صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
104. بَابُ دُخُولِ الرَّجُلِ عَلَى نِسَائِهِ فِي الْيَوْمِ:
باب: مرد کا اپنی بیوی کے پاس دن میں جانا بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5216
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" كَان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْعَصْرِ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ، فَيَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ".
ہم سے فروہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی ایک کے قریب بھی بیٹھتے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئے اور معمول سے زیادہ کافی دیر تک ٹھہرے رہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5216]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز عصر سے فارغ ہوتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی ایک کے قریب ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو پہلے جتنا وقت ٹھہرا کرتے تھے اس سے زیادہ وقت ان کے پاس ٹھہرے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5216]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة