🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

ٹخنوں سے نیچے تہبند وغیرہ لٹکانا حرام ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1656 ترقیم فقہی: -- 1947
-" إن الله لا ينظر إلى مسبل الإزار".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ازار کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والے کی طرف نہیں دیکھتا۔ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 1947]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1656

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1765 ترقیم فقہی: -- 1948
-" الإزار إلى نصف الساق. فلما رأى شدة ذلك على المسلمين، قال: إلى الكعبين لا خير فيما أسفل من ذلك".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ازار (کا نچلا کنارہ) نصف پنڈلی تک ہے۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ حکم مسلمانوں پر گراں گزر رہا ہے تو فرمایا: ٹخنوں تک سہی، لیکن ان سے نیچے کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 1948]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1765

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2037 ترقیم فقہی: -- 1949
-" كل شيء جاوز الكعبين من الإزار في النار".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ازار کا جو حصہ ٹخنوں سے تجاوز کرے گا، (جسم کا) وہ حصہ آگ میں ہو گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 1949]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2037

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2366 ترقیم فقہی: -- 1950
-" موضع الإزار إلى أنصاف الساقين والعضلة، فإذا أبيت فمن وراء الساقين، ولا حق للكعبين في الإزار".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ازار (کی آخر حد) پنڈلیوں اور پٹھوں کے نصف تک ہے، اگر تو (ایسا کرنے سے) انکار کر دے تو پنڈلی سے نیچے کر لے، لیکن ازار میں ٹخنوں کا کوئی حق نہیں ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 1950]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2366

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 4004 ترقیم فقہی: -- 1951
- (يا سفيان بن سهل! لاتُسبِل، فإنّ الله لا يحبُّ المسبِلين) .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سفیان بن سہل! (ازار ٹخنوں سے نیچے) نہ لٹکایا کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ ازار لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 1951]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 4004

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1441 ترقیم فقہی: -- 1952
-" ارفع إزارك واتق الله".
سیدنا شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ تہبند گھسیٹتے ہوئے جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف جلدی گئے یا اس کی طرف لپکے اور فرمایا: اپنا تہبند بلند کر لو اور اللہ تعالی سے ڈرو۔ اس نے کہا: میرے پاؤں اندر کی طرف مڑے ہوئے ہیں اور چلتے وقت میرے گھٹنے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا تہبند بلند کر لے، کیونکہ اللہ تعالی کی ہر مخلوق خوبصورت ہے۔ اس کے بعد اس آدمی کو نہیں دیکھا گیا، مگر اس حالت میں کہ اس کا تہبند پنڈلیوں کے نصف تک ہوتا تہا۔ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 1952]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1441

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2682 ترقیم فقہی: -- 1953
-" يا عمرو! إن الله عز وجل قد أحسن كل شيء خلقه. يا عمرو! - وضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربع أصابع من كفه اليمنى تحت ركبة عمرو فقال: - هذا موضع الإزار، ثم رفعها، [ثم ضرب بأربع أصابع تحت الأربع الأولى ثم قال: يا عمرو! هذا موضع الإزار] ، ثم رفعها، ثم وضعها تحت الثانية، فقال: يا عمرو! هذا موضع الإزار".
سیدنا عمرو بن فلاں انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ اس حال میں چل رہا تھا کہ اس نے اپنا ازار (ٹخنوں سے نیچے) لٹکا رکھا تھا، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جا ملے، اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی پکڑی ہوی تھی اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری پنڈلیاں پتلی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرو! یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے۔ اے عمرو!۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچے رکھیں اور فرمایا: یہ ازار کی جگہ ہے۔ پھر ان کو اٹھایا اور پہلے والی چار انگلیوں (کے فاصلے سے) سے نیچے پھر چار انگلیاں رکھیں اور فرمایا: یہ ازار کی جگہ ہے۔ پھر ان کو اٹھایا اور دوسری والی چار انگلیوں کے نیچے رکھا اور فرمایا: عمرو! یہ ازار کی جگہ ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 1953]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2682

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1568 ترقیم فقہی: -- 1954
-" إن كنت عبد الله فارفع إزارك".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے ازار پہنا ہوا تھا، وہ حرکت کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن عمر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو واقعی اللہ کا بندہ ہے تو اپنے ازار کو بلند کر لے۔ میں نے اپنا ازار نصف پنڈلیوں تک اٹھا لیا۔ پھر ان کے تہبند کی یہی کیفیت رہی، حتی کہ وہ فوت ہو گئے۔ [سلسله احاديث صحيحه/اللباس والزينة واللهو والصور/حدیث: 1954]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1568

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں