئے خروج کیا تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امیر تھیں اور یہ لوگ ان کے تابع تھے۔ ذات عرق (ایک مقام پر پہنچ کر) جب لشکر کا معائنہ کیا گیا تو سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کو کمسن قرار دے کر واپس بھیج دیا گیا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کی سب سے پسندیدہ مجلس سے نکال دیا گیا۔ حالانکہ (وہ اتنی عمر کے تھے کہ) ان کی داڑھی سینہ تک پہنچی ہوئی تھی۔ میں نے ان سے کہا: اے ابومحمد! میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں تمہاری سب سے پسندیدہ مجلس سے نکال دیا گیا ہے حالانکہ تمہاری داڑھی شریف سینے تک پہنچ رہی ہے۔ اگر تمہیں یہ معاملہ پسند نہیں ہے تو تم اس کو چھوڑ دو۔ تمہیں کوئی شخص اس پر مجبور تو نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا: اے علقمہ بن وقاص! تو مجھے ملامت مت کر، ہم کل تک اپنے دشمنوں پر ایک بازو کی طرح تھے لیکن آج ہم لوہے کے دو پہاڑ بنے ہوئے خود ہی ایک دوسرے پر چڑھائی کر رہے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4657]
84. لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً .
وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ کسی عورت کے سپرد کیا
حدیث نمبر: 4658
فحدَّثني أبو علي الحافظ، حدثنا الهيثم بن خلَف الدُّوْري، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثني خالد بن الحارث، حدثنا حُميد الطويل، عن الحسن، عن أبي بَكْرة قال: عَصَمَني الله بشيءٍ سمعتُه من رسول الله ﷺ ولما هلَك كِسْرى، قال:"مَن استخلَفُوا؟" قالوا: ابنتَه، قال: فقال:"لن يُفلَحَ قومٌ وَلَّوا أمرَهم امرأةٌ". قال: فلما قَدِمَت عائشةُ، ذكرتُ قولَ رسولِ الله ﷺ فَعَصَمَني اللهُ به (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4608 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4608 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کسریٰ کی ہلاکت کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد سنا تھا جس نے مجھے بچا لیا ہے (آپ نے فرمایا تھا) ” من استخلفوا “ (ان لوگوں نے کسریٰ کا خلیفہ کس کو بنایا ہے؟) لوگوں نے بتایا: کسریٰ کی بیٹی کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے اپنے امور کسی عورت کے سپرد کر دیئے ہوں (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو میں نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا: تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فرمان کی برکت سے بچا لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4658]
حدیث نمبر: 4659
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفِيد، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا عبد الجبار بن الوَرْد، عن عمّار الدُّهْني، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن أم سلمة، قالت: ذكرَ النبيُّ ﷺ خُروجَ بعضِ أمهاتِ المؤمنين، فضحكتْ عائشةُ، فقال:"انظُري يا حُمَيراء، أن لا تكوني أنتِ"، ثم التفتَ إلى عليٍّ، فقال:"إن وَليتَ من أمرِها شيئًا فارفُقْ بها" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4610 - عبد الجبار لم يخرجا له
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4610 - عبد الجبار لم يخرجا له
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج کے خروج کا تذکرہ کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیراء! سوچ لو کہیں وہ تم ہی نہ ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اگر اس کا کوئی معاملہ تمہارے ہاتھ میں آئے تو اس پر نرمی کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4659]
حدیث نمبر: 4660
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي من أصل كتابه، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي، حدثني محمد بن سليمان بن الأصبهاني، عن سعيد بن مسلم المكي (1) ، عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، قالت: لما سارَ عليٌّ إلى البصرة دخل على أم سلمةَ زوج النبي ﷺ يُودِّعها، فقالت: سِرْ في حفظ الله وفي كَنَفِه، فوالله إنك لعلى الحقِّ والحقُّ معك، ولولا أني أكرهُ أن أعصيَ الله ورسولَه، فإنه أمَرَنا ﷺ أن نَقِرَّ في بيوتنا، لسِرْتُ معك، ولكن واللهِ لأُرسلنّ معك مَن هو أفضلُ عندي وأعزُّ عليَّ من نفسي؛ ابني عمرُ (2) . هذه الأحاديث الثلاثة كلُّها صحيحة على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4611 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4611 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو الوداعی ملاقات کیلئے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے، تو ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (دعا دیتے ہوئے) کہا: آپ اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان میں جائیں، خدا کی قسم، بے شک آپ ہی حق پر ہیں اور حق آپ کے ساتھ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھروں میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لئے اگر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا ڈر نہ ہوتا تو میں بذات خود آپ کے ہمراہ چلتی۔ تاہم میں اپنے بیٹے عمر کو آپ کے ساتھ روانہ کرتی ہوں جو کہ میرے نزدیک سب سے افضل ہے اور وہ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ ٭٭ مذکورہ تینوں احادیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4660]
حدیث نمبر: 4661
حدثنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب [بالعبدي] (3) حدثنا جعفر بن عون، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن عائشة قالت: وَدِدْتُ أني كنتُ ثَكِلْتُ عشرةً مثل الحارث بن هشام وأني لم أَسِرْ مَسِيري مع ابن الزُّبير (4)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4609 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4609 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کاش کہ میں حارث بن ہشام جیسے دس آدمی کھو دیتی لیکن میں ابن زبیر کے ہمراہ اس سفر میں کبھی شریک نہ ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4661]
حدیث نمبر: 4662
وحدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا الهيثم بن خلَف الدُّوري، حدثنا إسماعيل بن موسى السُّدِّي، حدثنا عبد السلام بن حرب، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: جاء الزُّبيرُ إلى عمر بن الخطاب يستأذنُه في الغزو، فقال عمرُ: اجلس في بيتِك، فقد غزوتَ مع رسولِ الله ﷺ، قال: فردَّد ذلك عليه، فقال له عمر في الثالثة أو التي تليها: اقعُد في بيتك، فوالله إني لأجدُ بطَرَفِ المدينةِ منكَ ومن أصحابك أن تَخرُجُوا فتُفْسِدُوا عليَّ أصحاب محمدٍ ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4612 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4612 - صحيح
سیدنا قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جہاد کی اجازت لینے کے لئے آئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (آرام سے) اپنے گھر میں بیٹھے رہو، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کر چکے ہو۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اصرار کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: اپنے گھر میں بیٹھے رہو۔ خدا کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کی ایک جانب تم اور تمہارے ساتھی خروج کریں گے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر فساد کریں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4662]
حدیث نمبر: 4663
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: لما بَلَغَت عائشة بعض ديار بني عامر نَبَحَت عليها الكلابث، فقالت: أيُّ ماء هذا؟ قالوا: الحوأب، قالت ما أظنُّنى إلا راجعةً، فقال الزبيرُ: لا بعدُ، تَقْدَمي ويراكِ الناسُ، ويُصلِحُ الله ذاتَ بينِهم قالت ما أظنُّني إلَّا راجعةً، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"كيف بإحداكُنَّ إذ نَبَحتْها كلابُ الحَوْأب" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا قیس ابن ابی حازم فرماتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بنی عامر کے علاقہ میں پہنچیں تو ان پر کتے بھونکنے لگے۔ انہوں نے پوچھا: یہ کونسا علاقہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ” حوأب “ ہے۔ آپ نے کہا: میں واپس لوٹنا چاہتی ہوں۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک مرتبہ روانہ ہونے کے بعد واپس جانا درست نہیں ہے۔ جبکہ لوگ بھی آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے احوال کی اصلاح فرمائے۔ آپ نے پھر بھی کہا: میرا خیال ہے کہ مجھے واپس ہی جانا چاہئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ” تم میں سے اس ایک کا اس وقت کیا حال ہو گا جب اس پر ” حوأب “ کے کتے بھونکیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے ابواسحاق کی سیدنا براء کے حوالے سے روایت کردہ حدیث مختصراً نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4663]
85. قول النبي صلى الله عليه وآله وسلم لعلي أنت مني وأنا منك والخالة أم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمانا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے
حدیث نمبر: 4664
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن هُبيرة بن بَرِيم وهانئ ابن هانئ، عن عليٍّ قال: لما خرجْنا من مكةَ اتَّبعتْنا ابنةُ حمزةَ، فنادت: يا عمِّ، يا عمِّ، فأخذتُ بيدِها فناولتُها فاطمةَ، قلت: دونَكِ ابنة عمّك، فلما قَدِمْنا المدينةَ اختصمْنا فيها أنا وزيدٌ وجعفرٌ، فقلتُ: أنا أخذتُها وهي ابنةُ عمِّي، وقال: زيدٌ: ابنةُ أخي، وقال جعفرٌ: ابنةُ عمِّي وخالتُها عندي، فقال رسول الله ﷺ لجعفر:"أشبهتَ خَلْقي وخُلُقي"، وقال لزيد:"أنت أخونا ومَوْلانا"، وقال لي:"أنت منِّي وأنا منك، ادفعُوها إلى خالتِها، فإنَّ الخالةَ أمٌّ"، فقلت: ألا تَزَوَّجُها يا رسول الله؟ قال:"إنها ابنةُ أخي من الرَّضَاعة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ، إنما اتفقا على حديث أبي إسحاق عن البراء مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4614 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ، إنما اتفقا على حديث أبي إسحاق عن البراء مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4614 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ہم مکہ مکرمہ سے نکلے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہمارے پیچھے آئی اور اس نے ” اے چچا، اے چچا “ کہہ کر آواز دی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کرتے ہوئے کہا: اس کو پکڑو، یہ تمہاری چچازاد بہن ہے۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو اس کے حوالے سے میرا، سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہو گیا۔ میں نے کہا: اس کو میں لوں گا یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ سیدنا زید نے کہا: یہ میری بھتیجی ہے۔ سیدنا جعفر نے کہا: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ اور اس کی خالہ (پہلے ہی) میرے پاس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم شکل و صورت میں اور عادات و اطوار میں مجھ سے ملتے جلتے ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ ہمارے بھائی اور ہمارے آزاد کردہ غلام ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ اس کو اس کی خالہ کے پاس بھیج دو۔ کیونکہ خالہ (بھی ایک طرح کی) ماں (ہی ہوتی) ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس کو اپنی زوجیت سے کیوں نہیں نواز دیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری رضاعی بہن ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے ابواسحاق کی سیدنا براء کے حوالے سے روایت کردہ حدیث مختصراً نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4664]
86. قال النبي من سب عليا فقد سبني
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی
حدیث نمبر: 4665
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوفي، حدثنا يحيى ابن أبي بُكير، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي عبد الله الجَدَلي قال: دخلتُ على أم سلمة، فقالت لي: أيُسَبُّ رسول الله ﷺ فيكُم؟! فقلتُ: مَعاذَ اللهِ - أو سبحان الله، أو كلمة نحوها - فقالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من سَبَّ عليًا فقد سَبّني" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد رواه بُكَير بن عثمان البَجَلي عن أبي إسحاق بزيادةِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4615 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد رواه بُكَير بن عثمان البَجَلي عن أبي إسحاق بزيادةِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4615 - صحيح
سیدنا ابوعبداللہ الجدلی فرماتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں گالی گلوچ کیا کرتے تھے؟ میں نے کہا: معاذاللہ یا (شاید) سبحان اللہ یا اسی سے ملتا جلتا کوئی لفظ بولا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ جبکہ اسی حدیث کو بکیر بن عثمان البجلی نے ابواسحاق کے حوالے سے چند الفاظ کے اضافے کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4665]
حدیث نمبر: 4666
حدَّثناهُ أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا جَندَل بن والِق، حدثنا بُكير بن عثمان، قال: سمعت أبا إسحاق يقول: سمعت أبا عبد الله الجَدَلي يقول: حَجَجتُ وأنا غلامٌ فمررتُ بالمدينة، وإذا الناس عُنُقٌ واحد، فاتّبعتُهم فدخَلُوا على أم سلمة زوج النبي ﷺ، فسمعتُها تقول: يا شَبَث بنَ رِبْعيّ، فأجابها رجلٌ جِلْفٌ جافٍ: لبَّيكِ يا أُمّتاه، قالت: يُسَبُّ رسولُ الله ﷺ في ناديكم؟! قال: وأنّى ذلك؟! قالت: فعليُّ بن أبي طالب؟ قال: إنا لنَقولُ أشياءَ نريدُ عَرَضَ الدنيا، قالت: فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من سَبَّ عليًا فقد سَبَّني، ومن سَبَّني فقد سبَّ الله تعالى" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4616 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4616 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوعبداللہ البجلی فرماتے ہیں: میں کم سنی میں حج کرنے گیا۔ میں مدینہ منورہ سے گزرا۔ میں نے دیکھا کہ بہت سارے لوگ اکٹھے کہیں جا رہے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ یہ لوگ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے آواز دی: اے شبیب بن ربعی! تو ایک احمق اور بدمزاج آدمی نے جواباً کہا: لبیک اے اماں جان۔ آپ نے فرمایا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری مجلسوں میں گالی گلوچ کیا کرتے تھے؟ اس نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ (کو لوگ کیوں گالیاں دیتے ہیں؟) اس نے کہا: دنیاوی مفادات کی خاطر۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے علی کو گالی دی، اس نے مجھے گالی دی اور جس نے مجھے گالی دی اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4666]