🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

سلام عام کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3962 ترقیم فقہی: -- 2616
- (إذا اصطحبَ رجلانِ مُسلمانِ، فحالَ بينهما شجَرٌ أو حجرُ أو مَدَرٌ؛ فليسلّم أحدُهما على الآخرِ، ويتبادلانِ السّلامَ) .
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آدمی اکٹھے جا رہے ہوں اور (‏‏‏‏چلتے چلتے) ان کے درمیان کوئی درخت یا کوئی پتھر یا کوئی مکان (‏‏‏‏یا ٹیلہ) حائل ہو جائے، تو وہ (‏‏‏‏جونہی دوبارہ ملیں) ایک دوسرے کو سلام دیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2616]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3962

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 186 ترقیم فقہی: -- 2617
-" إذا لقي أحدكم أخاه فليسلم عليه، فإن حالت بينهما شجرة أو جدار أو حجر ثم لقيه فليسلم عليه أيضا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو ملے تو اسے سلام کہے، اگر ان کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور دوبارہ ملے تو پھر وہ اسے سلام کہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2617]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 186

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 571 ترقیم فقہی: -- 2618
-" اعبدوا الرحمن وأطعموا الطعام وأفشوا السلام تدخلوا الجنة بسلام".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرتے رہو، کھانا کھلاتے رہو اور سلام عام کر دو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2618]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 571

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 601 ترقیم فقہی: -- 2619
-" أعجز الناس من عجز عن الدعاء، وأبخل الناس من بخل بالسلام".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ بےبس وہ ہے جو دعا کرنے سے عاجز آ جائے اور سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2619]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 601

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1493 ترقیم فقہی: -- 2620
-" أفشوا السلام تسلموا".
سیدنا برا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام عام کرو، سلامتی سے رہو گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2620]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1493

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1501 ترقیم فقہی: -- 2621
-" أفشوا السلام وأطعموا الطعام وكونوا إخوانا كما أمركم الله".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏سلام عام کرو، کھانا کھلایا کرو اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بھائی بھائی بن جاؤ۔ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2621]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1501

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 569 ترقیم فقہی: -- 2622
-" يا أيها الناس! أفشوا السلام وأطعموا الطعام وصلوا الأرحام وصلوا بالليل والناس نيام تدخلو الجنة بسلام".
زرارہ بن اوفی کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف امڈ آئے اور کہا جانے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ہیں۔ میں بھی آپ کو دیکھنے کے لیے آیا۔ جب میں نے آپ کا چہرہ بغور دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہے۔ پہلی حدیث، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی اور میں نے سنی، یہ تھی: اے لوگو! سلام عام کرو، لوگوں کو کھانا کھلاؤ رحموں کو ملاؤ (‏‏‏‏یعنی رشتہ داریوں کے حقوق ادا کرو) اور اس وقت اٹھ کر (‏‏‏‏تہجد کی) نماز پڑھو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں، تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2622]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 569

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 184 ترقیم فقہی: -- 2623
-" إن السلام اسم من أسماء الله تعالى وضعه في الأرض، فأفشوا السلام بينكم".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اسمائے (‏‏‏‏حسنیٰ) میں ایک نام «سلام» ہے، جسے اللہ نے زمین میں نازل کیا، پس تم آپس میں سلام کو عام کرو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2623]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 184

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1607 ترقیم فقہی: -- 2624
-" إن السلام اسم من أسماء الله وضعه الله في الأرض، فأفشوه فيكم، فإن الرجل إذا سلم على قوم فردوا عليه كان له عليهم فضل درجة لأنه ذكرهم، فإن لم يردوا
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جسے اس نے زمین میں نازل کیا، اس کو آپس میں پھیلاؤ۔ جب آدمی لوگوں پر سلام کرتا ہے اور وہ اسے جواب دیتے ہیں، تو سلام کرنے والے کو ان پر فضیلت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ وہ ان کو یاد کراتا ہے اور اگر وہ جواب نہ دیں تو اسے ایسے (‏‏‏‏بندگان خدا) جواب دیتے ہیں جو ان سے بہتر اور پاکیزہ ہوتے ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2624]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1607

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1035 ترقیم فقہی: -- 2625
-" إن من موجبات المغفرة بذل السلام وحسن الكلام".
سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر «‏‏‏‏» دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام عام کرنا اور اچھا کلام کرنا ایسے اعمال ہیں جو بخشش کو واجب کر دیتے ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2625]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1035

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں