🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (رُؤْيَةُ اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ القِيَامَةِ)
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا دیدار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5555
5555 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ  إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا. قَالَ: فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ: أَيْ فُلْ: أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ: بَلَى. قَالَ: فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ لَا. فَيَقُولُ: فَإِنِّي قَدْ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي. ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! آمَنْتُ بِكَ، وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ، وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ، وَتَصَدَّقْتُ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ، يَقُولُ: هَاهُنَا إِذًا، ثُمَّ يُقَالُ: الْآنَ نَبْعَثُ شَاهِدًا عَلَيْكَ، وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ: انْطِقِي ; فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ، وَذَلِكَ الَّذِي سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ (يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ) فِي (بَابِ التَّوَكُّلِ) بِرِوَايَةِ عَبَّاسٍ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! کیا ہم روزِ قیامت اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دوپہر کے وقت، جبکہ مطلع ابر آلود نہ ہو، سورج دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودھویں رات، جبکہ مطلع ابر آلود نہ ہو، چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اپنے رب کے دیدار میں بس اتنی ہی تکلیف محسوس کرو گے جس طرح تم ان دونوں (سورج اور چاند) میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہو۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بندے سے ملاقات کرے گا تو فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت نہیں بخشی تھی؟ کیا میں نے تمہیں سردار نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی؟ کیا میں نے گھوڑے اور اونٹ تیرے لیے مسخر نہیں کیے تھے؟ کیا میں نے تجھے (تیری قوم پر) سردار نہیں بنایا تھا اور تو ان سے چوتھا حصہ وصول کرتا تھا؟ وہ عرض کرے گا: کیوں نہیں۔“ فرمایا: ”پھر رب تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو جانتا تھا کہ تو مجھ سے ملاقات کرنے والا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، پھر رب تعالیٰ فرمائے گا: میں نے (آج) تجھے بھلا دیا جس طرح تم نے مجھے (دنیا میں) بھلا رکھا تھا، پھر رب تعالیٰ دوسرے سے ملاقات کرے گا اور اسی (پہلے) کی مثل ذکر فرمائے گا، پھر وہ تیسرے سے ملاقات کرے گا تو وہ اس سے بھی اسی کی مثل کہے گا، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں آپ پر، آپ کی کتاب پر اور آپ کے رسولوں پر ایمان لایا، میں نے نماز پڑھی، روزہ رکھا، صدقہ کیا، اور وہ جس قدر ہو سکے گا اپنی تعریف کرے گا، رب تعالیٰ فرمائے گا: یہیں ٹھہرو، پھر کہا جائے گا: ہم ابھی تجھ پر گواہ پیش کرتے ہیں، وہ اپنے دل میں غور و فکر کرے گا کہ وہ کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا: بولو، چنانچہ اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے مطابق کلام کریں گی، اور یہ اس لیے ہو گا تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے نفس کی طرف سے اس کا عذر زائل کر دے، اور یہ منافق شخص ہو گا اور یہ وہ ہو گا جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہو گا۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث «يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ» ”میری امت میں سے (ایک جماعت) جنت میں داخل ہو گی“ جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے، باب التوکل میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5555]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (16/ 2968)
حديث ’’يدخل من أمتي الجنة‘‘ تقدم (5295)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں